پنجاب کی زراعت پر سیلاب کا حملہ

09:22 AM, 21 Sep, 2025

پنجاب پاکستان کی زرخیز دھرتی ہے جہاں کے کھیت ملک کے لیے خوراک کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ گندم، چاول، کپاس، گنا اور مکئی جیسی فصلیں نہ صرف اندرون ملک ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ پاکستان کی برآمدات اور زرِ مبادلہ کا بھی اہم سہارا ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں آنے والے تباہ کن سیلابوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شدید ترین خطرات سے دوچار ہے۔ پانی کا یہ قہر صرف کھیتوں کو نہیں ڈبو رہا بلکہ پوری معیشت اور سماج کے لیے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلابوں نے تقریباً 13 لاکھ 29 ہزار ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ یہ رقبہ صوبے کی کل کاشت شدہ زمین کا 6.3 فیصد بنتا ہے جو معمولی نہیں بلکہ ایک بڑے پیمانے پر زرعی معیشت کو ہلا دینے والا نقصان ہے۔
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سب سے زیادہ نقصان چاول کی فصل کو ہوا ہے، جس کی 6 لاکھ 54 ہزار ایکڑ زمین متاثر ہوئی۔ یہ کل چاول کے رقبے کا 10.1 فیصد ہے۔ یہ فصل پاکستان کی بڑی برآمدات میں شامل ہے اور جس پر لاکھوں خاندانوں کا روزگار منحصر ہے۔ چارہ جات کی فصلیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ تقریباً 3 لاکھ 34 ہزار ایکڑ زمین ڈوب گئی ہے جو کل رقبے کا 7.2 فیصد ہے۔ یہ نقصان مویشی پالنے والے طبقے کو براہِ راست متاثر کرے گا کیونکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار میں کمی آئے گی۔ مکئی کی فصل کو 92 ہزار ایکڑ نقصان ہوا، جو کل کاشت کا 6.4 فیصد ہے۔ اسی طرح گنے کی فصل کا 1 لاکھ 6 ہزار ایکڑ اور کپاس کا 55 ہزار ایکڑ زیرِ آب آیا۔ کپاس کی تباہی کا مطلب ہے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے خام مال کی کمی، جو برآمدات کے حوالے سے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔
سبزیوں کی صورتحال سب سے زیادہ افسوس ناک ہے۔ کل سبزیوں کی زمین کا تقریباً 25.8 فیصد حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں منڈیوں میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان کھڑا ہوگا اور غریب عوام کے لیے سبزیاں خریدنا مشکل ہو جائے گا۔ یہ سوال بار بار اٹھ رہا ہے کہ آخر پنجاب جیسے خطے میں سیلاب کیوں بار بار آتے ہیں؟ اس کا جواب ایک ہی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی۔ غیر متوازن بارشیں، درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی تودوں اور گلیشیئرز کا تیز رفتاری سے پگھلنا اور دریائوں کا غیر منظم نظام پاکستان کو بار بار تباہی کے دہانے پر لے آ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ 2010 کے سیلاب، 2022 کی تباہ کاری اور اب 2025 کے یہ نئے سیلاب واضح کرتے ہیں کہ حکومت نے پچھلے تجربات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔اگر ہم اس مسئلے کو محض اعداد و شمار تک محدود کر دیں تو انسانی پہلو نظر انداز ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسان کے لیے یہ صرف زمین اور فصل کا نقصان نہیں بلکہ اْس کے خوابوں، اْس کی محنت اور اْس کے مستقبل کی بربادی ہے۔ ایک کسان جو قرض لے کر بیج خریدتا ہے، کھاد ڈالتا ہے، دن رات محنت کرتا ہے، جب اپنی زمین پر پانی کھڑا دیکھتا ہے تو یہ منظر اْس کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ دیہی معیشت، جو مویشیوں اور زراعت پر چلتی ہے ، براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ چارے کی کمی دودھ اور گوشت کی پیداوار کم کرے گی، جس کا اثر شہروں تک جائے گا۔ یوں پنجاب کے کھیتوں میں آنے والا پانی صرف ایک گاؤں یا ایک کسان کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے شہریوں کی زندگی کو بھی مہنگائی اور قلت کی شکل میں متاثر کرتا ہے۔
