کابل / نیویارک: اقوام متحدہ کے ایوانوں میں افغانستان کی آواز ایک بار پھر دب گئی ہے۔ افغان میڈیا 'طلوع نیوز' کی تازہ رپورٹ کے مطابق، مالی واجبات کی عدم ادائیگی اور عالمی برادری کے ساتھ سنگین نوعیت کے اختلافات کے باعث افغانستان کو مسلسل چوتھے سال بھی جنرل اسمبلی میں ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان کے ذمہ اقوام متحدہ کے سالانہ واجبات کئی برسوں سے بقایا ہیں۔ واجبات کی ادائیگی نہ ہونے کی پاداش میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت افغانستان کی ووٹنگ کی اہلیت معطل ہے۔ معاشی پابندیوں اور بینکنگ چینلز کی بندش نے کابل کے لیے ان واجبات کی ادائیگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں مستقل نشست اور نمائندگی کا فیصلہ نہ ہونے کی بڑی وجہ عالمی برادری اور افغان انتظامیہ کے درمیان پائے جانے والے گہرے تضادات ہیں۔ خواتین کی تعلیم اور کام کرنے کی آزادی پر عالمی برادری اپنے مطالبے پر ڈٹی ہوئی ہے۔
طلوع نیوز کے مطابق، ان پیچیدہ معاملات پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث اقوام متحدہ کی کریڈینشل کمیٹی نے افغانستان کی مستقل نشست کا فیصلہ تاحال مؤخر کر رکھا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال افغانستان کو عالمی سطح پر سیاسی اور اقتصادی طور پر مزید تنہا کر سکتی ہے۔
افغانستان کا سفارتی بحران: اقوام متحدہ میں مسلسل چوتھے برس 'حقِ رائے دہی' معطل، مستقل نشست پر بھی ڈیڈ لاک برقرار
10:47 AM, 22 Apr, 2026