شاذیہ مفتی کا کارنامہ

09:18 AM, 22 Sep, 2026

شاذیہ مفتی کے کارنامے پر بات کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ سے شاذیہ مفتی کا تعارف بھی کرا دیا جائے۔ ان کا سیدھا سیدھا ادبی تعارف تو یہ ہے کہ وہ ایک شاعرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ اس سے تھوڑا سا زیادہ تعارف یہ ہے کہ وہ حلقہ ارباب ذوق لاہور کی سیکریٹری بھی رہ چکی ہیں اور یہ ایک خوبصورت اتفاق ہے کہ مجھے ان کے ساتھ حلقے کے جوائنٹ سیکریٹری کے طور پر کام کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے۔ وہ ایک ایسی خاتون ہیں جو اگر کچھ ٹھان لے تو اسے حاصل کرنے کے لیے ہر حد تک چلی جاتی ہے۔ 
شاذیہ مفتی کے اس مختصر سے تعارف کے بعد بات کرتے ہیں ان کے اس کارنامے پر جو ہمارا آج کا موضوع ہے۔ اس کارنامے کے بارے میں جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں دو اور چیزوں کے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ علم ہو۔ وہ دو چیزیں ہیں حلقہ ارباب ذوق اور قائد اعظم لائبریری۔
حلقہ ارباب ذوق کے بارے میں اگر یہ لکھا جائے کہ وہ اردو ادب کی ایک معتبر تنظیم ہے تو بات شاید عام آدمی کی سمجھ میں نہ آئے کہ ایک تو ملک بھر میں ادب کی اور بھی بہت سی تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور دوسرا یہ کہ عام لوگوں کی نظر میں شاعر اور ادیب کا کا تصور بھی کچھ عجیب سا ہے لیکن اگر حلقہ ارباب ذوق کا تعارف یہ کہہ کر کرایا جائے کہ یہ ادب کی ایک ایسی تنظیم ہے کہ قیوم نظر، یوسف ظفر، شہرت بخاری، انتظار حسین، منیر نیازی، انجم رومانی، شہزاد احمد، منو بھائی، مستنصر حسین تارڑ، امجد اسلام امجد، اجمل نیازی، یونس جاوید اور اصغرندیم سید جیسے جانے پہچانے شاعر اور ادیب اس کے سیکریٹری یا جوائنٹ سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ اس تنظیم کے ہفتہ وار اجلاس پاک ٹی ہاﺅس میں ہوتے ہیں اور یہ وہی پاک ٹی ہاﺅس ہے جسے دنیا بھر میں اردو ادب کے ایک استعارے کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہ جگہ حلقہ ارباب ذوق کی توانا روایت سے منسلک ہے۔
جہاں تک قائد اعظم لائبریری کا تعلق ہے تو اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس کے نام ہی سے لگا لیجیے کہ اس لائبریری کو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی 
جناحؒ کے خطاب سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک لائبریری نہیں بلکہ پنجاب بھر کی لائبریریوں کی سردار ہے۔ اگر کہا جائے کہ ملک بھر کی اعلیٰ ترین لائبریریوں میں سے ایک ہے تو غلط نہ ہو گا۔ باغِ جناح لاہور میں قائم اس سرکاری لائبریری میں محققین آتے ہیں اور مختلف موضوعات پر تحقیق کرتے ہیں جبکہ سی ایس ایس کا امتحان دینے والے بھی اس جگہ اپنے مطالعے میں اضافہ کرتے اور علم کی پیاس بجھاتے ہیں۔ پنجاب کی لائبریریز کے ڈائریکٹر جنرل کا دفتر بھی اسی میں قائم ہے۔ آج کل ڈی جی لائبریریز کے عہدے پر کاشف منظور صاحب فائز ہیں جو خود بھی ایک قابل بیوروکریٹ اور صاحب مطالعہ انسان ہیں۔