پاکستان پہلے ہی غذائی بحران کا شکار ہے۔ گندم درآمد کی جا رہی ہے، دالیں باہر سے منگوانی پڑ رہی ہیں اور چاول و کپاس برآمد کرنے والا ملک اندرونی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے پریشان ہے۔ ایسے میں اگر لاکھوں ایکڑ زمین ڈوب جائے تو اس کا مطلب ہے کہ فوڈ سکیورٹی مزید خطرے میں ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں پاکستان میں غذائی اشیا کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ معمول کی بات بن جائے گا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے دعویٰ کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور کسانوں کو ریلیف پیکج دیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات وقتی ریلیف سے آگے بڑھ سکیں گے یا پھر یہ صرف سیاسی نعرے اور وقتی تسلیاں ہی رہیں گی۔پاکستان کو اب ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے۔ فلڈ مینجمنٹ، پانی کے ذخائر، جدید زرعی ٹیکنالوجی، ماحول دوست بیج، اور سب سے بڑھ کر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے لمبے عرصے کی منصوبہ بندی لازمی ہے۔ جب تک حکومت سائنسی بنیادوں پر فیصلے نہیں کرے گی اور زراعت کو قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر نہیں دیکھے گی، تباہی کا یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔ پنجاب کی زراعت صرف کسان کی روزی نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کا مرکز ہے۔ اگر کپاس تباہ ہوتی ہے تو ٹیکسٹائل انڈسٹری رْکتی ہے۔ اگر چاول ڈوبتے ہیں تو برآمدات کم ہوتی ہیں۔ اگر سبزیاں ختم ہو جاتی ہیں تو شہریوں کے لیے کھانے کی پلیٹ خالی ہو جاتی ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ براہِ راست قومی بقا اور سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔
پنجاب کو ہمیشہ سے برصغیر کا اناج گھر کہا جاتا رہا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں اس خطے نے اپنی زرخیزی کے باعث معیشت کو سہارا دیا ہے۔ لیکن آج یہ دھرتی شدید خطرات میں ہے۔ کسانوں کی نئی نسل زراعت چھوڑ کر شہروں کا رخ کر رہی ہے کیونکہ انہیں نظر آ رہا ہے کہ موسمیاتی تباہ کاریاں ان کی محنت ضائع کر دیتی ہیں۔ زرعی قرضوں کا بوجھ، مارکیٹ میں عدم استحکام اور حکومتی بے حسی انہیں مزید مایوسی کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جو صرف آج کی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی بقا کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو 2050 تک اس کی نصف سے زیادہ آبادی غذائی قلت کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف انتباہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کی طرف اشارہ ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنے دریاؤں کے بہاؤ، آبی ذخائر اور بارش کے نظام کو سمجھ کر ایک جامع حکمت عملی ترتیب دے۔ دنیا کے کئی ممالک نے ایسے چیلنجز کا سامنا کیا لیکن مضبوط پالیسی اور عملی اقدامات سے ان خطرات کو کم کیا۔ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں سیلاب مینجمنٹ کے جدید طریقے اپنائے گئے اور نقصان کی شدت کم کر لی گئی۔
پاکستان کے لیے بھی وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں فوری تبدیلی کرے۔ عالمی اداروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فنڈز حاصل کرے، کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرے، پانی کے بہتر انتظام پر سرمایہ کاری کرے اور سب سے بڑھ کر سیاسی نعرے بازی کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ یہ درست ہے کہ قدرتی آفات کو مکمل طور پر روکا نہیں جا سکتا لیکن ان کے اثرات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومتی ادارے سنجیدگی سے اقدامات کریں تو لاکھوں کسانوں کو بچایا جا سکتا ہے اور ملک کو غذائی بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں