کْت خانہ

09:24 AM, 21 Oct, 2025

اگلے روز میں گلبرگ لاہور میں مقیم اپنے ایک دوست کی عیادت کے لیے گیا ، مجھے پتہ چلا تھا چند روز پہلے اْن کے پالتو کتے نے اْنہیں کاٹ لیا ہے ، جس پر اْنہیں انجیکشن لگوانا پڑے ، حالانکہ انجیکشن پہلے اْنہیں اپنے کتے کو لگوانا چاہئیں تھے جو اپنی وفاداری کی مشہور و معروف روایت کے برعکس اْنہیں اگر کاٹ لیتا اس کا نقصان نہ ہوتا ، کتوں کے بارے میں مشہور ہے وہ بڑے وفادارہوتے ہیں ، کچھ کتے اب شاید نہیں ہوتے ، میرے خیال میں ان پر اْس ماحول اور اْن انسانوں کا بڑا اثر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ رہتے ہیں ، میں نے شاید پہلے بھی لکھا تھا ’’گورے ممالک یا خوبصورت ممالک میں جو شدید بارشیں ہوتی ہیں ان کے ساتھ ویسی دل دہلا دینے والی بجلیاں نہیں کڑکتیں جیسے ہمارے ہاں کڑکتی ہیں ، نہ ویسے خوفناک بادل گرجتے ہیں جیسے ہمارے ہاں گرجتے ہیں ، موسموں یا بارشوں کے مزاج بھی وہاں کے لوگوں جیسے ہوتے ہیں ، جبکہ ہمارے موسموں کے مزاج ہمارے جیسے ہیں ، ایسے ہی کسی مہذب مْلک میں انسانوں کے رویے تو متاثر کن ہوتے ہی ہیں وہاں کے پرندوں جانوروں کے رویے بھی بڑے متاثر کن ہوتے ہیں ، میں کینیڈا میں مقیم اپنے بھائی شاہد عزیز ملک کے گھر کے لان میں بیٹھ کر جب ناشتہ کرتا ہوں اکثر ارد گرد پہاڑیوں سے ہرن نکل کر لان میں آ کر میرے ساتھ ناشتہ کرنے لگتے ہیں ، پرندے میرے کاندھوں پر میرے سر پر بیٹھ جاتے ہیں ، مجھے لگتا ہے وہ مجھے اپنے مہذب ملک کا کوئی شہری سمجھتے ہیں ، میں سوچتا ہوں اگر اْنہیں  پتہ چل جائے میں پاکستانی ہوں وہ خوف سے کبھی میرے قریب بھی نہ آئیں ، دو برس قبل میں آسٹریلیا کے چڑیا گھر گیا ، میں اْس’’چڑیا گھر‘‘ کی بات نہیں کر رہا جو ہمارے ہاں آج کل زیادہ مشہور ہے ، سڈنی کے اس خوبصورت چڑیا گھر میں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے بورڈ لگے تھے جن پر لکھا تھا ’’پلیز ریسپیکٹ اوور اینیملز‘‘ (ہمارے جانوروں کی عزت کریں) ، اللہ جانے کیوں مجھے یہ محسوس ہوا یہ بورڈز اْنہوں  نے ہم پاکستانیوں کے لیے لگا رکھے ہیں ، جو اپنے پرندوں اور جانوروں کی عزت کرنا تو دْور کی بات ہے اپنے انسانوں کی عزت بھی نہیں کرتے ، خیر میں بات کتوں کے’’ کْت خانے‘‘ کی کر رہا تھا بیچ میں انسان پتہ نہیں کیسے آگئے ؟ مجھے اس موقع پر اپنا ایک شاگرد عزیز علی عباس مرحوم یاد آرہا ہے جو ہمارے مشہور موسیقار بابا جی اے چشتی مرحوم کا پوتا تھا ، کوئی پچیس برس پہلے میں ایف سی کالج کے طلبہ کا ایک وفد لے کر مری گیا ، میں وہاں کچن میں ناشتہ تیار کر رہا تھا اور علی عباس میرے ساتھ کھڑا میری مدد کر رہا تھا ، اس دوران باہر سڑک پر ایک کتا مسلسل بھونک رہا تھا ، تنگ آ کے میں نے علی عباس سے پوچھا’’یار کون اے ایہہ کتا ؟‘‘ ، وہ بولا’’سر جی عزیز اے اپنا‘‘ ، میں نے حیرت سے اْس کی طرف دیکھا وہ کہنے لگا ’’سر اس میں حیران ہونے والی کیا بات ہے ؟ پہلی بات تو یہ ہے جیسا آپ نے فضول سوال پوچھا ویسا فضول جواب میں نے دے دیا ، دوسری بات یہ ہے اگر کچھ انسان کتے ہو سکتے ہیں تو کچھ کتے انسان کیوں نہیں ہو سکتے ؟