اسلام آباد : پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کے بعد طورخم بارڈر کھولنے کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) کے حکام نے امپورٹ اور ایکسپورٹ سکینرز دوبارہ نصب کر دیے ہیں، اور بارڈر پر صفائی و بحالی کے کام کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس کے علاوہ، کسٹم اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کی ڈیوٹیاں بھی بارڈر پر تعینات کر دی گئی ہیں۔
بارڈر حکام کا کہنا ہے کہ کسٹم کا عملہ بارڈر پر موجود ہے، اور جیسے ہی اعلیٰ حکام سے اجازت ملے گی، طورخم بارڈر کھول دیا جائے گا۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور پیدل آمدورفت کا عمل دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ نو روز سے طورخم بارڈر بند ہونے کی وجہ سے تجارت اور نقل و حرکت میں خلل آیا تھا۔ چمن، طورخم، غلام خان اور انگور اڈا پر سینکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جس کے باعث سامان خراب ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، کوئٹہ سے چمن جانے والی پسنجر ٹرین سروس بھی پانچ دن سے معطل ہے۔
طورخم بارڈر کی بحالی سے نہ صرف تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے بھی دوبارہ بہتر ہو جائیں گے، جو کہ علاقے کی معیشت کے لیے اہم قدم ثابت ہوگا۔