میں نے اپنے گزشتہ کالم میں سر گنگا رام ہسپتال کے وزٹ کی تفصیل عرض کی تھی ، بیشمار شعبوں کو یہاں فعال دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی ، پہلی بار یہ احساس ہوا لوگوں کی صحت کے معاملات کو حکومت سنجیدگی سے لینے لگی ہے ، کالم کے آخر میں بچوں کی نرسری کا میں نے ذکر کیا تھا جہاں محنتی اور قابل ڈاکٹرز کی ٹیم پری میچیور پیدا ہونے والے بچوں کا علاج اتنی توجہ سے کر رہے ہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ ان کے اپنے بچے ہیں ، میں نے جب ان بچوں کی پریشان حال ماؤں سے بات کی اْنہوں نے بتایا زندگی موت تو ظاہر ہے اللہ کے اختیار میں ہے مگرہم مطمئن ہیں کہ ہمارے بچوں کو بچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جا رہی ، بچوں کی نرسری سے باہر نکل کر میں نے دیکھا ڈینگی پولیو اور اس طرح کی دیگر بیماریوں کی گائیڈنس اور علاج کے لیے جگہ جگہ کاؤنٹر بنے ہوئے تھے ، ہسپتال کا بلڈ بینک بھی میں نے دیکھا ، وہاں موجود عملے نے مجھے بتایا بہت کم ایسے ہوتا ہے کسی مریض یا اْس کے کسی عزیز سے یہ کہا جائے وہ خون کا بندوبست خود کرے ، مریضوں کے لیے بوقت ضرورت خون کا انتظام بلڈ بینک سے ہی کیا جاتا ہے ، خون کی سکریننگ کا ایک تسلی بخش نظام موجود ہے جس کی براہ راست نگرانی ایم ایس خود کرتے ہیں ، کچھ مریضوں نے یہ بھی مجھے بتایا ’’ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عارف افتخار اپنے دفتر میں کم ہی ملتے ہیں ، وہ ہسپتال کے کسی نہ کسی شعبے کسی وارڈ یا گزرگاہوں میں مل جاتے ہیں اور وہیں کھڑے کھڑے لوگوں کے مسئلے حل کر دیتے ہیں ، وہ تقریباً سارا دن ہسپتال میں پھرتے رہتے ہیں اور چیک کرتے ہیں کہیں کوئی مریض کسی وجہ سے پریشان تو نہیں ہے، میرے ساتھ بھی وہ جب ہسپتال کا وزٹ کر رہے تھے ایک صاحب نے اْنہیں روکا اور اْن سے کہا’’ میں بہت پریشان ہوں میری والدہ یہاں داخل ہیں، اْن کی رپورٹس سے پتہ چلا ہے اْنہیں جگر کا کینسر ہے ، اْن کے پھیپھڑوں اور پیٹ میں پانی ہے ، ڈاکٹرز نے انجکشن لکھ کر دئیے ہیں ، یہ تین انجکشن لگنے ہیں جو ہسپتال میں دستیاب نہیں ، یہ بہت مہنگے انجکشن ہیں ، میری اتنی استطاعت نہیں میں یہ خرید سکوں‘‘ ، ایم ایس اْسے ساتھ لے کر اپنے دفتر میں آگئے اور جب تک اْس کے لئے انجکشن کا بندوبست نہیں کر دیا کوئی اور کام نہیں کیا ، پنجاب یا پاکستان کے سارے ہسپتالوں میں اگر ایسے ہی انسان دوست ، ہردلعزیز قابل اور محنتی ڈاکٹرز کو بطور ایم ایس تعینات کر دیا جائے مجھے یقین ہے سرکاری سہولتوں کی شدید کمی کے باوجود ہسپتالوں کا نظام کچھ نہ کچھ درست ضرور ہو جائے گا ، بندے نیک نیت ہوں وہ کم سرکاری سہولتوں کو اپنی کمزوری بنائے یا بتائے بغیر کچھ نہ کچھ بہتری اپنے اداروں میں لے ہی آتے ہیں ، بندے بدنیت اور بددیانت ہوں وہاں سرکاری سہولیات کے آپ انبار لگا دیں کوئی بہتری نہیں آتی بلکہ خرابی مزید بڑھ جاتی ہے، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کی اچھی شہرت ہے ، وہ معاملات کو درست انداز میں چلانے کا فن جانتے