حلقہ ارباب ذوق اور قائد اعظم لائبریری کا مختصر تعارف تو ہو گیا لیکن علم و ادب سے تعلق ہونے کے باوجود ان دونوں عظیم الشان اداروں میں تعلق نہ ہونے کے برابر تھا۔ پاک ٹی ہاﺅس آنے جانے اور حلقے کے اجلاسوں میں شرکت کرنے والے ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے تھے کہ حلقہ اگر اتنی بڑی ادبی روایت ہے تو اس کی تاریخ کہاں ہے، ریکارڈ کہاں ہے کیونکہ پاک ٹی ہاﺅس میں حلقے کے حوالے سے کوئی خاص معلومات دستیاب نہیں تھیں اور حلقے کا سارا ریکارڈ بھی بکھرا ہوا تھا۔ جو جو شخص بھی سیکریٹری بنتا رہا، اس کے دور میں جو ریکارڈ مرتب ہوتا رہا، وہ یا تو اسی کے پاس رہا، یا پھر تلف ہو گیا بلکہ بعض اوقات تو حلقے کو مختلف وجوہ کی بنا پر خود بھی در بہ در ہونا پڑا۔ دوسری جانب اردو ادب کے حوالے سے تحقیق کے لیے قائد اعظم لائبریری کا رخ کرنے والوں کو بھی حلقے اور اس کی تابناک تاریخ کے حوالے سے ہمیشہ تشنگی کا سامنا کرنا پڑا کہ لائبریری میں اس سے متعلق مواد ہی موجود نہ تھا۔
شاذیہ مفتی نے گزشتہ سال اپنی سیکریٹری شپ کے دور میں یہ سوچا کہ کیوں نہ کچھ ایسا انتظام کیا جائے کہ حلقہ ارباب ذوق کی تاریخ کسی ایک جگہ محفوظ ہو جائے تاکہ لوگوں تک حلقے کا تعارف بھی پہنچتا رہے اور لوگ اس ریکارڈ سے استفادہ بھی کرتے رہیں۔ انھوں نے یہ سوچا، ڈاکٹر امجد طفیل سمیت اپنے چند رفقائے کار سے اس پر مشاورت کی اور ڈی جی لائبریریز کو اس مقصد کے لیے قائد اعظم لائبریری میں ایک گوشہ فراہم کرنے کے حوالے سے خط لکھ دیا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے ڈی جی لائبریریز کاشف منظور علم و ادب سے شغف رکھنے والے انسان ہیں، انھوں نے فوراً ہامی بھر لی جس کے بعد حلقے اور قائد اعظم لائبریری کے درمیان لائبریری میں حلقے کا ایک گوشہ قائم کرنے کا ایم او یو طے پا گیا۔ 
اب اگلا مرحلہ تھا سابق سیکرٹریز کی تصاویر اکٹھی کرنا اور گزشتہ ستاسی سال کا ریکارڈ جمع کرنا۔ یہ آسان کام نہ تھا جبکہ شاذیہ مفتی کا اسی دوران سیکریٹری شپ کا سیشن بھی ختم ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود وہ مسلسل اس منصوبے پر کام کرتی رہیں۔ اس دوران انھیں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں ان کا رفیق کار ہونے کے حوالے سے اس کا گواہ ہوں لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر اس کشتی کو کنارے پہنچا کر ہی دم لیا۔
شاذیہ مفتی کی کوششوں سے قائد اعظم لائبریری میں حلقہ اربابِ ذوق کے خصوصی گوشے کا دو روز قبل ایک پروقار تقریب میں افتتاح کر دیا گیا۔ حلقے کے اس خصوصی اجلاس کی صدارت ممتاز ڈراما نگار اصغر ندیم سید نے کی جبکہ اجوکا تھیٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد محمود ندیم اور نامور ادیب اور محقق ڈاکٹر آغا سلمان باقر مہمان خصوصی تھے جبکہ موجودہ اور متعدد سابق سیکریٹریز اور جوائنٹ سیکریٹریز نے بھی اظہار خیال کیا۔ آخر میں تمام شرکا کو اردو ہال کا دورہ بھی کرایا گیا جس میں حلقہ ارباب ذوق کا خصوصی گوشہ قائم کیا گیا ہے۔ تین سابق خواتین سیکریٹریز طینوش فردوس، فرح رضوی اور شاذیہ مفتی نے فیتہ کاٹ کر گوشے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس گوشے میں حلقے کے تمام سابق سیکریٹریز اور جوائنٹ سیکرٹریز کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں جن میں اوپر بیان کیے گئے مشاہیر سمیت شعر و ادب کی بہت سی اہم شخصیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حلقے کے اجلاسوں کی کارروائیوں اور سیکریٹریز کی لکھی ہوئی اہم کتابوں سمیت بہت سا ریکارڈ بھی رکھا گیا ہے۔
قائد اعظم لائبریری میں حلقہ ارباب ذوق کے خصوصی گوشے کا قیام شاذیہ مفتی کا وہ تاریخ ساز کارنامہ ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا اور یہ بات صرف میں نہیں کہہ رہا بلکہ تقریب میں شرکت کرنے والے تمام مشاہیر نے کہی اور دل کی گہرائیوں سے کہی۔

مزیدخبریں