گو کہ ارشاد بھٹی نے اپنی عزت آبرو کسی ”بھٹی“ میں ڈالنے کے بعد اداکاہ میرا سے معذرت کر لی مگر اپنے پاو¿ں پر جو کلہاڑی اُنہوں نے ماری ہے اُس کا زخم مشکل سے ٹھیک ہو گا، کئی بار عرض کر چکا ہوں معاشرہ بداخلاقی کے جس بدترین مقام پر ہے اب عزت یہاں کسی کی ترجیح ہی نہیں رہی، سب دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں، شہرت چاہے کسی کے کپڑے اُتار کے ملے، حتیٰ کہ اپنے کپڑے اُتار کے ملے پھر بھی دل و جان سے قابل قبول ہے، اپنی بدنامیوں پر فخر کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، اب اس میں ایک تازہ اضافہ ارشاد بھٹی کا ہوا ہے، وہ اچھے بھلے تجزیہ نگار ہوا کرتے تھے، اُن کا رجحان عمران خان کے حق میں تھا، ممکن ہے کسی قوت نے معاملات کو بیلنس رکھنے کے لیے اس رجحان کے لیے خود ہی اُنہیں پال رکھا ہو، البتہ تجزیہ نگاری میں اُن کی فنکاری یہ تھی اُن کے کچھ جھوٹ بھی لوگوں کو سچ لگتے تھے، بدقسمتی سے پاکستان میں اب بدالفاظی اور تلخی کو بڑا پسند کیا جاتا ہے، اس کے مقابلے میں تحمل اور نرمی کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی، بھونکنے اور بولنے کے درمیان کوئی تمیز ہی کسی کو نہیں ہے، نہ یہ فرق اب ہم محسوس کرتے ہیں، میں نے ایک واقعہ لکھا تھا، پچھلے سال میں جرمنی میں ایک گورے کا مہمان تھا، اُس نے اپنے گھر میں بہت خوبصورت کُتے پال رکھے تھے، کُتے اور میں ایک دوسرے سے بڑے مانوس ہو گئے، بلکہ کسی حد تک ایک دوسرے کی زبان بھی سمجھنے لگے، میں جب پاکستان واپس آنے لگا ایک کُتے نے مجھ سے کہا ”مجھے بھی ساتھ لے جاو¿“، میں نے اُس سے کہا ”تمہارا مالک اتنا اچھا ہے، تمہارا خیال رکھتا ہے، تمہیں چومتا چاٹتا ہے، یہاں تمہارے لیے بہترین ہسپتال ہیں، بہترین کھانے ہیں، یہاں کا ماحول اور موسم انتہائی شاندار ہے، تم یہ سب چھوڑ کر میرے ساتھ کیوں جانا چاہتے ہو؟“۔ وہ بولا ”یہ درست ہے یہ ساری سہولتیں ہمیں یہاں میسر ہیں مگر بھونکنے کی جو آزادی پاکستان میں ہے وہ دُنیا میں اور کہیں نہیں ہے“۔ میں جب ارشاد بھٹی کو اداکارہ میرا سے سوالات بلکہ تفتیش کرتے دیکھ رہا تھا یہ کُتے والا واقعہ بے ساختہ مجھے یاد آ گیا، اچھے اور جینوئن تجزیہ نگاروں کا اس قدر قحط ہے جو چولیں ارشاد بھٹی نے ماریں کچھ عرصے بعد ہم وہ سب بھول کر بطور ایک تجزیہ نگار پھر صدق دل سے اُنہیں قبول کرنے پر تیار ہو جائیں گے، حالانکہ اپنی حالیہ کچھ حرکتوں سے اُنہوں نے ثابت کر دیا ہے وہ زیادہ سے زیادہ ایک ”ٹرینی فلم رپورٹر“ ہیں، ٹرینی فلم رپورٹر بھی اپنی ذمہ داریوں کا شاید کچھ لحاظ رکھتا ہو گا، بھٹی صاحب تو کپڑوں سے بالکل ہی باہر آ گئے، جیسے بلی تھیلے سے باہر آتی ہے، جس انداز کے وہ سوالات یا تفتیش اداکارہ میرا سے کر رہے تھے یوں محسوس ہو رہا تھا ماضی میں اداکارہ میرا نے جو کارنامے کیے بھٹی صاحب کو اُن کی شاید کمیشن نہیں ملی جس کا اُنہیں غصہ ہے، اینکر پرسن سے زیادہ وہ ایسے ”تھانیدار“ لگ رہے تھے جو تفتیش میں دونوں پارٹیوں سے پیسے پکڑ لیتا ہے۔ ارشاد بھٹی نے اپنے بیشمار تجزیوں میں لوگوں کو دوسروں کے چھابے پر چھاپہ مارنے سے منع کیا ہے، اللہ جانے اُنہیں کیا ہو گیا ہے اپنی تجزیہ نگاری کا چھابہ چھوڑ کے اب ایکٹرسوں کے چھابے پر وہ چھاپہ مارنے لگے ہیں، پچھلے دنوں عید شو میں کامران شاہد نے اُن کی مرحومہ بیگم کے حوالے سے اُن سے کچھ پوچھا، مجیب الرحمان شامی نے بیچ میں بے ضرر سا کوئی جُملہ بول دیا، اس پر وہ اتنے آگ بگولہ ہوئے شامی صاحب کے ساتھ باقاعدہ بدتمیزی شروع کر دی، شامی صاحب صحافت میں اُستادی کے جس مقام پر ہیں وہ اُٹھ کے دو تھپڑ بھی موصوف کو لگا دیتے کسی نے اس کا بُرا نہیں منانا تھا، مگر اُنہوں نے اپنے روایتی بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے معذرت کر لی، میرا جی کی خوش قسمتی دیکھئے لوگ اُن کا سارا ماضی بُھلا کے ارشاد بھٹی کے مقابلے میں اُنہیں انتہائی مہذب قرار دینے لگے ہیں، اداکارہ میرا اور شان اگر ”سائیکو ٹُو“ بنائیں اُس کا ہیرو ارشاد بھٹی کو رکھیں، میرا کا ایک انٹرویو ریحان طارق نے بھی کیا، صحافت میں اُس کا قد کاٹھ ارشاد بھٹی سے کم ہے، اُس نے بھی ایسی چولیں نہیں ماریں جیسی ارشاد بھٹی نے ماریں، ممکن ہے اُنہوں نے سوچا ہو ایسی چولیں اُنہوں نے نہ ماریں اُن کا پوڈ کاسٹ ہٹ نہیں ہو گا، اُس کی ریٹنگ نہیں آئے گی، ریٹنگ اُنہیں مل گئی ہے مگر جو عزت تھوڑی بہت اُن کے پاس تھی اُس سے وہ محروم ہو گئے ہیں، ہماری خواہش ہے جس ادارے کے لیے وہ کام کرتے ہیں کسی روز اُس کے سربراہ کو بھی اپنے سامنے بٹھا کر اُن سے بھی ویسے سوال کریں جیسے اداکارہ میرا سے وہ فر فر کر رہے تھے اور اگر یہ جُرا¿ت وہ نہیں کر سکتے پھر دوسروں کو بھی معاف کر دیا کریں۔ اداکارہ میرا نے پوڈ کاسٹ میں ارشاد بھٹی کی ”تفتیش“ کا اُن کی پسند کے مطابق کوئی جواب نہ دے کر جس مہذب پن کا مظاہرہ کیا یہ فن کی میرا کا صحافت کے عمران ہاشمی کے منہ پر زور دار تھپڑ تھا، اب میرا جتنی چاہے غلط انگریزی بولے یا دیگر غلط کام کرے ارشاد بھٹی کے مقابلے میں لوگ اُس کی عزت کریں گے۔ اس کے لیے میرا جی کو ”پنڈی بھٹی جی“ کا شکرگزار ہونا چاہیے مگر اس کا مطلب یہ نہیں وہ پنڈی بھٹی جی کی ہر بات مان لے، پہلے ہم کہتے تھے اداکارہ میرا کی انگریزی سمجھنے کے لیے ضروری ہے بندے کو اُردو آتی ہو، اب ہمیں کہنا چاہیے ”ایکٹرسوں کے ساتھ پوڈ کاسٹ کرنے کے لیے ضروری ہے بندے کو شرم آتی ہو“، افسوس ہماری صحافت مجھ جیسے کچھ لُچوں کے ہاتھ میں آ گئی ہے، ورنہ معیار یہ ہوا کرتا تھا ہمارے ایک بہت ہی سینئر صحافی مرحوم ریاض بٹالوی حصول ملازمت کے لیے روزنامہ مشرق کے بانی و مالک عنایت اللہ مشرقی کے پاس گئے، اُنہوں نے فرمایا ”کوئی مضمون لکھ کر لائیے تاکہ ہمیں آپ کی قابلیت کا اندازہ ہو سکے“، بٹالوی صاحب مضمون لکھ کر لے گئے جس میں ایک لفظ ”طوائف“ تھا، مشرقی صاحب نے فرمایا ”ہم آپ کو نہیں رکھ سکتے کیونکہ آپ نے اس مضمون میں ایک انتہائی نامناسب لفظ لکھا ہے“، افسوس آج ہماری صحافت ترقی کے لیے اس سے کہیں زیادہ نامناسب اور گھٹیا لفظوں کی محتاج ہے۔
اداکارہ میرا اور صحافت کے عمران ہاشمی
09:09 AM, 23 Apr, 2026