وقت بہت ظالم ہے۔ اس کی عدالت میں ظالم کو معافی نہیں ہے اور نہ بچ نکلنے کی کوئی صورت ہے اور مظلوم کو بغیر گواہ کے اور بغیر وکیل کے انصاف پل بھر میں مل جاتا ہے۔ دوسری بات زندگی ایک عارضی شے ہے اور ذی روح کو موت ہے۔ فنا اس کائنات کا اولین سبق ہے۔ جس شخص نے ان باتوں کو پا لیا اور اس پر عمل پیرا ہو گیا۔ اس کے لیے دنیا میں امن سکون ہے اور آخرت میں کامیابی ہے۔ جس نے جان کر لاعملی اختیار کر لی وہ دونوں جہان میں خود اپنی ناکامی کے درپے ہو گیا۔ بس اتنی سی بات سمجھنے اور سوچنے کی ہے۔ اس عمل کے لیے کسی لمبے چوڑے فلسفے اور کسی بڑے علوم کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ 1950 کی بات ہے کہ آئرستان کی گینز بریوری کے ڈائریکٹر سر ہیو بیور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ شکار کھیل رہے تھے ۔۔۔ وہ شکار کے لیے وسیع عریض حدوں کو چھو چکے تھے۔ انہوں نے ایک گولڈن پلور پر گولی چلائی مگر ان کا نشانہ چوک گیا۔ ان کے ساتھیوں نے جب نشانہ چوکنے پر ان پر طنز کیا تو انہوں نے اپنے دفاع میں کہا ’’گولڈن پلور یورپ کا تیز ترین پرندہ ہے۔۔۔‘‘ لیکن ان کے ساتھیوں نے اس بات سے اتفاق نہ کیا اور بحث شروع ہو گئی ۔۔۔ چنانچہ ۔۔۔ شکار سے واپس جانے کے بعد ہیو بیور نے ایک کے بعد ایک کتاب چھاننا شروع کر دی کہ اپنے ساتھیوں پر یہ بات ثابت کر سکیں کہ گولڈ پلور واقعتا یورپ کا تیز ترین پرندہ ہے۔ لیکن۔۔۔ کئی روز کئی لائبریریوں کی خاک چھاننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ ایسی کوئی کتاب سرے سے موجود ہی نہیں کہ جس میں تیز ترین، بلند ترین، امیر ترین جیسی کیٹگریز میں مختلف شخصیات، جانوروں یا مقامات کو کیٹگرائز کیا گیا ہو۔۔ چنانچہ ہیو بیور نے بذات خود ایسی ایک کتاب کی ترتیب پر کام شروع کر دیا۔ جسے آج دنیا ’’گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز‘‘ کے نام سے جانتی ہے اور اس کتاب میں ہر پہلو اور شعبہ ہائے زندگی پر معلومات میسر ہیں۔ جنہوں نے انوکھے کارہائے نمایاں کر کے اپنا نام اس میں شامل کرایا اور ایک اعزاز اپنے نام کیا۔
آئیے پاکستان کی گینز بک مرتب کرتے ہیں۔اپریل 2022 تا اپریل 2025 تک ایک سال کے قلیل عرصے میں کس قدر غریب عوام پر ظلم و ستم کی بارش ہوئی۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔1: ڈالر 178 سے 287 کی بلند ترین سطع پر پہنچا۔ 2: پیٹرول 149 سے 255 تک گیا اور کرایوں میں بے بہا اضافہ ہوا یہ بوجھ عوام کی برداشت سے باہر ہونے لگا۔ 3: آٹا 20 کلو بوری 1300 سے 3200 تک ملنے لگا اور روٹی قمیت سات روپے سے پندرہ روپے کی ہو گئی۔ 4: سٹاک مارکیٹ 47000 سے 39000 کی نچلی سطح اختیار کر گئی۔ 5: سیمنٹ 750 سے 1200 تک آ گیا۔ 6: بجلی 12 روپے یونٹ سے 58 روپے یونٹ کی قیمت اختیار کر گیا۔ 7: کوکنگ آئل 350 سے 600 روپے کی بلند قیمت میں ملنے لگا اور گھی کمپنیوں کی چاندی ہو گئی۔ 8: چاول 160 روپے کلو سے 350 روپے کلو تک آ گیا اور غریب چاول کے دانے کو ترسنے لگا۔ 9: گروتھ ریٹ 6 سے 0.4 فیصد تک چلی گئی۔ 10: شرح سود 12 سے 21 فیصد تک پہنچ گئی۔ 