چوپال سجی ہوئی تھی، سب ایک دوسرے سے باتوں میں مصروف تھے۔ چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے آئے اور چوپال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو دیکھتے ہی کہا کہ واہ بھئی واہ آج تو چوپال میں بزرگوں کی رونق لگی ہوئی ہے، لگتا ہے کہ آج ہماری چوپال صحیح معنوں میں چوپال ہے۔ اس پر چاچا رفیق ، چاچا رشید بیک زبان بولے۔۔ سائیں جی۔۔ یہ تو آپ کی محبت ہے۔۔ ورنہ گھر والے تو ہم’’ بابوں‘‘ کو بالکل فارغ ہی سمجھتے ہیں۔۔۔ اس پر چاچاشکور فورا بولے۔۔۔ سائیں جی۔۔ میں تو یہ کہوں گا کہــ’’ بابے کے بغیر تو بکریاں نہیں چرتی‘‘۔۔۔گھر کیسے چلے۔۔۔ یہ نوجوان نسل گھر کیا خاک چلائے گی۔۔۔ اس پر چپ سائیں نے کہا کہ دوستو! میں سمجھ گیا۔۔۔میں آج کی بات یہاںسے ہی شروع کروں گاکہ واقعی بزرگ تو گھر میں برگد کے درخت کی مانند ہوتے ہیں۔۔۔ درحقیقت وہ تو گھر کی رونق ہوتے ہیں اور اگر کچھ نہ بھی کررہے ہوں اور خالی بیٹھے ہوں تو بھی خیر وبرکت ہوتی ہے۔۔۔ لیکن یہ بات ہر کوئی نہیں سمجھتا۔۔۔چپ سائیں نے ٹھنڈی آہ بھری اور چپ کرگئے۔
توقف کے بعد بولے۔۔ دوستو!۔۔ جس گھر میں کوئی بڑا بزرگ نہ ہو وہ گھر گھر نہیں خالی قبرستان ہوتا ہے اور نوجوان نسل اپنی مرضی کرتے کرتے تجربات ہی کررہی ہوتی ہے۔ خیر۔۔۔ دوستو! ۔ ۔ زندگی کے سفر میں ہر فرد کے لیے ایک خاص مرحلہ آتا ہے جب وہ اپنی محنت سے فارغ ہو کر آرام کرنا چاہتا ہے۔ ایسے بزرگوں کو عام زبان میں’’ ویلا بابا‘‘بھی کہا جاتا ہے، جو اپنی زندگی کے اس حصے میں سکون، خوشی اور آرام چاہتے ہیں۔
صاحبو!یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی محنت کی، خاندان کی پرورش کی ۔ اب جب وہ کام سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں، تو ان کا حق بنتا ہے کہ انہیں عزت، محبت اور سکون دیا جائے۔کچھــ’’ بے ادبوں‘‘ نے’’ ویلے بابے‘‘ کی اختراع نکالی۔۔۔ دراصل وہ ان کے مقام و مرتبے سے ناواقف بلکہ ادراک نہیں رکھتے۔۔
یہی گھر کے بزرگ گھر کی چھوٹی چھوٹی بات کو محسوس کرتے ہیں اور اپنی تکلیف کا تذکرہ تک نہیں
کرتے۔۔ جیسے جیسے سورج ڈھلتا ہے۔۔ رات کا اندھیرا چھاتا ہے۔۔ ان ’’ویلے بابوں‘‘ کو اپنے بچوں کی فکر کھانے لگتی ہے۔ دروازے سے جب ا ن کے بچے گھر داخل ہوتے ہیں تو ان کے چہرے خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔۔حق ہو۔۔۔ یہی بزرگ۔۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر گھر کے دروازے اور ہر چیز کو بار بار چیک کرتے ہیں۔۔ اور۔۔ رات ۔۔جگ رتوں میں گزارتے ہیں۔۔۔ پوتے، پوتیوں، نواسے ، نواسیوں کو دیکھ کر توایسے ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے وہ نوجوان ہیں اور ان کی اپنی کوئی تکلیف ہے ہی نہیں۔۔
دوستو!بقول کچھ ’’نالائقوں ‘‘ کے ’’ویلا بابا‘‘ اپنی زندگی کے اس مرحلے میں زیادہ وقت خاندان، دوستوں، اور ذاتی دلچسپیوں کو دیتے ہیں۔ وہ سفر کرتے ہیں، کتابیں پڑھتے ہیں، باغبانی کرتے ہیں اور اکثر اپنے تجربات سے نوجوانوں کو روشناس کراتے ہیں۔ یہ لوگ معاشرے کے لیے تجربے اور حکمت کا خزانہ ہوتے ہیں۔یہ لوگ اپنے دل کی باتیں کسی نہ کسی سے شیئر کرنا چاہتے ہیں لیکن۔۔۔ افسوس۔۔ ان کی باتیں صرف تنہائی ہی سنتی ہے۔۔۔ افسوس ۔۔ صد افسوس۔۔۔
