سرینگر : مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے واقعے کے بعد بھارتی میڈیا کے پاکستان مخالف بیانیے نے خود بھارتی انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ جغرافیائی حقائق اور وقت کے تضاد نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ پروپیگنڈا کسی ٹھوس ثبوت کے بجائے پہلے سے تیار شدہ سکرپٹ کا حصہ ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ اور پولیس ریکارڈ میں موجود واضح تضادات درج ذیل ہیں۔ پہلگام پولیس اسٹیشن سے جائے وقوعہ کا فاصلہ 5 کلومیٹر ہے، جو کہ ایک مشکل اور دشوار گزار پہاڑی راستہ ہے۔اس راستے کو طے کرنے میں کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ درکار ہوتا ہے، لیکن بھارتی پولیس نے محض 10 منٹ میں ایف آئی آر درج کر کے پاکستان کو نامزد بھی کر دیا۔ پاکستان دشمنی کا جنون: بھارتی چینلز نے بغیر کسی سرکاری تصدیق کے حملے کو 'منظم دہشت گردی' قرار دے کر پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانیہ شروع کیا۔
رپورٹنگ کے دوران جان بوجھ کر مسلمان مخالف جذبات کو ابھارا گیا تاکہ عوامی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں۔ حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے مناظر پیش کیے گئے جیسے دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر کھڑے ہوں۔
دفاعی مبصرین کے مطابق جب کوئی ملک اتنی عجلت میں کسی دوسرے ملک پر الزام تراشی کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنی انٹیلیجنس ناکامی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ پہلگام واقعے میں جغرافیائی حقائق کو نظر انداز کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی میڈیا اور ریاست مل کر عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پہلگام واقعہ: 5 کلومیٹر کا فاصلہ اور 10 منٹ میں ایف آئی آر؛ بھارتی میڈیا کا 'انٹیلیجنس فیلیئر' چھپانے کا سکرپٹڈ ڈرامہ
11:55 AM, 22 Apr, 2026