بلوچستان میں بغاوت نہیں ،کھلی دہشت گردی

09:34 AM, 21 Sep, 2026

بلوچستان کے حوالے سے ایک عرصے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہاں کوءی بغاوت یا سیاسی مزاحمت جاری ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بلوچستان میں کوءی بغاوت نہیں بلکہ خالصتاً دہشت گردی ہے۔ میں اپنے متعدد کالم میں پہلے بھی یہ بات واضح کر چکا ہوں کہ بلوچستان میں خصوصاً بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی کاررواءیوں کو کسی سیاسی جدوجہد کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تنظیمیں معصوم بلوچ شہریوں، مزدوروں، سکیورٹی اہلکاروں، سرکاری تنصیبات، شاہراہوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں۔ ان تنظیموں کو بھارت کی جانب سے اسلحہ، تربیت اور مالی معاونت حاصل ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین بلوچستان میں دہشت گردی کے فروغ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے وقت وہاں بڑی مقدار میں اسلحہ چھوڑا گیا تھا، جو آج ان کالعدم تنظیموں کے پاس موجود ہے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ 10 اگست 2026 کی رپورٹ میں افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور ان کے درمیان گٹھ جوڑ کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آءی ہیں، جو بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ رپورٹ میں القاعدہ کی جانب سے ٹی ٹی پی، داعش خراساں (ISIL-K) کو لاجسٹک سپورٹ، تربیت اور مالی معاونت کے حوالے سے تفصیلات بیان کی گءی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے تربیت کار (ٹرینرز) ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسی تنظیموں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یوں افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان رابطہ کھل کر سامنے آتا ہے، جس کے اثرات پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کی سلامتی پر پڑ رہے ہیں۔ راقم نے اپنے گذشتہ کءی کالمز میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ کابل میں ٹی ٹی پی کے تین کیمپ اور جلال آباد میں بی ایل اے کے دو تربیتی کیمپ موجود ہیں، جو بھارتی خفیہ ایجنسی را اور طالبان کی سرپرستی میں چل رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں ستمبر 2024 تک چار سو بی ایل اے دہشت گرد ٹریننگ لے رہے تھے، جو اپنے آقا¶ں کے کہنے پر بلوچستان میں دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے حملوں میں جدید اسالٹ راءفلز، ناءٹ وژن آلات، تھرمل امیجنگ سسٹمز، سناءپر پلیٹ فارمز اور ڈرون حملہ آور نظام کے استعمال ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ اسلحہ افغان حکام کی جانب سے فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ واضح رہے کہ آج بلوچستان میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں کے پاس بھی یہی ہتھیار موجود ہیں، جو بی ایل اے کے افغانستان کے ساتھ روابط کو بے نقاب کرتا ہے۔گزشتہ دنوں ڈی جی آءی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے العربیہ کو دیے گءے انٹرویو میں بلوچستان کے حوالے سے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بلوچستان میں کوءی بغاوت نہیں بلکہ یہ خالصتا دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی تصدیق کرتی ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں۔ پاکستان افغانستان سے ہونے والے حملوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کاررواءیاں جاری رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کی کامیاب مہم چلا رہا ہے، رواں سال ہزاروں آپریشنز میں متعدد دہشت گرد ہلاک کیے گءے ہیں اور مزید دہشت گردوں اور ان کے پراکسیز کے خلاف کاررواءیاں جاری رہیں گی۔ راقم نے 30 ستمبر 2024 کو بلوچستان کے حوالے سے اپنے کالم ’’آزادی کی تحریکیں یا دہشت گرد تنظیمیں‘‘ میں لکھا تھا کہ بلوچستان کوءی مقبوضہ علاقہ نہیں کہ جہاں کوءی آزادی کی جنگ لڑی جا رہی ہو بلکہ یہ کھلی دہشت گردی ہے۔ معصوم بچوں، خواتین حتیٰ کہ بے زبان جانوروں پر ظلم کرنا، اسکولوں اور ہسپتالوں پر حملے، سڑکوں کو نقصان پہنچانا، مساجد اور مدارس کا تقدس پامال کرنا کسی آزادی کی جدوجہد کا حصہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔معاشرے میں فساد پھیلانے والے اور لوگوں کا ناحق قتل کرنے والے کسی بھی معافی کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ یاد رہے کہ اسلام میں کوءی بھی جنگ مال غنیمت کے حصول یا کشور کشاءی کے لیے نہیں لڑی گءی بلکہ زیادہ تر ظلم سے آزادی اور باقی اپنی ریاست اور رعایا کے دفاع کے لیے لڑی گءی ہیں۔ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان تنظیموں کے دہشت گردوں کی درندگی کے باوجود ریاست بار بار ان کو قومی دھارے میں شامل ہونے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ مگر جب دانت کا درد کھانے پینے سے قاصر کر دے تو ’’اخراج دنداں‘‘ لازم ہو جاتا ہے۔ آج بلوچستان میں ہندوستان کی آشیر باد سے چلنے والی عسکریت پسند تنظیمیں اور ان کے سہولت کاروں کا خیال ہے کہ وہ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کر دیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ بلاشبہ بلوچستان پاکستان کا دل ہے اور بلوچ ایک غیور اور محب وطن قوم ہے۔ دوران کالم ایک ویڈیو سامنے آءی، جس میں تربت میں ایک بلوچ شہری نے ایک کھمبے پر لگے بی ایل اے کے جھنڈے کو اتار کر زمین پر پھینک کر دشمن کو واضح پیغام دیا کہ تمہارا من گھڑت پراپیگنڈا اب زمین بوس ہو چکا ہے۔تازہ ترین، فتنہ الہندوستان بی ایل اے چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہونے والی خواتین خدیجہ پیر جان اور صفیہ نے کوءٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوءے تہلکہ خیز انکشافات کیے۔ خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ اس کا شوہر بی ایل اے سے منسلک تھا۔ 2022 میں اس کا انتقال ہوا، اس کے بعد میرے بھاءی شاہد پیر جان اور اس کے دوست احسان نے مجھے ہمدردی جتاتے ہوءے تنظیم میں شامل ہونے پر مجبور کیا۔ مجھے پاکستان کے خلاف گمراہ کیا گیا، میں نے تنظیم کے لیے کام کیا، نوکنڈی میں حملہ کیا۔ آج میں شرمندہ ہوں اور قوم سے معافی مانگتی ہوں۔ بسیمہ کی رہاءشی صفیہ نے بتایا کہ اس کو کس طرح گمراہ کیا گیا۔ سوچیے کہ جو لوگ اپنے مذموم مقاصد کے لیے خواتین کو استعمال کرنے سے گریز نہ کریں، وہ کس طرح بلوچ عوام کے خیرخواہ ہو سکتے ہیں؟میرے نزدیک اس وقت بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کا واحد اور لازمی حل ایک گرینڈ آپریشن ہے۔ کیونکہ دہشت گرد تنظیمیں بلوچ نوجوانوں کو برین واشنگ کے ذریعے گمراہ کر رہی ہیں۔

مزیدخبریں