اسلام آباد: سپریم کورٹ کے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں آئینی مسائل کی نشاندہی کی ہے، جس میں انہوں نے جوڈیشل کونسل کی قانونی حیثیت اور فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
خط کے متن کے مطابق، ججز کوڈ آف کنڈکٹ کے حوالے سے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی میں زیر بحث لانے کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ معاملہ صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ دونوں ججز نے اپنے مؤقف کو ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں پیش کیا اور دستخط شدہ کاپی اجلاس کے بعد جمع کروائی گئی۔
خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے خلاف زیر التوا کیس کی وجہ سے ان کی جوڈیشل کونسل میں شمولیت پر قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مزید برآں، کونسل کی آئینی حیثیت واضح نہ ہونے کے باعث اس کے فیصلوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
ججز نے اپنی جانب سے 13 اکتوبر کو لکھے گئے خط کا بھی حوالہ دیا ہے، جس میں جوڈیشل کونسل کے اجلاس کو مؤخر کرنے یا اس کی تشکیل نو کی سفارش کی گئی تھی۔