اقبالؒ … کیا ہم بھول جائیں گے؟

09:45 AM, 22 Apr, 2025

علامہ اقبالؒ کو رُخصت ہوئے ستاسی برس ہو چلے۔ لیکن کیا دِلوں میں چراغِ آرزو جلانے، جہد مسلسل کا عزم عطا کرنے، خودی، خود آگاہی اور خودشناسی کا درس دینے، حاضر و موجود کی قید سے آزاد ہو کر نئے جہانوں کی تلاش و جستجو کی لگن ابھارنے، غلامی کی شبِ سیاہ میں سحرتراشی کا جنوں بخشنے اور ’’لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند‘‘ اِک ولولہ تازہ دینے والی زندہ و جاوداں شاعری کے نقوش بھی گرد وغبارِ وقت کی نذر ہو جائیں گے؟ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کی عالی مرتبت درس گاہوں سے فیض یاب ہونے والے ’اَبنائے اشرافیہ‘ اور پٹرول بموں سے کھیلنے والے ’طفلانِ خود معاملہ‘ سے صرفِ نظر کر لیجے، پاکستان کے اداروں سے کسبِ علم کرنے والے، مشرقی تہذیب و روایات کے حامل، متوسط گھرانوں کے نوجوان بھی اقبال سے شناسا ہیں نہ اُس کی شاعری سے۔ اِس المیے کا ماتم پھر سہی۔
آج جی چاہتا ہے کہ علّامہ کی شاعری کے اُس مشکبو پہلو کی ہلکی سی جھلک دیکھی جائے جو حضورِ اکرم حضرت محمدؐ سے بے کراں محبت کی خوشبو میں گندھا ہے اور جسے پڑھتے ہوئے دِل کی دھڑکنوں میں ارتعاش سا پیدا ہو جاتا ہے۔
دس گیارہ سال پہلے، میں نے اپنے ایک کالم میں، چار مصرعوں پر مشتمل علامہ کی ایک رباعی یا قطعے کا ذکر کیا تھا
تُو غنی اَز ہر دو عالَم من فقیر
رُوز محشر عُذر ہائے مَن پذیر
وَر تو می بینی حسابم ناگزیر
اَز نگاہِ مصطفیؐ پِنہاں بگیر
(اے اللہ تعالیٰ! تو دونوں جہانوں سے غنی اور بے نیاز ہے اور میں ایک بے سروساماں فقیر۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تو قیامت کے دِن میرے گناہوں کے عذر قبول کر لے اور بخش دے اور اگر تو میرا نامہ اعمال دیکھنا ضروری خیال کرے تو بھلے دیکھ لے لیکن میرے حضور، محمد مصطفیؐ کی نگاہوں سے چھپا کر دیکھنا)
وفات سے کوئی ایک برس قبل، فروری 1937 میں، ڈیرہ غازی خان کے ایک سکول ٹیچر، ماسٹر محمد رمضان عطائی کی دردمندانہ خواہش پر علامہ نے یہ رباعی اُنہیں عطا کر دی۔ اپنے ایک خط میں لکھا … ’’جنابِ من، میں ایک مدت سے صاحبِ فراش ہوں۔ خط و کتابت سے معذور ہوں۔ باقی، شعر کسی کی ملکیت نہیں۔ آپ بلاتکلف وہ رباعی جو آپ کو پسند آ گئی ہے، اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ رمضان عطائی نے کبھی یہ رباعی اپنے نام سے مشہور نہ کی بلکہ پوری داستان اپنی ڈائری میں لکھ کر محفوظ کر دی۔ علامہ نے یہ رباعی اپنی کتاب ’’ارمغان حجاز‘‘ کے مسودے سے خارج کر دی۔ آج بھی یہ علامہ کی کسی کتاب میں شامل نہیں۔ ’ارمغان حجاز‘ کے لیے علامہ نے اسی مضمون کی ایک اور رُباعی کہی:
بَہ پَایاں چُوں رَسَد اِیں عَالمِ پِیر
شَوَد بے پَردہ ہَر پوشِیدہ تَقدیر
مَکُن رُسوا حضورِ خَواجہ مَارَا
حسابِ مَن زَ چَشمِ اُو نِہاَں گیر
(جب یہ عالمِ پیر اپنے انجام کو پہنچ جائے اور حشر بپا ہو۔ جس روز ہر پوشیدہ تقدیر، ہر چھُپی ہوئی بات ظاہر ہو جائے، تو اے خدا! مجھے اپنے حضورؐ کے سامنے رُسوا نہ کرنا، میرا نامہ اعمال آپؐ کی نگاہوں سے چھپا لینا)
’’رموزِ بے خودی‘‘ کی ایک فارسی نظم میں علامہ نے اپنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ عنفوانِ شباب کے دن تھے۔ ایک بھکاری اُن کے دروازے پر پیہم صدا لگا رہا تھا اور ٹلنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ غصے میں آ کر نوجوان اقبال نے اُسے لاٹھی دے ماری۔ فقیر نے اب تک بھیک مانگ کر جو کچھ سمیٹا تھا، سب زمین پر بکھر گیا۔ علامہ کے والد، شیخ نور محمد، یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اُن کے ہونٹوں سے ایک آہِ جگر سوز نکلی۔ بہت مضطرب ہوئے۔ ستارے جیسا ایک آنسو آنکھ سے ٹپکا اور بولے کہ کل میدانِ حشر میں جب رسول اللہ ؐ کی ساری امت جمع ہو گی اور حضور ؐ مجھ سے سوال کریں گے کہ
