دشمن دیں حرمین شریفین تک آ پہنچا، کم وبیش ڈیڑھ ارب کلمہ گو مسلمان اور ان کی حکومتیں خوابِ خرگوش میں، حال مست کھال مست‘ اپنی کھال بچاؤ، کعبہ کا مالک اپنے گھر کی خود حفاظت کرے گا۔ ہاتھیوں کے لشکر کو ابابیلوں کی کنکریوں سے کھاءے ہوءے بھوسے کی مانند تباہ کرنے والی ذات باری اب بھی اپنی قدرت کاملہ کا معجزہ دکھاءے گی۔ صد شکر رب العالمین نے اس بار حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے ایٹمی اسلامی ریاست پاکستان کا انتخاب کیا ہے، یمن کے حوثی باغیوں نے مکہ معظمہ پر ڈرون سے حملہ کیا جسے فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ حوثیوں نے عالمِ اسلام کے جاگنے سے پہلے ہی حملہ کی تردید کر دی، لیکن ہفتہ کو ریاض ایءر پورٹ پر حملہ، ڈپو سے دھواں نکلتا دکھاءی دیا، پراکسی وار یا سالہا سال کی دشمنی کا شاخسانہ، امریکہ خاموش لیکن خوش، ایران چپ، حوثی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں کا بیانیہ اور مذاکرات کے لیے فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کو فون، سعودی عرب نے ستھرا جواب دیا، حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری، 40 حوثی باغی ہلاک، حوثیوں کی تردید ناقابلِ یقین، وزیر اعظم شہباز شریف نے ڈرون حملہ کو ناقابلِ معافی قرار دے دیا، پھر بھی سوال کہ حملہ کہاں سے ہوا؟ حوثیوں کی تردید کے بعد گمانِ غالب کہ ڈرون عراق کی سرزمین پر واقع اسراءیل اور امریکی اڈے سے فاءر کیا گیا۔ مسلمان ملک کو جرمِ ضعیفی کی سزا، خلیجی اور اسلامی ممالک میں امریکہ نے 17 اڈے قاءم کر رکھے ہیں، دفاعی امور کے ماہرین کی راءے ہے کہ صدر ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کی مہم کے دوران 67 فیصد امریکیوں کے سوالات اور لعن طعن سے بچنے کے لیے جنگ کا طوق اپنے گلے سے اتار کر دو پرانے دشمنوں حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے گلے میں ڈال دیا، واضح رہے کہ امریکی ریاستوں میں ٹرمپ کی مقبولیت صرف 33 فیصد رہ گءی ہے، دفاعی ماہرین اس راءے کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ حوثی باغیوں کا آسانی سے باب المندب پر قبضہ، تجارتی جہازوں پر حملوں کا مقصد امریکی حکمت عملی میں تبدیلی ہے، وہ حوثیوں کے حملوں کے ذریعہ سعودی حکومت پر ابراہام ایکارڈ کی منظوری کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتا ہے، لیکن ٹرمپ اور نیتن یاہو کرے کولیاں سونہا رب کرے سولیاں، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مکہ دفاعی معاہدے نے جنگ کو آبناءے ہرمز سے نکال کر بحیرۂ احمر کی طرف منتقل کرنے کی سازش ناکام ہوتی دکھاءی دیتی ہے، کویت، قطر اور مصر اس معاہدے میں شامل ہو گءے تو عالمِ اسلام امریکہ کی چودھراہٹ اور کھربوں ڈالر کے جنگی ہرجانے کی پریشانیوں سے آزاد ہو جاءے گا، سوال یہ بھی ہے کہ حوثی باغی اچانک اتنے طاقتور کیسے ہو گءے کہ انہوں نے یمن کے پہاڑوں سے نکل کر باب المندب اور اس کے قریبی سمندری علاقوں پر قبضہ کر لیا، امریکہ خاموش کسی بحری بیڑے نے مزاحمت نہیں کی، ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ حوثیوں کا امریکی انتظامیہ سے براہ راست رابطہ قاءم ہے۔ حوثی کسی کی بھی پراکسی وار لڑ رہے ہوں پاکستان کا کھرا اور سیدھا جواب مقاماتِ مقدسہ پر حملہ ناقابلِ برداشت رب کعبہ کی قسم، پاکستان کا بچہ بچہ بیت اللہ شریف اور رحمت دو عالم نورِ مجسم نبی مکرمﷺ کے روضہ اقدس کی حفاظت کے عہد سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
