سیاست میں اختلاف کا حق اپنی جگہ، مگر دارالحکومت کو تباہ کرنے اور لاشوں کی بات کسی جمہوری جدوجہد کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں سیاسی اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور اپوزیشن میں جاتی ہیں، احتجاج ہوتے ہیں، دھرنے دیئے جاتے ہیں اور حکومتوں کے خلاف نعرے بھی لگتے ہیں۔ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ اختلاف کی گنجائش موجود رہے۔ لیکن اختلاف اور ریاست سے تصادم کے درمیان ایک لکیر ہوتی ہے جسے عبور کرنے کے بعد معاملہ محض سیاست نہیں رہتا۔
20 ستمبر کو مردان میں تحریک انصاف کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے 27 ستمبر کے اسلام آباد احتجاج کے حوالے سے انتہائی سخت زبان استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ ”اسلام آباد کو ہم سومنات بنائیں گے“، ”اسلام آباد کو تباہ کر دیں گے“ اور یہ بھی کہا کہ پہلے لاشیں اٹھائی تھیں، اب لاشیں اٹھائیں گے اور نئے لوگ آ جائیں گے۔ ان کے مطابق کارکن مختلف راستوں سے اسلام آباد پہنچیں گے۔ یہ الفاظ سن کر ایک عام پاکستانی کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کسی سیاسی جماعت کے ذمہ دار رہنما کی زبان ہو سکتی ہے؟۔ دشمن بھی ایسی زبان بولے تو ریاست خاموش نہیں رہتی۔ فرض کیجیے کسی دشمن ملک کا کوئی ذمہ دار شخص پاکستان کے دارالحکومت کو تباہ کرنے، شہر کو میدان جنگ بنانے یا انسانی جانوں کے ضیاع کی بات کرے تو پاکستان اسے محض سیاسی بیان سمجھ کر نظر انداز کرے گا؟ یقیناً نہیں۔ ریاست اسے قومی سلامتی اور امن و امان کے تناظر میں دیکھے گی۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کے اندر موجود ایک بڑی سیاسی جماعت کا ذمہ دار رہنما ایسی زبان استعمال کرے تو اس بیان کو بھی محض سیاسی جوش یا جلسے کی تقریر کہہ کر بھلا دینا چاہیے؟۔
اسلام آباد کسی حکومت، جماعت یا سیاسی رہنما کی ذاتی ملکیت نہیں۔ یہ پاکستان کا دارالحکومت ہے، وفاق کی علامت ہے اور اس شہر میں لاکھوں لوگ رہتے اور روزگار کماتے ہیں۔ یہاں پارلیمنٹ ہے، عدالتیں ہیں، سفارت خانے ہیں، سرکاری ادارے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے شہری بستے ہیں۔ اس لیے اسلام آباد کو ”سومنات“ بنانے یا تباہ کرنے کی بات صرف حکمران جماعت کے خلاف بیان نہیں بنتی۔ یہ سوال شہریوں کے امن، کاروبار، روزگار اور ریاستی نظم سے بھی جڑ جاتا ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا دارالحکومت ہے اور اسے نقصان پہنچانے کے عزائم برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر احتجاج واقعی پرامن ہے تو پھر ایسی زبان کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اگر مقصد صرف حکومت کے خلاف سیاسی احتجاج ہے تو پھر دارالحکومت کو تباہ کرنے کی بات کس سیاسی مقصد کو حاصل کرتی ہے؟۔
