دریا رکیں گے تو زندگی رکے گی

09:49 AM, 21 Sep, 2026

پانی زندگی کی اساس ہے اور اس کی فراوانی ہی سے تہذیبیں پروان چڑھتی، معیشتیں مضبوط ہوتی اور معاشرے خوش حال ہوتے ہیں۔ قدرت نے پانی کے بے شمار ذخاءر عطا کیے ہیں، مگر دریا اپنی قدرتی روانی کے باعث انسانی زندگی کے لیے سب سے اہم Èبی وسیلہ ہیں۔ پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی دریاءی پانی کا تحفظ ایک بنیادی مسءلہ بن گیا تھا، کیونکہ برصغیر کی تقسیم کے بعد بالاءی اور زیریں علاقوں میں پانی کی تقسیم ایک حساس معاملہ بن چکی تھی۔ اسی پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 19 ستمبر 1960 کو سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔ یہ معاہدہ محض پانی کی تقسیم کا انتظام نہیں تھا بلکہ دو متخاصم ممالک کے درمیان تعاون، پیش بینی اور باہمی ذمہ داری کی ایک غیر معمولی مثال تھا۔ آج چھیاسٹھ برس بعد اس کی بنیادیں ایک بار پھر سیاسی کشمکش کی زد میں ہیں۔ پاکستان کے لیے دریاءے سندھ کا نظام محض پانی کا ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ قومی زندگی کی شہ رگ ہے۔ زراعت، آب پاشی، پن بجلی، غذاءی تحفظ، دیہی معیشت اور لاکھوں لوگوں کا روزگار اسی نظام سے وابستہ ہے۔ چنانچہ دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال کا اثر سفارتی تعلقات سے کہیں آگے، براہِ راست انسانی زندگی اور قومی معیشت پر پڑتا ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی نے سندھ طاس میں پہلے ہی پانی کے نظام کو غیر معمولی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے، گلیشیءرز کے پگھلاؤ، شدید بارشوں، خشک سالی اور بدلتے ہوءے دریاءی بہاؤ کے باعث مستقبل کی Èبی صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
ایسے حالات میں مشترکہ دریاءی نظام کو سیاسی دباؤ کا میدان بنانے کے بجاءے تعاون اور قانون کے داءرے میں رکھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ بالاءی اور زیریں کنارے کی ریاستوں کے مفادات ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔ ایک طرف بالاءی ریاست کے ترقیاتی اور تواناءی کے تقاضے اپنی جگہ اہم ہیں، تو دوسری طرف زیریں ریاست کے پانی، زراعت اور انسانی زندگی سے وابستہ حقوق بھی یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ پاءیدار آبی انتظام کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں کو طے شدہ قانونی اصولوں کے تحت متوازن رکھا جاءے۔ سندھ طاس معاہدے کی سب سے بڑی تاریخی اہمیت یہی تھی کہ اس نے شدید سیاسی اختلافات کے باوجود پانی کے معاملے کو قانون کے تابع رکھا۔ جنگیں ہوءیں، فوجی تصادم ہوءے، سفارتی تعلقات میں اتار چڑھاؤآیا، مگر معاہدہ قاءم رہا۔ یہی اس کی اصل طاقت تھی۔ اس نے ثابت کیا کہ سیاسی دشمنی کے باوجود زندگی سے متعلق بنیادی معاملات کو ادارہ جاتی اور قانونی نظام کے ذریعے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
بھارت کی جانب سے معاہدے کو یک طرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا فیصلہ اسی تاریخی اصول کو چیلنج کرتا ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد اس اعتماد پر قاءم ہوتی ہے کہ فریقین اپنے وعدوں کا احترام کریں گے اور انہیں نیک نیتی سے نافذ کریں گے۔ یہی اصول ’پیکٹا سنٹ سروانڈا‘ کے نام سے بین الاقوامی قانون کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایک ریاست محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی پابند معاہدے کو یک طرفہ طور پر غیر مؤثر قرار دینے کا راستہ اختیار کرے تو اس کے اثرات کسی ایک معاہدے یا خطے تک محدود نہیں رہتے۔ اس سے پوری دنیا میں سرحد پار آبی معاہدوں کی پیش بینی اور اعتبار متاثر ہو سکتا ہے۔ یہاں سندھ طاس معاہدے کے تنازع حل کرنے کے طریقہ کار کی اہمیت بھی سامنے Èتی ہے۔ معاہدے نے مختلف نوعیت کے اختلافات کے لیے غیر جانب دار ماہر اور ثالثی عدالت جیسے ادارہ جاتی راستے فراہم کیے ہیں۔ ان کا مقصد یہی ہے کہ پانی جیسے حساس مسءلے کو سیاسی کشیدگی سے الگ رکھ کر طے شدہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جاءے۔ ان اداروں کا وجود اس بات کی دلیل ہے کہ معاہدے کے فریقین نے اختلافات کے باوجود قانون اور ادارہ جاتی عمل پر اعتماد کیا تھا۔ ہیگ میں ثالثی عدالت کے حالیہ ایوارڈ نے اس بحث کو ایک اہم قانونی سمت فراہم کی ہے۔ عدالت نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اسے یک طرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا تصور معاہدے کے قانونی ڈھانچے میں موجود نہیں۔ اس فیصلے نے پاکستان کے اس مقف کو تقویت دی کہ معاہدے کی حیثیت کسی ایک فریق کے سیاسی اعلان سے تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ یوں ایک بنیادی قانونی اصول دوبارہ نمایاں ہوا کہ بین الاقوامی معاہدے سیاسی حالات کی تبدیلی کے باوجود اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھتے ہیں، جب تک ان کے خاتمے یا تبدیلی کا کوءی جاءز اور باہمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ اختیار نہ کیا جاءے۔