حَق جوانے مُسلمے بَا تُو سپُرد
کو نصِیبے اَز دَبِستَانَم نَبُرد
اَز تُو اِیں یَک کارِ آسَاں ہَم نَہ شُد
یعنی آں اَنبَارِ گِل، آدَم نَہ شُد
(حضورؐ فرمائیں گے۔ ’’اللہ تعالیٰ نے ایک مسلم نوجوان تیرے حوالے کیا تھا لیکن اُس نوجوان نے میرے ادب گاہِ اخلاقیات سے کوئی سبق نہ سیکھا۔ تُو اتنا آسان سا کام بھی نہ کر سکا کہ مٹی کے ایک تودے کو آدمی بنا سکتا‘‘)
اَندَکے اَندِیش و یَاد آر اے پِسَر
اِجتماعِِ اُمّتِ خیرُ البَشَر
بَاز اِیں رِیشِ سَفیدِ مَن نَگَر
لَرزۂ ِ بِیم و اُمیدِ مَن نَگَر
بَر پِِدَر اِیں جَورِ نَازِیبَا مَکُن
پِیشِ مَولاَ بَندَہ رَا رُسوَا مَکُن
غُنچَہِ اِی اَز شَاخسَارِ مُصطفیؐ
گُل شو اَز بَادِ بَہارِ مُصطفیؐ
فِطرَتِ مُسلِم سَراپا شَفقَت اَست
دَرجَہاں دَست وزُبَانَش رَحمت اَست
اَز مَقامِ اُو اگر دُور اِیستِی
اَز مِیانِ مَعشر مَا نِیستِی
(سو بیٹا تھوڑی دیر کے لیے سوچ اور رسول اللہ ؐ کی اُمت کے اجتماعِ عظیم کو تصور میں لا۔ پھر میری اِس سفید داڑھی کو دیکھ۔ مجھ پر نظر ڈال کہ کس طرح میں امید اور ناامیدی کے خیال سے لرز رہا ہوں۔ اپنے باپ پر نا زیبا ظلم نہ کر۔ آقاؐ کے سامنے اُس کے غلام کو رُسوا نہ کر۔ خود پر نظر کر کہ تو گلستانِ مصطفیؐ کا ایک غنچہ ہے۔ بادِ بہارِ مصطفیؐ سے کھِل کر پورا پھول بن جا۔ مسلمان کی فطرت تو سراپا شفقت و محبت ہے۔ ساری دنیا کے لیے اُس کا ہاتھ اور اُس کی زبان رحمت ہے۔ اگر تُو میرے حضورؐ کے مقام اور اسوہ حسنہ سے دُور ہے تو ہمارے قبیلے سے بھی نہیں ہو)
1905 میں حصولِ تعلیم کے لیے بحری جہاز سے لندن جاتے ہوئے، اٹھائیس سالہ محمد اقبال نے، عَدن کی بندرگاہ کے نواح سے، ’ایڈیٹر وطن‘ مولانا ان شاء اللہ خان کو جو خط لکھا، اُسے اقبال شناس اہلِ فکر، ’نثری نعت‘ قرار دیتے ہیں۔ اقبال نے لکھا:
’’اب ساحل قریب آتا جاتا ہے۔ چند گھنٹوں میں ہمارا جہاز عدن جا پہنچے گا۔ ساحلِ عرب کے تصور نے جو ذوق و شوق اِس وقت دِل میں پیدا کر دیا ہے، اُس کی داستان کیا عرض کروں۔ بس دل یہی چاہتا ہے کہ زیارت سے اپنی آنکھوں کو منور کروں۔ اے عرب کی مقدس سرزمین! تجھ کو مبارک ہو۔ تم ایک پتھر تھیں، جس کو دنیا کے معماروں نے رَدّ کر دیا تھا۔ مگر ایک یتیم بچے نے خدا جانے تجھ پر کیا فسوں پڑھ دیا کہ موجودہ دنیا کے تہذیب و تمدن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی۔ تیرے ریگستانوں نے ہزاروں مقدس نقشِ قدم دیکھے۔ اور تیرے کھجوروں کے سائے نے ہزاروں ولیوں اور سلیمانوں کو تمازتِ آفتاب سے محفوظ رکھا ہے۔ کاش میرے بد کردار جسم کی خاک تیرے بیابانوں میں اُڑتی پھرے اور یہی آوارگی میرے تاریک دنوں کا کفارہ ہو۔ کاش تیرے صحرائوں میں لُٹ جائوں اور دنیا کے تمام سامانوں سے آزاد ہو کر، تیری دھوپ میں جلتا ہوا، اور پائوں کے آبلوں کی پروا نہ کرتا ہوا، اُس پاک سر زمین میں جا پہنچوں جہاں کی گلیوں میں اذانِ بلال کی عاشقانہ آواز گونجی تھی۔‘‘
اٹھائیس سال کا نوجوان، تب نہ اقبال بنا تھا نہ علّامہ، نہ سَر نہ فلسفی، نہ شاعر مشرق نہ مصورِ پاکستان، لیکن عشقِ رسولؐ کی مُشکبو تمازت اُس کے ہر قطرہ خوں میں سلگ رہی تھی۔

مزیدخبریں