خلیجی جنگ کا معاشی بوجھ: پاکستان پر بڑھتا دبائو

09:17 AM, 22 Sep, 2026


توانائی کا بحران صرف پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھاتا، یہ ریاست کی ترجیحات، صنعت کی رفتار اور عام آدمی کی زندگی، تینوں کا امتحان لیتا ہے۔ جنگ کہیں بھی ہو، اس کی سب سے پہلی خبر بارود دیتا ہے، مگر اس کا سب سے طویل حساب معیشت لکھتی ہے۔ خلیج میں بڑھتی کشیدگی بظاہر پاکستان کی سرحدوں سے دور ہے، لیکن اس کے دھماکوں کی بازگشت ہمارے پیٹرول پمپ، بجلی کے بل، کارخانوں، بازاروں اور گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ دنیا کے نقشے پر فاصلہ موجود ہے، معیشت کے نقشے پر نہیں۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کی معاشی گاڑی بڑی حد تک درآمدی ایندھن پر چلتی ہے۔ تیل، ڈیزل اور ایل این جی کی عالمی قیمت بڑھتی ہے تو پاکستان کو وہی مقدار خریدنے کے لیے زیادہ ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ یوں خلیجی بحران صرف توانائی کی دستیابی کا مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ زرمبادلہ، روپے کی قدر، مہنگائی، صنعتی پیداوار اور حکومتی بجٹ کا مشترکہ بحران بن جاتا ہے۔
تیل کی قیمت کبھی تنہا نہیں بڑھتی۔ وہ اپنے ساتھ ٹرانسپورٹ کا کرایہ، بجلی کی پیداواری لاگت، کھاد، زرعی مشینری، فیکٹریوں کا خرچ اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی اوپر لے جاتی ہے۔ پیٹرول پمپ پر بڑھنے والا ایک روپیہ بازار تک پہنچتے پہنچتے کئی شکلیں بدل لیتا ہے۔ کبھی وہ سبزی کے نرخ میں شامل ہوتا ہے، کبھی سکول وین کے کرائے میں، کبھی بجلی کے بل میں اور کبھی کسی مزدور کی ختم ہوتی قوتِ خرید میں۔ یہی وجہ ہے کہ توانائی کا بحران امیر اور غریب کو برابر متاثر نہیں کرتا۔ صاحبِ استطاعت شخص مہنگا پیٹرول خرید کر اپنی گاڑی چلاتا رہتا ہے، لیکن محدود آمدنی والا شہری سفر کم کرتا، خوراک میں کمی لاتا اور بچوں کی ضرورتیں مو¿خر کرتا ہے۔ مہنگائی بظاہر سب کے لیے ایک ہی شرح سے بڑھتی ہے، مگر اس کا درد آمدنی کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت نے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی، غیرضروری غیرملکی دوروں اور سرکاری عشائیوں کو محدود کرنے جیسے 
کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلے بروقت اور ضروری ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کفایت شعاری صرف سرکاری گاڑی کا پیٹرول کم کرنے کا نام ہے، یا ریاستی نظام کی پوری ترجیح بدلنے کا؟ اگر ایک طرف سرکاری گاڑیوں کا ایندھن کم کیا جائے اور دوسری جانب خسارے میں چلنے والے ادارے، غیرضروری مراعات، توانائی کی چوری اور کمزور انتظامی ڈھانچہ اسی طرح برقرار رہے تو بچت کا اعلان معاشی اصلاح کے بجائے علامتی کارروائی بن کر رہ جاتا ہے۔ سرکاری عشائیے منسوخ کرنے سے ایک پیغام ضرور جاتا ہے، مگر معیشت صرف پیغامات سے نہیں، مستقل فیصلوں سے سنبھلتی ہے۔