‘‘ ، بات اْس کی درست تھی ، میں اکثر سوچتا ہوں’’کچھ کتے بڑے خوبصورت ہوتے ہیں اور کچھ خوبصورت بڑے کتے ہوتے ہیں‘‘ ، اس ضمن میں سب سے بڑی مثال اگر کوئی مجھ سے پوچھے میں اپنی پیش کروں گا ، کیونکہ میں کسی سے کم خوبصورت نہیں ہوں ، کچھ خوبصورت ااور مہذب ممالک کی ایک اور بات میں آپ کو بتاؤں وہاں’’آوارہ کتے‘‘ نہیں ہوتے ، جیسے ہمارے ہاں گلیوں محلوں اور بازاروں میں آوارہ کتے دکھائی نہ دیں یوں محسوس ہوتا ہے ہم پاکستان سے باہر ہیں ، ایک بار ایک امریکی گورا لاہور آیا وہ مینار پاکستان گیا وہاں اْسے ایک کتا پڑ گیا ، اْس نے قریب پڑی ایک اینٹ کتے کو مارنے کے لیے اْٹھائی وہ اینٹ زمین میں گڑھی ہوئی تھی ، وہ کہنے لگا یار عجیب ملک ہے ، اینٹیں باندھی ہوئی ہیں کتے کھلے چھوڑے ہوئے ہیں‘‘ ، ہم نے واقعی اپنے کتے کْھلے چھوڑے ہوئے ہیں ، وہ سیاہ و سفید کے مالک ہیں ، وہ جو چاہیں ہمارا بگاڑ لیں ہم اْن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، ان کتوں کے سامنے ہم ’’بھیگی بلیاں‘‘ ہیں ، ایک زمانے میں یہ محاورہ بڑا مشہور تھا کتی چوراں نال رل گئی اے ، اب چور کتی سے رلے ہوئے ہیں ، کچھ کھوجی کتے بھی ہوتے ہیں ، آپ بڑے بڑے ہوٹلوں یا سرکاری مراکز میں جائیں وہاں انسانوں کے بجائے کتے آپ کی گاڑی چیک کرتے ہیں ، گویا اس حوالے سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں’’کچھ کتے انسانوں سے زیادہ عقلمند اور باصلاحیت ہوتے ہیں‘‘ ، وہ خطروں یا خدشوں کو انسانوں سے بہت بہتر بھانپ لیتے ہیں ، ہمارے کچھ کتے تو وہ خطرے بھی بھانپ لیتے ہیں جو ہوتے ہی نہیں ہیں ، یہ بس اْن کا وہم ہوتا ہے ، اور وہم کا کوئی علاج نہیں ہوتا ، اگر کوئی کتا یا کتے یہ سمجھ لیں انسان اْنہیں کھانے کو دوڑیں گے ظاہر ہے یہ اْن کا وہم ہی ہو سکتا ہے ، ہم بھلا اپنے کتوں کو کھانے کو کیسے دوڑ سکتے ہیں ؟ ہم صرف اپنے ’’گدھوں‘‘ کو کھانے کو دوڑ سکتے ہیں ، ہمیں صرف اپنے گدھوں پر گرجنے برسنے کی اجازت ہے ، کیونکہ ہمیں پتہ ہے یہ بیچارے زیادہ سے زیادہ دو لتیاں ہی مار سکتے ہیں ، گولی نہیں مار سکتے ،ہم صرف اپنے کتوں کو کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ جتنے بھی وفادار ہوں کوئی پتہ نہیں کب باؤلے ہوجائیں اور اپنوں کو کاٹنا شروع کر دیں ، سو ان کتوں سے دوستی اچھی نہ دشمنی اچھی ، ان کْتوں کے سامنے دم ہلاتے رہنے میں ہی عافیت ہے ، میں اپنے کتوں کے سامنے ہمیشہ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہوں کیونکہ جان سے زیادہ مجھے اپنی عزت پیاری ہے جو بغیر کسی وجہ یا بات کے تار تارہوسکتی ہے ، اْوپر سے ہمارے ہاں کسی کی عزت تار تار کرنے کے لیے وجہ چاہے خودہی کسی نے کیوں نہ بنائی ہو لوگ اس پر یقین کرنا اپنا ’’مذہبی فریضہ‘‘ سمجھتے ہیں ، ذاتی طور پر میں کتوں کے خلاف نہیں ہوں بلکہ میں تو اکثر کتوں کے حق میں لکھتا ہوں ، ابھی پچھلے دنوں میں نے لکھا تھا ’’ہمارے سارے کام کتوں والے ہیں مگر ہمارا ایمان ہے جس گھر میں کتا ہو وہاں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا‘‘ ، کل میرا آفس بوائے ذرا دیر سے آیا ، میں نے وجہ پوچھی کہنے لگا ’’میری سائیکل کے کتے فیل ہوگئے تھے‘‘ ، میں نے عرض کیا تمہاری تو صرف سائیکل کے کتے فیل ہوئے ہیں میرے پورے گھر کے ہو گئے ہیں۔

مزیدخبریں