واشنگٹن/اسلام آباد : پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے نتیجے میں خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل عارضی طور پر چھٹ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی درخواست کو تسلیم کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو فی الحال روکنے اور جنگ بندی کی مدت میں اضافے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ سوشل میڈیا پیغام میں انکشاف کیا کہ انہوں نے پاکستانی قیادت کی درخواست پر حملہ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایران کو ایک متفقہ اور قابلِ قبول تجویزی مسودہ پیش کرنے کا موقع مل سکے۔یہ توسیع اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ جاتے۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک نیا پینترا بدلتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر سیل کر رکھا ہے، جس سے ایران کو یومیہ 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران صرف اپنی ساکھ بچانے کے لیے بندش کی باتیں کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں وہ معاشی دباؤ کی وجہ سے اسے فوری کھولنا چاہتا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ایک بڑی ڈیل ہونے کی امید ظاہر کی ہے ۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ جلد بازی میں کوئی برا معاہدہ نہیں کریں گے اور مذاکرات کے آغاز کے لیے ایرانی جیلوں سے خواتین کی رہائی کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔
پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کی اس کامیاب سفارتی پیش رفت کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، جس نے دنیا کو ایک بڑی جنگ کے دہانے سے فی الحال پیچھے ہٹا دیا ہے۔
پاکستانی قیادت کی ثالثی رنگ لے آئی؛ صدر ٹرمپ کا ایران پر حملہ مؤخر کرنے اور جنگ بندی میں توسیع کا اعلان
09:10 AM, 22 Apr, 2026