ہم نے طے کیا تھا کہ کسی بھی ہم رکابی کے دوران ، کسی بھی سفر میں طے شدہ اصول فراموش نہیں کئے جائیں گے۔ یہ کہ کسی پانچ ستارہ ہوٹل میں، برلب دریا کسی ڈھابہ پر، کنارہ راہ گزر پڑی چارپائی پر ، یا پھر لنگر کے لئے انتظار میں لگی قطار میں ، یا کسی کلب کے مرکزی ڈائنگ ٹیبل پر ، کہیں بھی کھانے کے دوران تصویر نہیں بنائی جائے گی کہ بنی ہوئی تصویر یا ویڈیو کلپ آپ کا نہیں رہتا اور منہ کھولے لقمہ چبانے والے کو تو پتا ہی نہیں ہوتا کہ کون کس زاویے سے تمہیں اپنے ریکارڈ کا حصہ بنا رہا ہے اور کتنا عجیب لگتا ہے کہ سامنے بے ترتیب پلیٹیں، ادھ کھائی روٹیاں ، نامعلوم جانور کی چوسی ہوئی ہڈیاں ، ٹین پیک کے چپکے ہوئے ڈبے ، استعمال شدہ ٹشو پڑے ہوں اور آپ عالمی ادب کی نقل اتارتے اردومصنفین کے مستعار جملوں کے حوالے دے رہے ہوں ۔
یہ بھی طے ہوا تھا کہ اپنی گاڑی کو شو روم سے خریدتے ہوئے ، غباروں کے ہاروں کے درمیان کھڑے ہو کر منیجر سے چار فٹی چابی کا سیمپل پکڑتے ہوئے تصویر نہیں بنائی جائے گی ۔ گاڑی چھوٹی ہو یا بڑی اسے تصویری نمائش کا حصہ نہیں بنایا جائے گا دس از مائی نیو ڈرائیو کا سلوگن کم از کم ہمارے درمیان تو نہیں ہوگا۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ نئی کوٹھی ، اپنے پلازے یا فارم ہاﺅس کو مشتہر کرنے کے لئے کبھی کوئی پوسٹ نہیں لگائی جائے گی ۔
ہم میں سے جتنے بھی سرجن ڈاکٹر ہیں وہ مریض کا پیٹ چاک کرکے وہاں سے نکلنے والی دو سو گرام کی رسولی کی ویڈیو نہیں پوسٹ کرے گا اور جو وکیل ہیں وہ اپنے جیتے ہوئے کیسز کے عدالتی آرڈر کی تصویر لگا کر الحمدللہ جج صاحب نے میرے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے تین ہزار گرام آئس و چرس کے ملزم کی ضمانت منظور کر لی، نہیں لکھیں گے ۔
ہم صرف اچھا شعر ، شاندار جملہ ، تخلیقی نثر ، بہترین افسانہ ، شاندار ناول ، ریسرچ ورک ، سائنسی مواد اور اچھے دوستوں سے ملاقاتوں کو بیان بھی کریں گے اور تصویر بھی کیونکہ سوشل میڈیا کی دو دھاری تلوار نے بچوں اور نوعمر لڑکوں کو شارٹ کٹ پر لگا کر محنت اور تحقیق سے دور کر دیا ہے ۔ نئی نسل جب یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز سے سنتے ہیں کہ وہ ان پڑھ ہیں مگر ہر سہولت ان کے پاس ہے تو وہ اپنے بنیادی مقصد سے دور ہو جاتے ہیں ۔ وہ یہ تو جانتے ہی نہیں کہ یو ٹیوبر اور ٹک ٹاکر سوشل میڈیا سے کچھ نہیں کماتے بلکہ یہ اس سائبر بزنس کی آڑ میں بدبو دار دھندوں میں ملوث ہو کر اپنے کچے ذہنوں والے فالورز کو برباد کر رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ سمجھدار ممالک نے بچوں پر سوشل ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ہم نے طے کیا تھا کہ ....مگر دو روز پہلے ہمارے ایک دوست نے اپنے کولیگ کی ایک ایسی تصویر پوسٹ کر دی ہے جس میں وہ جمائی لیتے ہوئے بدحال ہے اور ہاتھ میں بکرے کی چانپ ہے ۔ تصویر تو ڈیلیٹ کرا دی گئی مگر وہ دوست اپنے طے شدہ اصولوں سے انحراف کی پاداش میں بلاک ہے ۔