بھارت نے اس مرحلے میں عدالتی کاررواءی میں شرکت سے گریز کیا، حالاں کہ اسے تحریری موقف پیش کرنے کی دعوت دی گءی تھی۔ تاہم کسی کاررواءی میں عدم شرکت بذاتِ خود معاہدے کے تحت موجود ذمہ داریوں کو ختم نہیں کرتی۔ اسی طرح بین الاقوامی تنازع حل کرنے کے کسی قاءم شدہ طریقہ کار سے الگ رہنے کا فیصلہ اس طریقہ کار کی قانونی حیثیت کو خود بخود ختم نہیں کر دیتا۔ ایوارڈ نے مغربی دریاؤں، یعنی سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے پن بجلی منصوبوں سے متعلق ایک اور اہم پہلو واضح کیا۔ بھارت کو معاہدے کی مقرر کردہ شراءط کے مطابق بہتے پانی پر مبنی پن بجلی منصوبے تعمیر کرنے کے حقوق حاصل ہیں، لیکن ان منصوبوں کے ڈیزاءن اور Èپریشن پر معاہدے کی شراءط لاگو ہوتی ہیں۔ اس طرح بالاءی ریاست کے ترقیاتی حقوق اور زیریں ریاست کے Èبی مفادات کے درمیان وہ قانونی توازن برقرار رہتا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی بنیادی روح ہے۔
رتلے ہاءیڈرو الیکٹرک پلانٹ سے متعلق عبوری حکم بھی اسی قانونی نگرانی کی عملی مثال ہے۔ ثالثی عدالت نے غیر جانب دار ماہر کے فیصلے تک ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک سٹرکچر کے مخصوص حصوں پر مقررہ حدود سے زیادہ کنکریٹ ڈالنے سے متعلق عبوری پابندیاں عاءد کیں اور تعمیراتی شیڈول میں تبدیلیوں کی رپورٹنگ کا تقاضا کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاہداتی ذمہ داریاں محض کاغذی اصول نہیں بلکہ جاری منصوبوں پر عملی اثرات رکھنے والی قانونی ذمہ داریاں ہیں۔ اس معاملے کی اہمیت پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں۔ دنیا کے کءی خطوں میں دریا ایک سے زیادہ ممالک سے گزرتے ہیں اور کروڑوں انسان سرحد پار Èبی نظاموں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر سیاسی کشیدگی کے دوران بالاءی ریاستیں یک طرفہ طور پر پانی کے معاہدوں کو غیر مثر بنانے لگیں تو زیریں ریاستوں کے لیے Èبی تحفظ مسلسل سیاسی غیر یقینی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اسی لیے سندھ طاس کا تجربہ عالمی سطح پر اس وسیع اصول سے جڑا ہوا ہے کہ مشترکہ قدرتی وساءل کو طاقت کے بجاءے قانون کے ذریعے منظم کیا جانا چاہیے۔
موسمیاتی تبدیلی اس ضرورت کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ Èنے والے برسوں میں پانی کی دستیابی، سیلاب اور خشک سالی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے محض معاہدے کافی نہیں ہوں گے؛ شفاف اعداد و شمار کا تبادلہ، بروقت معلومات، سیلابی رابطہ کاری، خشک سالی سے پیشگی تیاری اور پورے دریاءی نظام کی مشترکہ ساءنسی نگرانی بھی ناگزیر ہوگی۔ جنوبی ایشیا کے لیے اصل ضرورت پانی کو تنازع کا ایندھن بنانے کی نہیں بلکہ اسے تعاون کا وسیلہ بنانے کی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ چھ دہاءیوں سے زیادہ عرصے تک اس حقیقت کی علامت رہا کہ دریا سیاسی سرحدوں سے بلند ایک مشترکہ انسانی ضرورت ہیں۔ اس نے جنگ کے زمانے میں بھی قانون کے لیے ایک راستہ محفوظ رکھا۔ آج اس تاریخی معاہدے کا مستقبل صرف پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات کا سوال نہیں بلکہ اس وسیع اصول کا امتحان بھی ہے کہ کیا سیاسی اختلافات کے باوجود بین الاقوامی معاہدوں کی حرمت برقرار رہ سکتی ہے۔
پانی کو سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنانے کے بجاءے زندگی کی امانت سمجھنا ہوگا۔ دریاؤں کا بہاؤ روکا جا سکتا ہے، موڑا جا سکتا ہے، مگر ان سے وابستہ انسانی ضرورت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس کے پانیوں سے کروڑوں زندگیوں کی امید وابستہ ہے۔ اس لیے اس نظام کا تحفظ کسی ایک حکومت، ایک دور یا ایک سیاسی مؤقف کا مسءلہ نہیں؛ یہ آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی، علاقاءی استحکام اور بین الاقوامی قانون کی ساکھ کا سوال ہے۔ چھیاسٹھ برس پہلے ایک معاہدے نے یہ ثابت کیا تھا کہ کشیدگی کے بیچ بھی قانون کے لیے جگہ نکالی جا سکتی ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تاریخی سبق کو فراموش نہ کیا جاءے۔ دریا اگر زندگی کی علامت ہیں تو ان کے درمیان قاءم معاہدے بھی امن، ذمہ داری اور باہمی احترام کی علامت ہونے چاہءیں۔ پانی کو پل ہی رہنے دیا جاءے، دیوار نہ بننے دیا جاءے۔

مزیدخبریں