آئی ایم ایف سے قرض کی چوتھی قسط (1 ارب ڈالر) مئی کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔پاکستان اب تک 7 ارب ڈالر کے اس پروگرام میں سے 3 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آو¿ٹ پیکج کو مزید سخت کرتے ہوئے اس میں تقریباً ایک درجن نئی شرائط کا اضافہ کر دیا ہے، ان میں قومی اسمبلی سے بجٹ کی منظوری اور خصوصی اقتصادی و ٹیکنالوجی زونز کے قوانین میں ترامیم شامل ہیں۔ ان شرائط کے بعد گزشتہ دو سالوں میں آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ کل شرائط کی تعداد 75 تک پہنچ گئی ہے، جو ملکی معیشت، طرزِ حکمرانی اور نجی شعبے کی ترقی کے تمام پہلوو¿ں پر براہِ راست اثر انداز ہوں گی۔بظاہرپارلیمنٹ اور بجٹ پر آئی ایم ایف کی گرفت دکھائی دیتی ہے۔حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ مکمل طور پر فنڈ کے عملے کے ساتھ طے شدہ اہداف کے مطابق تیار اور قومی اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہوگا کہ پاکستان کا بجٹ خود مختارانہ فیصلے کے بجائے عالمی ادارے کی ہدایات کی روشنی میں منظور ہوگا۔اطلاعات ہیں کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں آئی ایم ایف حکام کو یقین دلایاہے کہ پاکستان اگلے مالی سال میں زیادہ معاشی ترقی کا ہدف مقرر نہیں کرے گا، بلکہ توجہ صرف ’مالی استحکام‘ پر مرکوز رہے گی۔اس کے علاوہ، حکومت نے ’خصوصی اقتصادی زونز‘ اور ’ٹیکنالوجی زونز‘ کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں کرنے کی حامی بھر لی ہے۔ یعنی جون 2027 تک اسپیشل اکنامک زون ایکٹ اوراسپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ منافع پر مبنی مراعات ختم کر کے لاگت پر مبنی مراعات دی جائیں۔2035 تک تمام موجودہ مالیاتی مراعات ختم کر دی جائیں گی۔ایک نئی شرط کے مطابق ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کو مقامی مارکیٹ میں اشیاءفروخت کرنے سے روک دیا جائے گا۔ تاکہ موجودہ مالی مراعات کو ختم کر کے انہیں عالمی معیار کے مطابق ’لاگت کی بنیاد‘ پر منتقل کیا جا سکے۔ مقصد یہ ہے کہ 2035 تک ان زونز کو دی جانے والی تمام ٹیکس چھوٹ مکمل طور پر ختم کر دی جائے۔آئی ایم ایف نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کو یقینی بنانے کے لیے تین نئی شرائط رکھی ہیں۔ اب حکومت سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے نرخوں میں اضافے (کیو ٹی اےز اور ایف سی ایز) کے نوٹیفیکیشن بروقت جاری کرنے کی پابند ہوگی۔ جنوری 2027 میں بجلی کی قیمتوں کا سالانہ تعین عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوگا، جبکہ گیس کی قیمتوں میں سال میں دو بار (جولائی اور فروری) اضافہ کیا جائے گا۔ ایف بی آر میں بھی ایک تبدیلی متوقع ہے کہ جون 2024 تک ٹیکس آڈٹ کے لیے کیسز کا انتخاب مرکزی نظام کے تحت ہوگا اور ایک نیا ’آڈٹ مینوئل‘ اپنایا جائے گا تاکہ سیاسی یا ذاتی مداخلت ختم ہو۔ ستمبر 2024 تک سرکاری اداروں کو بغیر مقابلے کے ٹھیکے دینے کی سہولت ختم کر دی جائے گی تاکہ نجی شعبے کو برابر کے مواقع مل سکیں۔بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسوں کے بوجھ کو دیکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے ’بینظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ کے تحت ملنے والی رقم میں اضافے کی منظوری دی ہے۔ جنوری 2027 سے مستحقین کا وظیفہ 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کر دیا جائے گا، تاکہ غریب طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے کسی حد تک بچایا جا سکے۔حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ 2035 تک موجودہ زونز ختم کرنے کے بعد ہی نئے زونز قائم کیے جائیں گے۔قانون کے مطابق اگر زون کا رقبہ 1,000 ایکڑ سے زیادہ ہو تو ایک سے زائد ڈویلپرز کو کم از کم 500 ایکڑ دیے جا سکتے ہیں۔عدالتوں کو ان زونز سے متعلق تجارتی تنازعات سننے سے روک دیا گیا ہے۔جون 2027 تک پاکستان ریگولیٹری رجسٹری قائم کی جائے گی، جو کاروباری قوانین کا جامع اور قانونی ماخذ ہوگی۔ اسٹیٹ بینک زرِ مبادلہ پر پابندیاں بتدریج ختم کرنے کا روڈ میپ تیار کرے گا۔بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ کی نئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ سہ ماہی بجلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور ماہانہ فیول چارج ایڈجسٹمنٹ بروقت نوٹیفائی کرے گی۔ گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ جولائی 2026 اور فروری 2027 کو لاگو ہوں گے۔ایف بی آر اصلاحات کے ضمن میں یہ کہا گیا ہے کہ جون 2026 تک ایف بی آر آڈٹ کیسز کے انتخاب کو مرکزی سطح پر لائے گا۔ستمبر 2026 تک قواعد میں ترمیم کر کے سرکاری اداروں کو ٹھیکوں میں ترجیح دینے کا اختیار ختم کر دیا جائے گا۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پانچ سالہ نئی آٹو سیکٹر پالیسی متعارف کروانے پر اتفاق کر لیا ہے جس کیلئے آٹو سیکٹر کی جانب سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جارہا تھا اور حال ہی میں انڈس موٹرز کمپنی کے سی ای او علی اصغر جمالی نے بھی جرنلسٹ کے ساتھ ایک کانفرنس میں کہا کہ نئی ا±ٓٹو پالیسی کا نفاذ کیا جائے جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ آٹو سیکٹر پالیسی ایڈوانس اسٹیج پر ہے ، اسے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے عوامی سطح پر جاری کیا جائے گا۔علی اصغر جمالی نے مقامی آٹو صنعت کے استحکام کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزارتِ صنعت و پیداوار کے وفاقی سیکرٹری سیف انجم اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حماد علی منصور کی کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔علی اصغر جمالی نے کہا کہ حکومت کی مخلصانہ کوششیں پاکستان کی آٹو صنعت کو پائیدار اقتصادی ترقی کا محرک بنانے اور اسے او ای ایمز کے لیے ایک پرکشش سرمایہ کاری کی منزل کے طور پر پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ المختصر یہ کہ آئی ایم ایف کی شرائط اب معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہیں، جن میں بجٹ سازی، توانائی کی قیمتیں، ٹیکس اصلاحات، کاروباری قوانین اور سماجی تحفظ شامل ہیں۔ حکومت نے ان شرائط کو قبول کر کے مالیاتی استحکام کو ترجیح دی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں ترقی کی رفتار محدود رہ سکتی ہے۔
1ارب ڈالرقرض کی نئی قسط کے ساتھIMFکی11نئی شراط
09:04 AM, 23 Apr, 2026