عبد العلیم خان : کفایت شعاری کا رول ماڈل 

09:20 AM, 22 Sep, 2026

اسلامی تاریخ مسلمان حکمرانوں کی کفایت شعاری اور سادگی سے بھری پڑی ہے۔ عظیم اسلامی سلطنت کے حکمرانوں بارے تو یہ بھی پڑھنے کو ملا کہ وہ کام کرتے ہوئے اگر زوجہ مخاطب ہو گئیں تو انہوں نے اس لئے چراغ گل کردیا کہ گفتگو ذاتی اور چراغ میں تیل بیت المال کا ہے ۔شاید ہجرتوں کے دکھ اور اپنوں کے قتل سہنے والوں کی آنکھوںمیں بھی ایسے ہی خواب ہوں کہ جن کی تعبیرکیلئے انہوں نے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا تھا ۔اسلامی ریاست کی عظمت اس کے محلات کی بلندی ¾شاہی قافلوں کی طوالت یا حکمرانوں کی ذاتی پُر آسائش زندگیوں سے نہیں بلکہ اُس احساس ِامانت سے متعین ہوتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد کے دلوں میںعوام کیلئے موجود ہو ۔آج پاکستان کے عوام اپنی معاشی تاریخ کے بدترین دورسے گز ر رہے ہیں ۔بچوں کی تعلیم اور بوڑھے ماں باپ کی ادویات کیلئے بھی جوان بیٹوں کی جیب میں کچھ نہیں ہوتا ۔2023ءمیں میری والد ہ کو جب شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹروں نے یہ کہہ کر فارغ کردیا کہ وینٹی لیٹرکیلئے ان کا پروٹوکول نہیں بنتا انہیں کسی پرائیویٹ ہسپتال میں لے جائیں تو مجھے اُس دن سمجھ آ گئی کہ اس ملک میں پروٹوکول کن کا بنتا ہے ۔میں نے بے بسی سے اپنی والدہ کو دنیا سے رخصت ہوتے دیکھا ہے لیکن کیا کرتا کہ بقول غالب ” وہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دھرے دھرے “۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے حالیہ غیر ملکی نجی دورے کے حوالے سے ایوانِ صدر نے 12 ستمبر 2026ءکو باضابطہ وضاحت جاری کی جس کے مطابق اُن کا دورہ مکمل طور پر نجی تھااور اس کے تمام اخراجات صدر نے ذاتی طور پر برداشت کیے جبکہ طیارہ بھی ذاتی طور پر چارٹر کیا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق طیارے کے عملے، پارکنگ، قیام اور دیگر متعلقہ اخراجات بھی صدر نے خود ادا کیے۔ جن دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نوازصاحبہ کی برطانیہ کے دورہ پر سرکاری جہاز کے استعمال اور سرکاری خزانے سے رقوم خرچ کرنے کی باز گشت سنائی دے رہی تھی ¾ اتفاق سے انہی دنوں ایک وفاقی وزیر حکومت پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے یورپ کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے ناروے کے کنگ ہرالڈ پنجم کی 10 ستمبر کو آخری رسومات میں صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے شرکت کی۔یہ امر خوشگوار حیرت کا باعث ہے کہ وہاں شرکت کرنے والے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان جو ایک سیاسی جماعت کے مرکزی اوربانی صدر بھی ہیں انہوں نے اس سرکاری دورے کے لئے بھی ذاتی جہاز استعمال کیا اور انہوں نے اس خالص سرکاری دورے میں کسی قسم کے حکومتی فنڈز کا استعمال نہیں کیا۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ گزشتہ اڑھائی سال کی حکومت میں مختلف ممالک کے دوروں کے دوران بھی وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ٹی اے ڈی اے کی مد میں کوئی پیسے وصول نہیں کیے اور ہمیشہ اپنی جیب سے سفری اخراجات کرتے رہے ۔یہاں تک کہ اکثر اوقات حکومتی افسران کے اخراجات بھی برداشت کرتے ہیں جبکہ انہوں نے کوئی سرکاری گاڑی بھی نہیں لی اور نہ ہی تنخواہ نامی کسی پرندے سے واقف ہیں ۔ وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے گزشتہ اڑھائی برسوں میں چین، ایران، آذر بائیجان، روس، قازقستان، ترکیہ،ازبکستان ¾چین اور ترکمانستان سمیت 20 سے زائد ممالک کے سرکاری دوروں میںقومی خزانے کا کبھی ایک پیسہ بھی استعمال نہیں کیا ۔ گھوڑوں کے منہ سے سنا ہے کہ وزیراعظم ہا¶س بھی ان کے غیر ملکی دوروں کی فوری منظوری خوشی کے ساتھ دیتا ہے کیونکہ اس میں سرکاری فنڈز کا استعمال نہیں ہوتا، بلکہ دو مرتبہ تو وزیراعظم کے دورے میں وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے سرکاری وفد سے پہلے متعلقہ ملک اپنے جہاز سے جانے کو ترجیح دی۔اہم بات یہ ہے کہ اُن کے آفس میں پیش کی جانے والی چائے اور دوسرے لوازمات پر اٹھنے والے اخراجات کے علاوہ ¾ کوئی سرکاری گاڑی یا سرکاری سکیورٹی اُن کے ساتھ نہیں ہوتی بلکہ یہ سب کچھ اُن کی اپنی سخاوتی طبیعت اورمزاج کا حصہ ہے ۔مجھے یاد ہے کہ جب وہ پہلی بارپنجاب میںآئی ٹی کے وزیر بنے تھے اُس وقت بھی اُن کا یہی وتیرہ تھا۔یہ سب کچھ تووہ ہے جو اُن کا قومی خزانے سے خرچ کرنے کا حق ہے لیکن وہ اس حق کو استعمال نہیں کرتے جبکہ دوسری طرف کتنے وفاقی یاصوبائی وزیر ہیں جنہوں نے بے آسرا بچیوں کیلئے اپنا گھر ¾ خصوصی بچوں کیلئے سن رائزنگ سکول ¾ان گنت صاف پینے کے پانی کے فلٹر پلانٹس ¾ تیس سے زائد ڈسپنسریاں جہاں ایم بی بی ایس ڈاکٹر بیٹھتے ہیں اورمعائنے کے ساتھ ادویات فری فراہم کرتے ہیں ¾ایک بڑی ٹیسٹ لیبارٹری سے عبد العلیم خان فاﺅنڈیشن کا ایم او یو سائن ہے جہاں مریضوں کے ٹیسٹ بھی کرائے جاتے ہیں ¾ ہر سال رمضان کے مہینے میں جرمانے کی سزائیں کاٹنے والے قیدیوں کا جرمانہ ادا کرکے انہیںعید پربیوی بچوں کے درمیان بھیجنا ¾ شوکت خانم میں آج بھی اُن کے والد صاحب کے نام کی وارڈ اس موذی مرض کے مریضوں کے اخراجات برداشت کررہی ہے ۔لاہورکے ہسپتالوں میں ڈائلیسز سیٹنر کا قیام ¾ اپنے ملازمین کو ہر سال حج اورعمرے پر بھیجنا اورپھر بیمار اور سینئر سٹیزن کی مالی معاونت ¾ موجودہ قومی اور سابق صوبائی حلقے میں بچیوں کے سکول میں فلٹر پلانٹ اورجدید واش روم تعمیرکیے جا رہے ہیں ۔اُن کی والدہ کے نام پر گوالمنڈی لاہورمیں اُن کے آبائی گھرمیں قائم شدہ ووکیشنل سکول ¾ ایسے لاتعداد انسان دوستی کے کام ہیں جن کے ذکر کو عبد العلیم خان کرنا مناسب نہیں سمجھتے سومیں بھی لکھنے سے گریز کررہا ہوں۔ کیا پاکستان کے کسی بھی منتخب قومی یا صوبائی ایوان میں ایک بھی ممبرایساموجود ہے جویہ سب کام کرنے کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کرکہے کہ میں دنیا کی ہر عدالت میں پیش ہونے کیلئے بھی تیار اور عوام کے سامنے بھی جوابدہ ہوں۔ عبدالعلیم خان یا اُن کا کوئی سیاسی ساتھی کبھی یہ نہیں کہتاکہ ”تم ہوتے کون ہو پوچھنے والے ؟“۔
وسائل تو اللہ تعالیٰ نے بہت سے لوگوں کو دے رکھے ہیں اورجن کو نہیں دیئے انہوں نے اپنی آخرت خراب کرکے اکھٹے کر لیے ہیں لیکن انہیں عام آدمی پر خرچ کرنے کا حوصلہ اللہ نے نہیں دے رکھا ۔عبد العلیم خان فاﺅنڈیشن بانٹتی ہے مانگتی نہیں اورمیں سمجھتاہوں کہ علم اور دولت سزا کے طور پرمل جاتے ہیں لیکن علم اوردولت بانٹنے کی توفیق اللہ جسے بھی دیتا ہے انعام کے طورپر ہی دیتا ہے ۔ آج جب سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب تند و تیز سوالات کی زد میںہیں اوراُن کے مبہم اور انتہائی کمزور جوابات انہیں مزید جوابدہ بنا رہے ہیں۔ تو ایسے میں کیا وفاقی عبد العلیم خان کوئی دیومالائی کردار ہے؟ کوئی افسانوی ہیرو ہے؟ یا پھر ایک قابل تقلید سیاسی رہنما یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے جو سرکاری خزانے کو لا ولد کا ترکہ سمجھ رہے ہیں۔

مزیدخبریں