ہم اپنے دوستوں کے گھر جانے والے راستوں کو کالونی ، بلاک ، گلی نمبر یا ہاﺅس کی نیم پلیٹ سے تلاش کرتے تھے اور اپنے ہدف پر آسانی سے پہنچ جاتے تھے مگر یہ لوکیشن کتنی بار سیدھے راستوں سے ہٹا کر غلام گردشوں میں ڈال دیتی ہے اور ہم کالونی سے نکل کر ہسپتال یا تھانے میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ لوکیشن اوپر سے راستے دیکھ رہی ہوتی ہے اور ہم نے سامنے جانا ہوتا ہے ۔ جدت کی آڑ میں دماغ کا کام ختم ہو کر رہ گیا ہے ، یعنی ذہانت کو چھوڑ کر ہم مصنوعی ذہانت سے اپنے مسائل کا حل تلاش کرتے ہیں ۔ اسی لئے ہماری ہنسی بھی مصنوعی ہے اور آنسو بھی جعلی ۔ مصنوعی ذہانت نے چونکہ دماغ کو متروک کر دیا ہے اس لئے دماغ کے خلیے سکڑ کر رہ گئے ہیں۔ اسی ضمن میں ایک خبر بھی ہمارے موقف کی تائید کرتی ہے ۔امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا کی معروف کمپنی میٹا کو بچوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے اور انہیں انٹرنیٹ کے خطرات سے صحیح طرح نہ بچانے کے جرم میں 567 ملین ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے اور اپنے پلیٹ فارمز میں اہم تبدیلیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کمپنی نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچانے کی ذمہ دار ہے اور اس نے اپنے ایپس کے ذریعے بچوں کی زندگیوں پر برا اثر ڈالا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ سانتا فے کے جج برائن بیڈشائیڈ نے سنایا۔ انہوں نے ڈیموکریٹ اٹارنی جنرل رال ٹوریز کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسی چیزیں بنائیں جن کی وجہ سے بچوں کو ان کی لت لگ گئی اور وہ خطرات کا شکار ہوئے۔ اٹارنی جنرل نے میٹا پر الزام لگایا تھا کہ اس نے بچوں کو نقصان دہ چیزوں اور جنسی استحصال سے بچانے کے لیے ضروری قدم نہیں اٹھائے۔ جرمانے کی رقم بچوں کے علاج اور ان کی دیکھ بھال کی سہولتوں پر خرچ کی جائے گی جبکہ باقی رقم اگلے 5 سال میں بیماریوں سے بچاﺅ، آگاہی مہمات اور جانچ پڑتال کے پروگراموں پر خرچ ہو گی۔
اس کے علاوہ عدالت نے کمپنی کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے لیے اپنے ایپ پر نئی پابندیاں اور اقدامات شامل کرے۔ دوسری طرف میٹا کمپنی نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ مقدمہ نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راول ٹوریز نے دائر کیا تھا۔ان کا مو¿قف تھا کہ میٹا نے اپنے کاروباری مفادات کو بچوں کی حفاظت پر ترجیح دی، جس کے باعث نوجوانوں کی ذہنی صحت متاثر ہوئی۔
مصنوعی ذہانت کے چرچے اپنی جگہ مگر اصلی دماغ کی تباہی کیوں نظر انداز کی جا رہی ہے ۔
مصنوعی ذہانت بمقابلہ اصلی ذہانت
09:19 AM, 22 Sep, 2026