جمہوریت میں حکومت تبدیل کرنے کا راستہ ووٹ ہے، آئینی جدوجہد ہے، پارلیمان ہے اور عوامی رائے ہے۔ سڑک پر احتجاج بھی جمہوری حق ہو سکتا ہے، لیکن اس احتجاج کی آڑ میں تشدد، توڑ پھوڑ یا شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ اب رعایت نہیں، قانون کی یکساں حکمرانی ضروری ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال تحریک انصاف کی قیادت سے بھی ہے۔ کیا پارٹی کی مرکزی قیادت جنید اکبر کے ان الفاظ سے اتفاق کرتی ہے؟ اگر نہیں کرتی تو پھر اسے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہیے کہ اسلام آباد کو نقصان پہنچانے، لاشوں کی سیاست کرنے یا ریاستی و عوامی املاک کو تباہ کرنے کی کوئی گنجائش تحریک انصاف کی سیاست میں نہیں اور اگر پارٹی ایسے بیانات سے لاتعلقی ظاہر کرتی ہے تو پھر یہ لاتعلقی صرف پریس ریلیز تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ عملی طور پر بھی نظر آنی چاہیے۔
جنید اکبر نے بعد میں اپنی وضاحت میں کہا کہ ان کی مکمل تقریر نشر کی جائے، جہاں ان کی کوئی بات غلط ہو وہ معذرت کے لیے تیار ہیں، اور پاکستان انہیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ یہ وضاحت بھی ریکارڈ کا حصہ ہے اور ذمہ دار صحافت کا تقاضا ہے کہ اسے بھی سامنے رکھا جائے۔
یہاں ریاست کو بھی ایک واضح پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ سیاسی جماعتیں سب کے لیے ایک ہی قانون کے تحت ہوں۔ نہ کسی جماعت کو سیاسی وابستگی کی وجہ سے خصوصی رعایت ملے اور نہ کسی جماعت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔ اگر تحقیقات اور قانونی عمل کے نتیجے میں یہ ثابت ہو کہ کسی جماعت کی سرگرمیاں آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز کر رہی ہیں تو پھر ریاست کے پاس موجود قانونی راستوں، بشمول جماعت کے خلاف پابندی یا دیگر آئینی کارروائی، کا جائزہ لینے میں بھی کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ فیصلہ بھی ثبوت، قانون اور آئینی اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے، کسی سیاسی جماعت کے خلاف محض غصے یا جذبات کی بنیاد پر نہیں۔ کیونکہ آج اگر کسی جماعت کے خلاف قانون کو نظر انداز کیا گیا تو کل یہی مثال کسی دوسری جماعت کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔
تحریک انصاف اگر خود کو ایک بڑی سیاسی قوت سمجھتی ہے تو اسے بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کی سیاست صرف جذباتی نعروں اور سڑکوں کی طاقت پر نہیں بلکہ آئینی اور جمہوری عمل پر قائم ہے۔ کیونکہ سیاست میں حکومتیں ختم ہوتی ہیں، پارٹیاں اقتدار سے باہر ہوتی ہیں، رہنما تبدیل ہوتے ہیں، مگر ملک باقی رہتا ہے۔
پاکستان کسی ایک جماعت کا نہیں۔ اسلام آباد کسی سیاسی جماعت کا نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے شہری کسی سیاسی تصادم کے ایندھن نہیں ہیں۔ اس لیے 27 ستمبر سے پہلے ہر سیاسی رہنما کو سوچنا ہوگا کہ وہ اپنے کارکنوں کو ووٹ اور دلیل کی طرف لے جا رہا ہے یا تصادم اور لاشوں کی طرف۔ اختلاف ضرور کریں، حکومت کے خلاف احتجاج ضرور کریں، اپنی سیاسی طاقت ضرور دکھائیں، لیکن پاکستان کے دارالحکومت کو میدان جنگ بنانے کی بات نہ کریں۔ ریاست کو بھی اب واضح کرنا ہوگا کہ قانون سب کے لیے ایک ہے۔ جو سیاسی جدوجہد آئین کے اندر ہے، اسے مکمل سیاسی آزادی ملنی چاہیے، لیکن جو عمل قانون توڑتا ہے، تشدد کی طرف جاتا ہے یا شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالتا ہے، اس کے ساتھ کسی جماعت کی وابستگی دیکھے بغیر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ یہی ریاست کی مضبوطی ہے اور یہی جمہوریت کی اصل حفاظت بھی۔
27 ستمبر احتجاج پر امن و امان خدشات
09:17 AM, 22 Sep, 2026