احتجاجی سیاست : یہ بوجھ بھی عوام نے اٹھانا ہے!!

11:13 AM, 22 Sep, 2026

پاکستان میں آج کل احتجاج کا موسم ہے۔گزشتہ کئی ہفتوں سے جماعت اسلامی پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ حکومت نے اس سے مذاکرات کئے۔ کچھ میل ملاقاتوں کے مناظر بھی میری نگاہ سے گزرے ۔ تاہم جماعت کے احتجاج کے باوجود پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا۔ اب حسب اعلان جماعت اسلامی دارلحکومت اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف بھی 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کا ارادہ رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت پٹرولیم لیوی کو ختم کرئے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے ۔ تحریک انصاف کا مطمع نظر البتہ عمران خان کے لئے ریلیف حاصل کرنا ہے۔ اس تناظر میںپاکستان کے عوام کے لئے خبر یہ ہے کہ وہ سڑکوں کی بندش اور بلا وجہ کی بے آرامی کے لئے تیار ہو جائے۔ 
احتجاج کے ضمن میں ،یہ باتیں ہمیں حفظ ہو گئی ہیں کہ احتجاج اور اختلاف جمہوریت کا حسن ہیں۔یہ عوام کا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ تاہم سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اس احتجاجی سیاست کے چکر سے کب باہر نکلیں گے؟ احتجاج کرنے والی دونوں جماعتوں کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے حوالے سے جواز اور دلائل موجود ہیں۔ جماعت اسلامی کا سیدھا سادا موقف ہے کہ پٹرولیم لیوی وصول کرنا غریب عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔ حکومت اس کو ختم کرے۔ کم و بیش یہی موقف تحریک انصاف کا عمران خا ن کی جیل سے رہائی سے متعلق ہے۔ جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ علاقائی جنگ اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے پاکستان کی مشکلات بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کے بقول حکومت کو بہ امر مجبوری عوام پر یہ بوجھ ڈالنا پڑتا ہے۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے متعلق حکومت کاکہنا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ قانون کے عین مطابق ہے اور ریلیف کیلئے تحریک انصاف عدالتوں سے رجوع کرے۔
اطلاعات ہیں کہ حکومت نے احتجاج کو روکنے اور صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے مختلف اقدامات کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ اسلام آباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی انتظامات کے تحت سیکڑوں کنٹینر رکھے جانے کی اطلاعات ہیں۔اس ضمن میں کچھ پکڑ دھکڑ بھی متوقع ہے۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان کی لاہور سے گرفتاری بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ حکومت نے اس کا یہ جواز پیش کیاہے کہ یہ اقدام امن عامہ سے متعلق خدشات کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ دکھائی دے رہا ہے کہ اس ساری صورتحال سے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھے گا۔ اور نتیجتاً عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گا۔
اب ذرا پاکستان کے داخلی حالات پر نگاہ ڈالیں۔ ایک طرف فوج اور پولیس کے جوان دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں، ہنگو میں چھ فوجی جوانوں کی شہادت، کوہاٹ میں 17 پولیس اہلکاروں کی شہادت سمیت 23 افراد کی ہلاکت،اور بلوچستان میں مسلسل سکیورٹی کارروائیاں اس بات کی غماز ہیں کہ ملک میں سکیورٹی کی صورتحال کس قدر سنگین ہے۔ احتجاج شروع ہو گا تو فوجی اور پولیس کے جوان سکیورٹی معاملات کیساتھ ساتھ سیاسی احتجاج کے حوالے سے بھی ڈیوٹی دیں گے۔ جب بھی احتجاج شروع ہوتا ہے حکومت کو بھاری بھرکم پولیس نفری تعینات کرنا پڑتی ہے۔ پولیس کے جوان دن رات ڈیوٹی دیتے ہیں۔ احتجاج میں شریک سیاسی کارکنوں کی مار کھاتے ہیں اور گالیاںبھی۔ زخمی ہوتے ہیں۔ سر پھٹواتے اور ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔ 
