پاکستان ہمیشہ سے ہی خطے میں امن کا خواہاں رہاہے مگر عسکری قیادت نے ہمیشہ باور کرایا ہے کہ خطے میں امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی بات بھارت کو ہمیشہ کھٹکتی ہے۔ بھارت جانتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے کا کیا نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور اگر ابھی نندن جیسوں کو بھی بھیجو تو آگے سے کیا کرارا جواب ملتا ہے ، یہ سب پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آرمی چیف نے بھی حالیہ اوور سیز کنونشن میں خطاب کے دوران جہاں دو قومی نظریہ کی بات کی وہیں ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہونے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ آرمی چیف نے دہشت گردوں کو بھی دو ٹوک پیغام دیا اور واضح کر دیا کہ ان کی دس نسلیں بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ سب جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان میں شرپسندی میں ملوث رہا ہے اور بھارت ہمیشہ سے ہی پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ پاک فوج نے اسی وجہ سے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لئے جنگی مشقوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں پاک سری لنکا بحری مشقیں بھی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے بھارت کی نیندیں اڑنا یقینی تھیں اور ایسا ہی ہوا ہے۔
پاک سری لنکا بحری مشقوں ’’امن 2025ئ‘‘ کے لیے دونوں ممالک کے اشتراک پر بھارت ہمیشہ کی طرح بوکھلاہٹ کا شکارہے۔خطے میں بحری طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور پاکستان بحریہ کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی سرگرمیاں بھارتی حلقوں میں سخت اضطراب کا سبب بنی ہوئی ہیں۔’’امن 2025‘‘ میں 60 سے زائد ممالک کی شمولیت جہاں ایک تاریخی لمحہ ہے، وہیں بھارت کی جانب سے اس کامیابی کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں خود اس کی خفت کا باعث بن رہی ہیں۔پاک بحریہ کی جانب سے مسلسل بین الاقوامی مشقوں میں شرکت اور دوستانہ دوروں نے نہ صرف عسکری میدان میں پاکستان کے وقار کو بلند کیا بلکہ عالمی سطح پر تعاون کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ پی این ایس ’’اصلت‘‘ کا حالیہ کولمبو دورہ، سری لنکن بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں اور دیگر فعال روابط اس مضبوط شراکت داری کا عملی مظہر ہیں۔بھارتی میڈیا نے بے بنیاد دعویٰ کیا کہ پاک سری لنکا بحری مشق منسوخ کر دی گئی ہے، تاہم سری لنکا کی وزارت دفاع نے ان افواہوں کی نہ صرف سختی سے تردید کی بلکہ واضح الفاظ میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔’’امن 2025‘‘ میں سری لنکن بحریہ کی پرجوش شرکت نے بھارتی میڈیا کی بے بنیاد قیاس آرائیوں کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے۔ یہ شرکت اس امر کی دلیل ہے کہ پاکستان اور سری لنکا نہ صرف بحری سلامتی کے مشترکہ اہداف رکھتے ہیں بلکہ ان کی سٹرٹیجک پارٹنرشپ مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستان اور سری لنکا کے بڑھتے تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں بار بار ناکام ہو رہی ہیں۔ خواہ وہ جعلی خبریں ہوں یا میڈیا پروپیگنڈا، زمینی حقائق یہ ثابت کر رہے ہیں کہ خطے میں پاکستان کا مؤثر کردار اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی میڈیا اس سے قبل بھی پراپیگنڈا کرتا رہا ہے۔ بلوچستان کے معاملے میں بھی مودی سرکار کے تنخواہ دار میڈیا نے پاکستان کے خلاف سازشیں کیں اور ایک ایسی کہانی گھڑی جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ بھارتی میڈیا نے اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسی تصاویر اور وڈیوز جاری کیں جس کا یقینی طور پر کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ بھارتی میڈیا اب بھی ان جنگی مشقوں پرروایتی پراپیگنڈے سے باز نہیں آیا اور الٹی سیدھی ہانکنا شروع کریں اور پھر جب احساس ہوا کہ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا خطے بھرمیں راج ہے تو بدحواس ہو کر روایتی طور پر خاموش ہو گیا۔ یہی وہ خاموشی ہے جو بھارت کو یہ احساس دلاتی ہے کہ پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینا جانتی ہے ، کسی بھی طرح پیشہ ورانہ مہارت سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی اور یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان خطے کا اہم ترین ملک ہے۔
امن مشقوں سے بھارت کی بوکھلاہٹ
09:46 AM, 22 Apr, 2025