فتنہ الہندوستان سے بازیاب خواتین کی نیوز کانفرنس، دہشت گردوں کے طریقۂ واردات سے متعلق اہم انکشافات

01:50 PM, 21 Sep, 2026

کوئٹہ: فتنہ الہندوستان سے بازیاب ہونے والی دو خواتین نے نیوز کانفرنس کے دوران دہشت گرد تنظیم کی جانب سے انہیں مبینہ طور پر اپنے نیٹ ورک میں شامل کرنے اور دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے سے متعلق تفصیلات بیان کی ہیں۔

 خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ ان کے شوہر کا تعلق دہشت گرد تنظیم سے تھا اور وہ 2022 میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ان کے مطابق انہیں کوئٹہ سے اٹھایا گیا، جبکہ دہشت گردوں نے انہیں ملک کے خلاف کارروائیوں کے لیے ورغلایا۔

 خدیجہ پیر جان نے دعویٰ کیا کہ وہ نوکنڈی بم دھماکے میں ملوث رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی کارروائیوں پر بلوچ بہن بھائیوں سے معافی بھی مانگی۔

 نیوز کانفرنس میں صفیہ عبدالخالق نے بتایا کہ دہشت گردوں نے رابطے کے لیے انہیں موبائل فون فراہم کیا اور خودکش حملہ کرنے کے لیے تیار کیا۔ ان کے مطابق انہیں خودکش حملے کے لیے گاڑی چلانا بھی سکھایا گیا۔

 صفیہ عبدالخالق نے مزید بتایا کہ متعلقہ اداروں نے انہیں اور خدیجہ پیر جان کو بحفاظت بازیاب کرایا اور بعد ازاں دونوں کو ان کے خاندانوں کے حوالے کردیا۔

مزیدخبریں