بلاول کی ریاست کو دھمکی اورہومیو پیتھک سیاستدان

09:45 AM, 22 Apr, 2025

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی مسٹر بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ’’ وزارتوں کو لات مارتے ہیں ٗ پانی کی تقسیم کا مسئلہ وفاق کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔‘‘ بظاہر یہ ایک بیان دکھائی دے رہا ہے لیکن اگر اس پر تھوڑا سا غور کریں تو نہروں کے معاملے کو ریاست ِ پاکستان کیلئے خطرہ کہنا انتہائی غیر سیاسی اور غیر اخلاقی رویہ ہے ۔ جس کا دوسرا مطلب صاف اور سیدھا ہے کہ اگر نہروں کے مسئلے کو مسٹر بلاول کی مرضی اور منشا ٗ جسے وہ سندھی عوام کی خواہش کہہ رہے ہیں حل نہ کیا گیا تو ریاست پاکستان کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔اب ریاست کو کیاکیا خطرات لا حق ہوسکتے ہیں؟اس کا جغرافیہ اور آبادی تبدیل ہونا ہی کسی ریاست کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے ۔ یا پھر کوئی ریاست خدانخواستہ مفتوح ہو جائے یا پھر ریاستی ادارے ریاست میں بسنے والوں کو کنٹرول کرنے میںمکمل ناکام ہو جائیں اور ریاست ایک بدترین خون ریز ی کا شکا ر ہو جائے ۔ میں بلاول بھٹو سے ایسے غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع کسی صورت نہیں کر رہا تھا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی سیاسی جماعت سے زیادہ پاکستانی عوام کا رومانس ہے ۔ لوگ اسے پنجاب یا دوسرے صوبوں میں ووٹ دیں یا نہ دیں لیکن بھٹو خاندان کی قربانیوں اور کرشماتی شخصیات سے محبت آج بھی پاکستانی عوام کرتے ہیں اور اِس کی زندہ مثال ابھی کل محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ہونے والا سوگ تو ہر پاکستانی کو یاد ہو گا ۔ پنجاب نے ہمیشہ دوسرے صوبوں کو ضرورت سے زیادہ دیا اور ضرورت سے زیادہ نفرت بھی وصول کی ٗ صرف دوسرے صوبوں کی بات ہی کیوں کریں اپنی سرائیکی بیلٹ کا شاعر بھی اپنے آپ کو تختِ لاہور کا قیدی لکھتا ہے ۔خیبر پختون خوا میں کبھی اے این پی اپنا غصہ پنجاب پر نکالتی تھی لیکن ضیاء الحق جب ولی خان سے بھٹو کو جلا وطن کرنے کا مشورہ کرتا تھا تو ولی خان معصوم سی شکل بنا کر کہہ دیتا تھا ؎’’ جناب اب قبر ایک ہے اورمردے دو اگر بھٹو کو نہیں لٹانا تو پھر خود لیٹ جائیں ۔‘‘ لیکن بھٹو کو پھانسی پنجاب ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق کی سربراہی میں دی اور اس کی توثیق ایک پنجابی چیف جسٹس آف سپریم کورٹ ایس انوار الحق نے کی جب کہ اُس وقت پنجابی آرمی چیف جنرل ضیاء الحق اس سارے کیس کا ماسٹر مائنڈ تھا ۔ مولوی مشتاق کا تعلق فیصل آباد سے جبکہ باقی کرداروں میں سے زیادہ تر کا ڈاک خانہ جالندھر سے ملتا تھا مشرقی پنجاب کے سکھ پنجابیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں لیکن بھٹو کے قتل کے ذمہ دار جالندھریوں کو موجود پنجاب کے پنجابیوں میں گنا جائے گا۔ بھٹو کو بے گناہ قرار دے کر اُس کے ماتھے سے قتل کا داغ تو عدلیہ نے دھو دیا لیکن ملزمان کا تعین نہ کر کے وہی داغ اب اپنے ماتھے پر لگا لیا ہے۔ پنجاب کے لوگوں نے زندہ اورمقتول ٗ دونوں بھٹو زسے اپنی بے پناہ عقیدت کا اظہار کیا جس کی زندہ مثال 10 اپریل 1986 ء کو محترمہ کا لاہور میں تاریخی استقبال تھا لیکن وہی محترمہ جب اپنے دوسرے تاریخی استقبال کیلئے 2007ء میں سندھ اتریں تو انہیں کارساز کے قاتلانہ حملے کا سامنا کر نا پڑ گیا ۔ اِن تمام تر تاریخی حقائق کے باوجود مسٹر بلاول کا فیڈریشن کو دھمکی دینا انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان ہے جس کی میں کھلے عام مذمت کرتا ہوں ۔ فیڈریشن کو نقصان پہنچانے کی بات تو مہ رنگ بلوچ ٗ خوارج اور تحریک انصاف بھی کر رہے ہیں تو پھر ان حالات میں کیا فیڈریشن کو ایک نئی منہ زور سیاسی جماعت کی دھمکی سمجھا جائے ؟ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت جس نے محترمہ بے نظیر کے شہاد ت کے بعد بھی ’’پاکستان کھپے ‘‘کا نعرہ لگایا اُسی سیاسی جماعت کی جانب سے فیڈریشن کو خطرے میں ڈالنے کی دھمکی دینا پاکستان پیپلز پارٹی کی روایات کے خلاف ہی سمجھا جا سکتا ہے ۔ بلاول بھٹو زرداری کو اپنے اس بیان سے رجوع کرنا چاہیے کہ پاکستانی عوام کو اُن سے بہت امیدیں ہیں اور اِس وقت جب ریاست ِ پاکستان ایک طرف خوارج کے ساتھ حالت ِ جنگ میں ہے اور دوسری طرف اُسے بی ایل اے کے دہشتگردوں ٗ تیسری جانب پی ٹی آئی کے اوورسیز بیانیے کا سامنا ہے ٗ بلاول بھٹو زرداری کو مہ رنگ بلوچ کی زبان میں بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ افہام و تفہیم کے ساتھ معاملات کو سمجھتے ہوئے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے کہ سیاستدان یہی کرتا ہے ۔بھٹو صاحب نے تو سندھ طاس معاہدہ میں بطور وزیر پانی و بجلی بھی مرکزی کردار ادا کردیا تھا گو کہ اُس معاہدہ پر ایوب خان اور نہرو کے دستخط ہیں ٗ جب بھٹو صاحب دریائو ں کا مسئلہ حل کرسکتے تھے ٗ یہ تو پھر نہریں ہیں ۔اس کیلئے آپ کے پاس اسمبلی کا فورم ہے اُسے استعمال کریں بجائے اِس کے کہ میڈیا پر بیانات داغ کر عوام کا کلیجہ چھلنی کیا جائے ۔ ایسے ہی بیانات الیکشن مہمات میں مخالف سیاسی جماعتیں بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ 
اخبار کے فرنٹ پیج پر اسحق ڈار کی کابل روانگی ٗ افغان طالبان کا5 لاکھ امریکی ہتھیار دہشتگردوں کو بیچنے ٗ غیر قانونی مقیم افغانوں کو کرائے پر دکان و مکان دینے پر پابندی ٗ سوات میں کامیاب آپریشن ٗ مزید 4 مطلوب خوارج جہنم واصل کی خبریں شائع تھیں ۔سر درد ہونا شروع ہو گیا کہ جہاں ہمیں جرنیلوں کو بھیجنا چاہیے وہا ں ہم ہومیو پیتھک سیاستدان بھیج دیتے ہیں اورجہاں سیاستدانوں کو تقریر کرنے جانا چاہیے وہاں یونیفارم آفیسر موجود ہوتا ہے ۔ آخر کب تک ہم شراب سیخ پر اور کباب شیشے میں ڈالتے رہیں گے۔ سارا نظام ہی الٹ دکھائی دے رہا ہے۔ مسٹر اسحاق ڈار کی واپسی پر میں تلاش کرتا رہا ہے کہ یقینا کوئی بات افغان طالبان سے اسلحہ بیچنے کے حوالے سے بھی ہوئی ہو گی لیکن شاید ابھی ہم افغانیوں سے تجارتی گزرگاہ کی بات چیت کرنا چاہتے ہیں جو سینٹرل ایشین ریاستوں تک ہمارے مال اسباب کی ضمانت دے سکے لیکن افغانیوں کی تاریخ تو تجارت کی بالکل نہیں ہے وہ تو شارٹ کٹ کے عادی ہیں اور گزشتہ کئی صدیوں کی تاریخ اس کیلئے بطور حوالہ پیش کی جا سکتی ہے ۔ افغانستان سے اگر کوئی معاملات طے ہو بھی گئے تو بھارت کی افغانستان میں موجودگی کی صورت میں اپنی نئی نویلی تجارتی شہ رگ بھی دشمنوں کے نر غے میں دینے کے مترادف ہو گی جس کی میں کبھی حمایت نہیں کرسکتا اس سے بہتر ہے کہ ایران کے رستے سینٹر ل ایشیا کے راستوں کو فوقیت دی جائے زیادہ بہتر رہے گا۔

مزیدخبریں