حکومت کے سامنے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ عالمی قیمتوں کا مکمل بوجھ فوراً عوام پر ڈالنے کے بجائے اسے منصفانہ انداز میں تقسیم کرے۔ عمومی سبسڈی بظاہر ہر شخص کو فائدہ دیتی ہے، لیکن حقیقت میں زیادہ ایندھن استعمال کرنے والا طبقہ اس کا بڑا حصہ لے جاتا ہے۔ اس لیے ریلیف موٹر سائیکل، رکشہ، چھوٹی گاڑی، پبلک ٹرانسپورٹ اور کم آمدنی والے خاندانوں تک محدود اور براہِ راست ہونا چاہیے۔ تاہم کسی بھی ریلیف سکیم کی کامیابی کا دارومدار آسان رجسٹریشن، شفاف اہلیت اور بروقت ادائیگی پر ہوگا۔ اگر شہری کئی دن پورٹل، کاغذات اور تصدیق کے چکر میں پھنسے رہیں تو اعلان موجود رہتا ہے، ریلیف غائب ہوجاتا ہے۔ اس بحران کا دوسرا رخ صنعت ہے۔ مہنگی بجلی اور گیس سے پاکستانی مصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس سے برآمدکنندگان عالمی منڈی میں مقابلے کی صلاحیت کھونے لگتے ہیں۔ کارخانہ اپنی قیمت بڑھائے تو خریدار کم ہوجاتے ہیں؛ قیمت نہ بڑھائے تو منافع ختم ہوتا ہے۔ دونوں صورتوں میں سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات متاثر ہوتی ہیں۔ یوں مہنگی توانائی پہلے صنعت کی رفتار کم کرتی ہے اور پھر قومی آمدنی پر ضرب لگاتی ہے۔ پاکستان کو چین سے کرنسی سوائپ میں اضافے، امریکا سے مالی سہولت اور عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون کی ضرورت پڑ سکتی ہے، لیکن قرض یا سوائپ بحران کے اثرات مو¿خر کر سکتا ہے، ختم نہیں۔ ادھار کے ڈالر سے تیل خریدا جاسکتا ہے، توانائی کی خودمختاری نہیں۔ جب تک ہماری معیشت درآمدی ایندھن کے ہر جھٹکے پر ہلتی رہے گی، ہر علاقائی جنگ ہمارے بجٹ کی نئی شرائط طے کرتی رہے گی۔ اس صورتِ حال کا حل کسی ایک بڑے اعلان میں نہیں بلکہ کئی مربوط فیصلوں میں ہے۔ سرکاری عمارتوں کو مرحلہ وار شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے، شہروں میں قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ بڑھائی جائے، صنعت کو توانائی بچانے والی ٹیکنالوجی کے لیے آسان فنانسنگ دی جائے اور بجلی و گیس کی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ طویل مدت کے توانائی معاہدوں، متبادل سپلائرز اور مناسب سٹرٹیجک ذخائر کے ذریعے عالمی منڈی کے اچانک جھٹکوں سے تحفظ حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
پاکستان میں توانائی کی بحث اکثر نئے منصوبے لگانے تک محدود رہتی ہے، حالاں کہ سب سے سستی توانائی وہ ہے جسے ضائع ہونے سے بچالیا جائے۔ ناقص ٹرانسمیشن، پرانے صنعتی آلات، غیرموثر سرکاری عمارتیں اور ٹریفک میں جلتا ہوا ایندھن بھی ایک پوشیدہ درآمدی بل ہے۔ ہم صرف تیل نہیں خریدتے؛ اپنی بدانتظامی کی قیمت بھی ڈالر میں ادا کرتے ہیں۔ خلیجی بحران نے ایک مرتبہ پھر یاد دلایا ہے کہ معاشی سلامتی اور قومی سلامتی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جس ملک کی صنعت درآمدی ایندھن کی قیمت سے رک جائے، جس کا بجٹ عالمی منڈی کے ایک جھٹکے سے بدل جائے اور جس کے عوام ہر بیرونی بحران کی قیمت مہنگائی کی صورت میں ادا کریں، اس کی خودمختاری صرف سیاسی نعروں سے مکمل نہیں ہوتی۔ کفایت شعاری کا آغاز سرکاری گاڑیوں اور غیرضروری دوروں سے کیا جاسکتا ہے، لیکن اسے وہیں ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی اس دن ہوگی جب پاکستان بحران آنے کے بعد ایندھن بچانے کے احکامات جاری کرنے کے بجائے بحران سے پہلے اپنی توانائی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پالیسی تیار رکھے گا۔ خلیج کی جنگ ہمارے اختیار میں نہیں، مگر اس جنگ کے معاشی اثرات پاکستانی عوام پر کس حد تک پڑیں گے، یہ بڑی حد تک ہماری پالیسی، تیاری اور ترجیحات کے اختیار میں ضرور ہے۔

مزیدخبریں