اپنے گھر کی بھی خبر لیجءے چاروں طرف سے گھیرے میں ہے، پشاور سے وزیر اعلیٰ کراچی سے جماعت اسلامی اور کہیں سے کسان اتحاد کے لانگ مارچ اسلام Èباد Èرہے ہیں۔ کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران مسلمانوں کے بھیس میں افغان مرتدین نے بھارتی اور امریکی اسلحہ اور مالی مدد کے سہارے پرانی پولیس لاءن پر خودکش دھماکہ کر دیا، گولیاں چلاتے ہوءے پولیس لاءن کے اندر گھس گءے، خودکش دھماکے سے عمارت اور قریبی مسجد کو نقصان پہنچا، دہشت گردی کی اس واردات میں پولیس اہلکاروں اور ایس پی سمیت 23 افراد شہید اور 103 زخمی ہوءے، پاک فوج کے کمانڈوز نے جوابی حملہ میں 6 مرتدین کو موقع پر ہی پھڑکا دیا جبکہ عمارت میں چھپ جانے والے دو دہشت گردوں کو فجر کی نماز کے بعد گولیوں سے بھون کر داروغہ جہنم کے سپرد کر دیا، متاثرہ علاقوں میں سخت ترین ناکہ بندی اور حفاظتی انتظامات کے باعث خیبر پختونخوا میں بڑے دنوں بعد ہولناک واردات ہوءی ہے، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں مقامی سہولت کاروں کا ہاتھ ہے، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی 16 روز سے اپنے صوبے سے غاءب ہیں، 21 شہدا کی نمازِ جنازہ میں بھی وزیرِ اطلاعات، شفیع جان کو بھیج دیا جن کا کہنا تھا کہ امن و امان کے اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ شریک نہیں ہوتے، وزیرِ اعلیٰ 16 روز سے کیا کر رہے تھے، لطیفوں بھری مزاحیہ فلم میں اپنا مرکزی کردار نبھا رہے تھے، خانوں کے خان کی رہاءی کے لیے سندھ اور پنجاب کے اپنے لوگوں کو جگانے چلے تھے، سندھ میں لاٹھی چارج سے سر بچا کر لاہور پہنچے تو لاہوریوں نے پہچاننے سے انکار کر دیا، پروٹوکول کے لیے پولیس نے راستے بند کیے تو سیاست سے نابلد وزیرِ اعلیٰ پولیس افسروں پر چڑھ دوڑے، غصہ سے لال پیلے (لال نہیں پیلے) ہوتے ہوءے کہا ’’راستے بند کیے دیتے ہو دیوانوںکے‘‘ پنجاب سے اظہارِ محبت کرتے ہوءے گاڑی سے گرتے گرتے بچے، ہاتھ ہلاتے ہوءے خود ہی اپنے ہم پیشہ ٹک ٹاکر کے ساتھ پولیس وین میں جا بیٹھے، ٹک ٹاکر نے ویڈیو بناءی اور شور مچا دیا کہ ہمارے وزیرِ اعلیٰ کو پولیس نے اغوا کر لیا ہے، حالانکہ گاڑی میں ایک بھی پولیس اہلکار ’’دم تحریر‘‘ موجود نہیں تھا، ڈراءیور نے گاڑی ہجوم سے نکالی (ہجوم 100 پولیس اہلکاروں، 100 صحافیوں اور 50 نعرے لگاتے یوتھیوں پر مشتمل تھا) ڈراءیور نے وین لکشمی چوک پر روکی اور انہیں اتار دیا، وزیرِ اعلیٰ باہر نکل کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گءے، حیرت ہے کہ کسی لاہوریے نے انہیں بٹ کے گرما گرم سموسوں اور ایبٹ روڈ پر بادام پستے والی چاءے تک پیش نہ کی، پی ٹی آءی کا ایک بھی ایم پی اے لینے نہ آیا، ایک کارکن اشتیاق مظاہرہ کرتے ہوءے گرم تیل کے کڑاہے میں گر کر جھلس گیا تھا۔ 17 دن اسپتال میں زیرِ علاج رہ کر چل بسا، وزیرِ اعلیٰ تعزیت کرنے اس کے گھر گءے تو اہلخانہ پل پڑے، اس کے بھاءی نے کہا 17 دن کہاں رہے، اب تو حساب لے کر فرشتے بھی جا چکے، جاؤ میاں اپنا راستہ لو، واپسی میں وزیرِ آباد میں رکے تو یاد آیا کہ اسی شہرِ ناپرساں میں میرے محبوب پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، جھٹ سے سادہ کپڑوں میں ایک پولیس اہلکار کو پکڑا اور اس کی جیب سے پستول نکال کر الزام دھر دیا کہ یہ مجھے قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، پشاور واپسی کے بعد 27 ستمبر کی تیاریاں، مارگلہ کی پہاڑیوں سے اسلام Èباد پر حملہ کی حکمت عملی، لاشیں گرانے کا گھناءونا منصوبہ، ایک ایک رکنی تین چار اپوزیشن جماعتیں ساتھ ہیں حضرت مولانا نے ساتھ دینے سے انکار کردیا، وفاقی وزیر داخلہ نے سرخ لکیر کھینچ دی، عدالت عالیہ نے شراءط عاءد کردیں حملہ مشکوک ہوگیا۔
مکہ مکرمہ پر حملہ لاشیں گرانے کا منصوبہ
09:31 AM, 21 Sep, 2026