 اگرچہ دونوں جماعتیں عوا م کے نام پر احتجاج کر رہی ہیں۔ لیکن نتیجہ یہ نکلے گا کہ جس طرح مہنگائی کا بوجھ ایک عام شہری کو ڈھونا پڑتا ہے۔ بالکل اس طرح ان احتجاجوں کو بوجھ بھی عوام کو اٹھانا پڑے گا۔ فرض کیجئے کہ سڑکیں بند ہوتی ہیں تو سب سے پہلے عام شہری کا راستہ رکے گا۔ توڑ پھوڑ ہو تی ہے تو بھی عوام کے ٹیکس سے بنی املاک کو نقصان پہنچے گا اور بعد ازاں عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے ہی اس نقصا ن کا ازالہ ہوگا۔ ماضی کے احتجاج میں یہ بھی ہوا کہ احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں نے ایمبولینسوں کو راستہ نہیں دیا۔ کسی شہری کے علاج میں تاخیر ہو ئی۔ کسی کی جان چلی گئی۔ راستوں کی بندش کی وجہ سے طالب علم امتحانی مراکز میں نہیں پہنچ سکے۔ دیہاڑی دار مزدور اپنے کام پر نہیں جا سکے ۔ ان کے بچوں کو بھوکا رہنا پڑا۔ دکاندار ، ریڑھی والا، اپنا کاروبار نہیں کر سکا۔ دارلحکومت میں کسی کام سے آئے شہری خوار ہو تے رہے۔ تو کیا ہم سمجھ لیں کہ اب بھی عام شہری اس صورتحال کے لئے تیار رہیں؟
جماعت اسلامی کے بارے میں کہیں سننے کو ملا کہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سڑکوں کی بندش یا عام شہریوں کو مشکلات میں ڈالنے سے گریز کریں گے۔ البتہ تحریک انصا ف کے طرز احتجاج سے ہم بخوبی آگاہ ہیں۔ اس صورتحال میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک 37 صفحاتی فیصلہ جاری کیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بننے والی کوئی بھی سرگرمی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 
اس صورتحال کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ احتجاج، دھرنوں وغیرہ کے نتیجے میں روزانہ کی بنیاد پر 120 ارب روپے نقصان ہو سکتا ہے۔ خدانخواستہ، حکومت کا اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس سب کا بوجھ ہماری معیشت اور عوام کو ڈھونا پڑے گا۔ ماضی کے دھرنوں وغیرہ میں بھی ملک کو واقعتا اربوں، کھربوں روپوں کا نقصان ہوتا رہا ہے۔ البتہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ احتجاج پرامن رہے اور حکومت کا اندازہ غلط ثابت ہو ۔ دیکھتے ہیں احتجاج کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ 
اس ساری صورتحال میں خیال آتا ہے کہ معلوم نہیں ہم کب سیاسی میچورٹی کا مظاہرہ کریں گے؟یہ بھی معلوم نہیں کہ احتجاج کرنے والی جماعتوں کے احتجاج سے عوام کو کیا فائدہ حاصل ہو گا؟ اس وقت پاکستان ایک مشکل معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ داخلی سیاسی انتشار اور بے یقینی یقینا کاروباری سرگرمیاں متاثر کریں گی۔ پہلے ہی بیرونی سرمایہ کار یہاں آنے کو تیار نہیں۔ یہ سیاسی بے یقینی آنے کا ارادہ باندھتے سرمایہ کار کو بھی یہاں سے بھگا دے گی۔ ان حالات میں تو پاکستانی صنعت کار بھی سرمایہ کاری سے گریزاں رہتا ہے۔ 
کسی کو معلوم نہیں کہ اس سب کا حل کیا ہے۔ یہی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت اس صورتحال کا کوئی حل نکالے۔ لازم ہے کہ وہ احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرے۔ ان کے سوالات اور اعتراضات کے جوابات دے۔ عوام پر پڑے بوجھ کو کم کرے۔ بہرحال مسائل کے حل کی سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ 

مزیدخبریں