ہیں ، اْن کی پی آر بھی بہت ہے ، ابھی حال ہی میں حکومت پنجاب نے ڈاکٹر طیبہ وسیم کو پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج مقرر کیا ہے ، وہ پاکستان کی معروف گائیناکالوجسٹ ہیں ، بہت نفیس بہت گریس فْل خاتون ہیں ، مجھے یقین ہے حکومت پنجاب کا یہ انتخاب ’’حْسن انتخاب‘‘ ثابت ہوگا اور علامہ اقبال میڈیکل کالج سے ملحقہ جناح ہسپتال میں جلد کچھ بہتریاں محسوس کی جائیں گی ، اور وزیراعلیٰ مریم نواز نے اگر دوبارہ اس ہسپتال کا دورہ کیا اْنہیں کسی کو معطل نہیں کرنا پڑے گا بلکہ شاباش دے کر واپس جانا پڑے گا ، ہم صرف تھانوں میں ہی سیاسی مداخلت بند کرنے کی بات کرتے ہیں ، یہ سیاسی مداخلت حکومت نے کئی بار بند کر کے دیکھا تھانوں کے معاملات مزید بگڑتے گئے ، کیونکہ اصل مداخلت جہاں سے ہوتی ہے وہ بند کرنے کا رسک کوئی وزیراعظم لے سکتا ہے نہ وزیراعلیٰ لے سکتی ہے ، ایسی’’نامعلوم مداخلتیں‘‘ دیگر محکموں میں بھی ہوتی ہیں ، ان چور دروازوں بلکہ’’ڈاکو دروازوں‘‘ کو مکمل طور پر بند کرنے کا رسک جس روز کسی نے لے لیا انتظامی امور خود بخود سْدھرنا شروع ہو جائیں گے ، صرف افسروں کا نہیں وزراء کا انتخاب بھی میرٹ پر ہونا چاہئے جبکہ پاکستان کے بارے میں دْنیا میں عمومی تاثر یہ ہے یہاں انتہائی بیمار شخص کو وزیر صحت بنا دیا جاتا ہے ، انتہائی کرپٹ کو اینٹی کرپشن کا وزیر بنا دیا جاتا ہے ، چٹے ان پڑھ جاہل کو وزیر تعلیم بنا دیا جاتا ہے اور جرائم پیشہ کو وزیر قانوں بنا دیا جاتا ہے ، اور جس میں یہ تمام کمزوریاں یا خرابیاں ہوں اْسے صدر یا وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے ، اور بنانے والوں کا کردار اْن سے زیادہ غلیظ اور گھناؤنا ہوتاہے ، بہت سال پہلے سندھ میں ایک ایم پی اے کو وزیر صحت بنایا گیا ، وزیر بنتے ہی ایک ہسپتال میں اْنہوں نے چھاپہ مارا ، ایک وارڈ میں اْنہوں نے دیکھا دو مریضوں کو آکسیجن لگی ہوئی ہے جبکہ ساتھ والے دو مریضوں کو نہیں لگی ہوئی تھی ، اْنہوں نے بڑے غصے سے ایم ایس سے کہا’’آپ تمام مریضوں سے یکساں سلوک کیوں نہیں کرتے ؟ آپ نے باقی دو مریضوں کو ’’سی این جی‘‘ کیوں نہیں لگائی ہوئی؟ اس پر ہسپتال کے ایم ایس نے اْن دو مریضوں کو لگی ہوئی ڈرپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’سر اصل میں یہ دونوں پیٹرول پر چل رہے ہیں‘‘ ، شکر ہے ہمارے پنجاب کے دونوں وزرائے صحت خواجہ عمران نذیر اور خواجہ سلمان رفیق ایسے جاہل نہیں ورنہ پنجاب کے ہسپتالوں میں داخل سارے مریض پیٹرول اور سی این جی پر چل رہے ہوتے ، بْزدار کے بارے میں کسی نے بتایا وہ سی ایم بنتے ہی لاھور کے ارفع کریم ٹاور کے وزٹ پر چلے گیا، ’’سرور روم‘‘ میں اے سی چل رہے تھے ، ایک افسر سے پوچھنے لگا ’’اے سی کیوں چل رہے ہیں ؟‘‘ ، وہ بولے’’سر سرور روم کے لئے اے سی ضروری ہوتے ہیں‘‘ ، بْزدار نے حیرانی سے اْن کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ’’آپ چودھری سرور کی بات کر رہے ہیں ؟‘‘
نامعلوم مداخلتیں ، وزرائے صحت اور گنگا رام ہسپتال
09:50 AM, 22 Apr, 2025