11: زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر سے 9 ارب ڈالر تک گر گئے۔ 12: ایل پی جی 180 روپے کلو سے 320 روپے کلو تک پہنچی اور غریبوں کے جلتے چولہے بجھ گئے۔ 13: ماہانہ ایکسپورٹ 3 ارب ڈالر سے 2 ارب ڈالر تک گر گئی۔ 14: ترسیلات زر 3 ارب ڈالر سے 2 ارب ڈالر تک آ گئی۔ 15: گیس 300 فیصد مہنگی ہوئی۔ 16: مختلف سبزیاں 70 روپے کلو سے 170 روپے کلو پہچنے پر غریب عوام گلی سڑی سبزیاں کھانے پر مجبور ہو گئے۔ 17: مختلف فروٹ 120 روپے کلو سے 350 روپے کلو تک پہنچ گئے اور عوام فروٹ کو دیکھ کر دل کو خوش رکھنے پر مجبور ہونے لگے۔ 18: دودھ 100 روپے کلو سے 200 روپے کلو پر پہنچا۔ 19: چائے کی پتی 900 روپے کلو سے 1900 روپے کلو پر ہونے کے باوجود عوام چائے کی چسکیوں سے باز نہیں آئے۔ 20: گاڑیوں کی فروخت میں 80 فیصد کمی ہوئی اور لوگ پیدل چلنے کو ترجیح دینے لگے۔ 21: چینی 84 روپے سے 135 روپے کلو ہوئی اور شوگر زدگان نے کلمہ تشکر ادا کیا۔ 22: گڑ 100 روپے سے 150 روپے کلو ہو گیا۔ 23: انڈسٹریاں جہاں مزدور نہیں ملتے تھے وہ بند ہو گئیں اور مزدور دربدر ہو گئے۔ 24: مختلف دالیں 180 روپے کلو سے 600 روپے کلو تک ہو گئیں اور غریب عوام دال سے بھی گئے۔ 25: گاڑیاں 80 فیصد مہنگی ہوئیں۔ 26: انڈے 180 روپے سے 300 روپے ہو گئے اور پولٹری مالکان پل بھر میں امیر ہو گئے۔ 27: خارجہ پالیسی ٹھپ دوست ممالک بھی پیچھے ہٹ گئے 28: بیف گوشت 500 روپے کلو سے 800 روپے کلو، 29: مرغی 300 روپے سے 650 روپے تک ہوئی۔ 30: کپڑے 60 فیصد مہنگے ہوئے اور عوام کو تن چھپانے لالے پڑ گئے۔ 31 شوز 120 فیصد مہنگے ہوئے۔ 32: مختلف جوسز 140 روپے لیٹر سے 300 روپے لیٹر ہوئی۔ 33: سٹیشنری 80 فیصد مہنگی ہوئی۔ 34: خشک دودھ 1000 روپے کلو سے 1800 روپے کلو تک پہنچا۔ 35: مختلف ڈرائی فروٹ اوسطاً 600 روپے سے 2000 روپے تک گئے۔ 36: مختلف شیمپو 300 روپے سے 800 روپے تک گئے۔ 37: بیکری کی اشیا 300 روپے کلو سے 700 روپے کلو تک ہوئیں۔ 38: میڈیسن 50 فیصد مہنگی ہوئیں اور بیمار اور بیمار ہو گئے اور آخر اس بیماریِ دل نے کام تمام کیا۔ 39: ملک پر کل قرضہ 42 ٹریلین سے 54 ٹریلین ہو گیا اور قرض کی مے پی کر یہ خیال کرنے لگے کہ ایک دن ہماری فاقہ مستی کام آئیگی۔ 40: لوگوں کے تمام کیسز معاف ہوئے اور معاف شدگان اپنے آپ کو پاک صاف گرداننے لگے۔
یہ وہ معاشی حالات تھے جو قارئین کی نذر کیے گئے، مگر واضح رہے یہ وہ حکومت ہے جس کا نام اور کارنامے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں لکھے ہی جائیں گے مگر اس کے ساتھ ساتھ اللہ کی عدالت میں بھی لکھے گئے ہیں۔ ان کے نامہِ اعمال گینز بک آف ریکارڈ سے تو مسخ ہو سکتے ہیں مگر لوحِ محفوظ سے نہیں مٹ سکیں گے۔ انسان کو اس کے اعمال کی سزا تو بہرحال مل کر ہی رہے گی۔ اقتدارِ اعلیٰ کا ملک وہ اللہ ہے۔ اس دن یہ زمینی خدا اور زمینی حکمران اپنے ظلم کی پاداش میں ضرور پکڑے جائیں گے۔ اس دن ان کا کوئی جج سوموٹو نہیں لے سکے اور نہ انکی اپنی عدالتیں کام آئیں گی۔
مردہ بدست زندہ
09:48 AM, 22 Apr, 2025