ملتان : دریائے ستلج کے زور دار زمینی کٹاؤ کی وجہ سے بہاولنگر اور پاکپتن کے کئی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں، جہاں سیکڑوں گھر دریا کے پانی میں بہہ گئے۔ ملتان کی تحصیل جلالپور پیر والا میں سیلابی پانی میں ڈوبنے سے دو خواتین اور ایک نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
پاکپتن کے گاؤں باقر کے قریب دریا نے اپنا رخ بدل لیا ہے اور کٹاؤ تیزی سے جاری ہے، جس کی وجہ سے درجنوں گھر پانی میں بہہ گئے ہیں۔ لوگ اپنے قیمتی سامان کو بچانے کے لیے مکانوں سے نکالنے لگے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ ہیوی مشینری کے ذریعے بند باندھنے کی کوششیں کر رہی ہے تاکہ مزید نقصان روکا جا سکے۔
جلالپور پیر والا میں ریسکیو حکام کے مطابق پانی میں ڈوبنے والے تینوں افراد گھر واپس جاتے ہوئے سیلابی پانی میں پھنس گئے۔ بہاولنگر کی بستی جانن والی میں 50 سے زائد مکانات دریا کے کٹاؤ کی نذر ہو چکے ہیں اور مزید پانچ سو سے زائد مکان خطرے میں ہیں۔ متاثرہ افراد اپنے مکانات خود گروا کر نقصان سے بچاؤ کی کوشش کر رہے ہیں۔ علاقے کے مدرسے، مساجد اور ایک پرائمری اسکول کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب بہاول پور کے سیلاب متاثرین نے انتظامیہ پر ریلیف کیمپ خالی کرانے کا الزام لگایا لیکن ڈپٹی کمشنر نے اس کی تردید کی اور کہا کہ صورتحال بہتر ہوتے ہی متاثرین کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔
احمد پور شرقیہ، اوچ شریف اور دیگر علاقوں میں بھی مکانات اور فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ چناب کے کئی گاؤں پانی میں ڈوب چکے ہیں اور رابطہ سڑکیں بھی نقصان کی وجہ سے منقطع ہیں، جس کی وجہ سے متاثرین کو واپسی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
بابا فرید پل کے مقام پر منچن آباد میں سیلابی صورتحال برقرار ہے جہاں پانی کا بڑا سیلابی ریلا بہہ رہا ہے۔ موضع بونگہ اکبر، ماڑی نہال اور بچیاں والی سمیت کئی دیہات میں پانی نے زمینی راستے بند کر رکھے ہیں۔
لیاقت پور میں دریائے چناب اور سندھ کے سیلابی پانی نے بھی تباہی مچائی، جہاں کئی گھر منہدم ہو گئے اور فصلیں تباہ ہو گئیں۔ متاثرین اب پانی کی کمی کے باعث اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں، تاہم خراب سڑکوں کی وجہ سے راستے دشوار ہو گئے ہیں۔
دریائے سندھ میں گڈو بیراج اور چشمہ بیراج پر پانی کی سطح کم ہو رہی ہے اور سیلاب کی شدت کم ہو گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے رابطہ سڑکوں کی جلد از جلد بحالی کو ترجیح قرار دیا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