صاحبو!ہمیں چاہیے کہ ہم’’ ویلے بابے ‘‘ کو صرف گھر کے بوجھ یا رکاوٹ نہ سمجھیں بلکہ انہیں عزت، محبت اور توجہ دیں۔ ان کے پاس بیٹھیں۔۔۔ رحمت کو سمیٹیں اور اس کلموئے ۔۔موبائل یا ٹی وی کی بجائے ان کو بھرپور وقت دیں۔۔۔ دوستو! ۔۔۔ کلجگ اور کلیگ کی مانند ۔۔۔ہی وقت تو کسی پر بھی آسکتا ہے۔۔۔ ان کی خدمات کو یاد رکھیں اور انہیں ایک فعال اور خوشگوار زندگی گزارنے میں مدد کریں۔ ویلا بابا کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سماجی ادارے اور حکومتی اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی بھر کی کمائی اور تجربے سے سکون سے لطف اندوز ہو سکیں۔یہ وقت زندگی کا وہ سنہری دور ہے جس میں ہر شخص کو عزت، پیار اور سکون ملنا چاہیے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے نسلوں کو روشنی دی ہے اور اب وقت ہے کہ ہم انہیں اپنی محبت اور خیال سے نوازیں تاکہ وہ زندگی کے اس خوبصورت مرحلے کو بھرپور طریقے سے گزار سکیں۔
دوستو۔۔گھر کے بزرگ۔۔ جن کو اس عمر میں یہ سمجھاجاتا ہے کہ وہ صرف ’’دھیان سنگھ‘‘ کی طرح گھر کا دھیان رکھنے والے ہوتے ہیں، بچوں کو ٹیوشن چھوڑنے، گھرکے باہر سے سبزی اورضروریات کا سامان لانے والا سمجھا جاتا ہے۔۔ افسوس۔۔۔ وہ سب کچھ کرکے بھی تنہا ہی ہوتے ہیں ۔چوپال کے دوستو جب خاندان کے افراد اپنے کاموں میں مصروف ہوں اور بزرگوں کو وقت نہ دے پائیں، تو وہ احساس کمتری، اداسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کئی بار ان کی باتوں اور ضروریات کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ معاشرتی تنہائی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض بزرگوں کو مالی اور صحت کے مسائل بھی درپیش ہوتے ہیں ۔
صاحبو! گھر کے لوگوںکوچاہئے کہ وہ بزرگوں کو اپنی زندگی کا اہم حصہ سمجھیں، ان کی رائے اور تجربات کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور انہیں تنہائی سے نکال کر معاشرتی سرگرمیوں میں شامل کریں۔ معاشرہ بھی بزرگوں کی خدمت کے لیے آگے آنا چاہیے تاکہ وہ عزت، محبت اور سکون سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بزرگوں کے لیے جامع پالیسیاں بنائے، ان کی صحت اور مالی مدد کا نظام بہتر کرے، اور انہیں سماجی و ثقافتی پروگراموں کا حصہ بنائے۔ نوجوانوں کی طرح گلی محلوں میں بزرگوں کی بھی کوئی نہ کوئی تو یونین ہونی چاہئے ۔۔۔جہاں یہ سارے بزرگ بیٹھ کر اپنے دل کی باتیں ایک دوسرے سے کر سکیں اور کوئی ان کو ’’فارغ‘‘ نہ سمجھے بلکہ’’ اولڈ از گولڈ ‘‘ کے مترادف بھرپور اہمیت دی جائے۔
چوپال کے بچوخاندان کواپنی پوری زندگی دینے والا یہ بزرگ جسے کچھ ’’ بے ادب‘‘ ،’’ ویلا بابا‘‘ سمجھتے ہیں۔۔ ایک سائبان ہوتا ہے ۔ ۔ یہ بزرگ صرف ہمارے خاندان کے رکن نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی وجود کا ایک اہم ستون ہوتے ہیں۔ ان کے تجربات، حکمت اور محبت ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر ہم ان کی قدر نہیں کریں گے تو نہ صرف وہ بلکہ ہم بھی زندگی کے اس مرحلے میں مشکلات کا سامنا کریں گے بلکہ’’ بے مراد‘‘ ہی رہیںگے۔ بزرگوں کی عزت و تکریم کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ان کے لیے محبت، احترام اور توجہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھیں اور سائبان کے سایہ میں بیٹھ کررحمتوں اور برکتوں کو سمیٹیں۔۔ باقی رہے نام اللہ کا!۔
ـ’’سائبان کی مانند بزرگ‘‘
09:24 AM, 21 Sep, 2025