اندر کی طرف منکشف ہوتے دریچے!!!

09:47 AM, 22 Apr, 2025

کبھی کبھی دل ایک ایسا سمندر بن جاتا ہے جسے کوئی ساحل، کوئی کنارہ اور کوئی سہارا درکار نہیں ہوتا۔ اور کبھی یہی دل اپنی وسعت میں اتنا تنہا ہو جاتا ہے کہ اس کی گہرائی میں صرف خامشی رہ جاتی ہے ایک ایسا سناٹا جو سنا نہیں جاتا، صرف محسوس کیا جاتا ہے۔ ہم اکثر ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو بظاہر مضبوط ہوتے ہیں، جن کے کندھوں پر زمانے کے دکھ ہوتے ہیں، جن کی مسکراہٹ دوسروں کے لیے مرہم بنتی ہے، اور جن کی خاموشی خود ایک مکالمہ ہوتی ہے۔ مگر جب وہ خود تھکنے لگیں، جب ان کا اندر لرزنے لگے، تو کون ہوتا ہے جو انہیں سہارا دے؟ کون ہے جو سمندر کو تھام سکے؟ یہ سوال محض ایک فقرہ نہیں، یہ ایک گہرے وجودی کرب کی علامت ہے۔ سمندر کو سہارا کون دے؟ یہ دراصل ان روحوں کا نوحہ ہے جو سب کو سنبھالتی ہیں، مگر خود جب بکھرتی ہیں، تو ان کا درد سنا جاتا ہے، نہ سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ دنیا سطحی ہے اور گہرائیوں سے خائف۔ دل اگر واقعی سمندر ہو تو وہ بیکراں ہو گا، بے حد و حساب۔ اس کی موجیں قربت کی طلب میں کبھی سکون سے محروم، کبھی بغاوت پر آمادہ۔ مگر وہ دل جو خود میں رب کے قرب کی گواہی لیے بیٹھا ہو، جو معرفت کی بارش سے لبریز ہو، جو عشق کی انتہا کو چھو چکا ہو وہ کب کسی ظاہری سہارے کا طلبگار ہوتا ہے؟ اس کے نہاں خانوں سے تو صرف وہی واقف ہو سکتا ہے جو دلوں کا حال جاننے والا ہے۔ ایسے دل کو دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ رمز میں جیتا ہے۔ اسے رغبت نہیں چاہیے، وہ فنا کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہ حدیں نہیں مانگتا، وہ قربِ لا مکانی کا طلبگار ہوتا ہے۔ جب وہ دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو مرشد خاموش ہو جاتا ہے۔ یہی خامشی سب سے بڑی رہنمائی ہوتی ہے۔ مرشد کی خامشی دراصل اس بات کی علامت ہے کہ اب طالب اپنے سفر میں اتنا قریب ہو چکا ہے کہ لفظ غیر ضروری ہو چکے ہیں۔ اب جو سیکھنا ہے، وہ آنکھوں کی نمی سے سیکھنا ہے، سجدے کی تھکن سے، اور سانسوں کی لغزش سے۔ جیسے سناٹا ایک چیخ بھی ہے اور ایک درس بھی۔ یہ وہ کیفیت ہے جو بظاہر سکوت ہے، مگر اندر ایک طوفان کو جنم دیتی ہے۔ میں نے سناٹے کی آواز پہلی بار تب سنی، جب باہر شور تھا اور اندر ایک ایسی خامشی جو مجھ سے سب کچھ کہہ رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے دنیا بول رہی ہو، مگر میں سن نہیں پا رہا اور دل چیخ رہا ہو، مگر کوئی سن نہیں رہا۔ رومی کہتے ہیں جب تمہیں سب سے زیادہ شور سنائی دے، تب جان لو کہ تم اپنے اندر کے سناٹے سے بھاگ رہے ہو۔ ہم سب نے اپنے اندر ایک ایسا مقام بنا رکھا ہے جہاں ہم چھپتے ہیں۔ کچھ دکھ وہاں دفن ہوتے ہیں، کچھ سوال وہیں دھرے رہتے ہیں، کچھ چاہتیں وہیں انتظار کرتی ہیں۔ جب کوئی اس اندرونی دنیا کی دہلیز پر آ کر صرف خاموشی سے بیٹھ جائے تو وہی لمحہ ایک مکالمہ بن جاتا ہے۔ ایسا مکالمہ جو لفظوں سے عاری ہو، مگر جذبوں سے لبریز ہو۔ جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو دیکھ کر سمجھ جائے کہ اسے کیا تکلیف ہے بغیر پوچھے۔ جیسے دو دوست برسوں بعد ملیں، اور صرف ایک نظر میں سب کہہ دیں۔ رغبت جب سچ ہوتی ہے تو چپ ہو جاتی ہے، اور چپ جب سچ ہوتی ہے تو بولنے لگتی ہے۔ کبھی کبھی ہم اپنے اندر کے دروازے خود بند کر لیتے ہیں، اور پھر کسی خاموش لمحے میں وہ آہستہ سے کھلنے لگتے ہیں۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ اندر کوئی تھا جو برسوں سے ہم سے بات کرنا چاہتا تھا، ہم خود سے۔ خاموشی صرف تنہائی نہیں یہ ایک در ہے، ایک ذریعہ ہے، ایک راستہ ہے اپنے رب کی طرف، اپنے اصل کی طرف۔ تو اگر کبھی سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ کم لگے رک جا۔ آنکھیں بند کرو۔ سناٹے کی آواز سنو۔ شاید وہی لمحہ، وہی خاموشی، وہی دریچہ تمہیں تمہارے محبوب، تمہارے خالق، اور تمہیں تمہارے آپ تک لے جائے۔ اس حوالے سے مراقبہ ایک نعمت ہے مراقبہ، دل کی گہرائیوں میں اترنے کا وہ راستہ ہے جہاں انسان کو اپنی حقیقت کا سراغ ملتا ہے۔ یہ محض ایک ذہنی مشق نہیں، بلکہ روح کا وہ عرفانی سفر ہے جس میں سالک اپنے وجود کی گہرائیوں میں اتر کر، محبوبِ حقیقی کی جھلک 
پاتا ہے۔ صوفیا کی خانقاہوں میں، درویشوں کی خامشی میں اور فقرا کی نگاہوں میں جو سکون ہے، وہ اسی مراقبے کی بدولت ہے۔ جب دنیا کی آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں، تب اندر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہی مراقبہ کا آغاز ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے: جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ مراقبہ اسی پہچان کا زینہ ہے۔ یہ انسان کو ظاہر سے باطن کی طرف لے جاتا ہے، شور سے سکوت کی طرف اور کثرت سے وحدت کی طرف۔ صوفیا کرام کا ماننا ہے کہ دل کی آنکھ کھولنے کے لیے ظاہری آنکھیں بند کرنا ضروری ہے۔ مراقبہ وہ لمحہ ہے جب بندہ تمام علائقِ دنیا سے کٹ کر صرف اپنے رب سے تعلق قائم کرتا ہے۔ نہ کوئی طلب، نہ کوئی فریاد، فقط خاموشی اور حضور۔ اسی لمحے میں دل کے دریچے کھلتے ہیں اور نور الٰہی کا فیضان اترتا ہے۔ مراقبہ انسان کو ضبط، صبر، اور تسلیم و رضا سکھاتا ہے۔ یہ اس کے قلب کو آئینہ بنا دیتا ہے جہاں رب کی محبت عکس بن کر جھلکتی ہے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں: خاموش ہو جا، تا کہ تجھے وہ سنا دے جو لفظوں سے ماورا ہے۔ یہ روح کی غذا ہے، دل کا سکون اور معرفت کا دروازہ۔
پس جو اس نعمت کو پہچان لے، وہ خود کو پا لیتا ہے اور جو خود کو پا لے، وہ رب کو پا لیتا ہے۔

مزیدخبریں