کیا یہ اتباع رسولؐ ہے؟

09:23 AM, 21 Oct, 2025

پولیٹیکل سائنس کی طالبہ سکینہ سومرو(پولیٹیکل سائنس کا لاحقہ اس لئے تاکہ یہ سمجھا جائے وہ کسی سیاسی جماعت یا کسی خاص نظریہ سے وابستہ نہیں، بلکہ محض سیاسیات کی طالبہ ہے، آتے ہی سوال کیا انکل یہ آپ کے پنجاب میں ایک مذہبی جماعت نے فلسطین کے نام پر جوہنگامہ آرائی کی ہے اس کا اصل پس منظر کیا ہے ٹی وی ٹاکس میں تجزیوں میں اور بیانات میں بہت مختلف باتیں کی جارہی ہیںِ‘‘۔ دیکھو سب سے پہلی بات یہ کہ پنجاب تمہارا بھی اتنا ہی ہے جتنا سندھ میرا ہے، اوہوانکل آپ کا زمینی تعلق ہے نا  اس لئے یہ بات کی ہے ، ٹھیک، ٹھیک ہے، اس مذہبی جماعت کے جو دووراثتی سربراہ ہیں سعد رضوی اور انس رضوی کے بارے میں خیال آتے ہی میرے ذہن میں یہ شعر کلبلانے لگتا ہے۔ 
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
ان دونوں بھائیوں کی قابلیت اور اہمیت یہ ہے کہ مولانا خادم حسین رضوی ان کے والد تھے جن کی اچانک وفات کے بعد ان کی قائم کردہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) انہیں وراثت میں مل گئی۔ مولاناخادم حسین رضوی سے مسلک کے حوالے سے، طرز سیاست کے حوالے سے یا بعض لسانی فردگزاشتوںکے حوالے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی دینی علم تجربہ، زورخطابت کا اعتراف نہ کرنا ناانصافی ہوگی جہاں تک سعد رضوی اور انس رضوی کا تعلق ہے قرآن حکیم، احادیث مبارکہ اورفقہ اسلامی کے بحر عظیم کے شناورتوکیا اس کے کنارے گیلی ریت پر بھی  ان کے پاؤں نہیں پڑے اب تم سوال کرسکتی ہو پھر لوگ ان سے کیوں جڑے ہوئے ہیں۔ دیکھو بیٹا بات یہ ہے کہ مسلمان کا تعلق کسی ملک، کسی زبان یا کسی مسلک سے ہو اور وہ کتنا ہی بے عمل نہ ہو محبت رسولؐ مشترکہ جذبہ ہے اور حرمت رسولؐ پر جان نچھاور کرنا سب سے بڑی سعادت ہے اب یہ سمجھو ’’ہم حاضر ہیں یا رسولؐ اللہ‘‘ اس جماعت یا گروہ کا نعرہ وہ زنجیر ہے جو لوگوں کو اس سے باندھے ہوئے ہے۔ لمحہ موجود میں قومی سیاسی منظر نامہ پردوواقعات کا ایک ساتھ ذکر کیا جارہا ہے صدر آصف زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی نواب شاہ میں ملاقات اور پنجاب میں ٹی ایل پی کی ہنگامہ آرائی تو انکل کیا ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نکلتا ہے بھئی میں نہیں ، نکالنے والے نکال بھی سکتے ہیں۔ 
پچاس سال سے زائد ہوتے ہیں وادیٔ صحافت میں قدم رکھا تو بریلوی علماء میں سب سے پہلے مولانا عبدالحامد بدایونی کی قیادت کا دور تھا اور ملک میں بریلویوں کی واحد نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان تھی جو غیر منقسم ہندوستان میں قائداعظم اور آل انڈیا مسلم لیگ کا ساتھ دینے والے بریلوی علماء کا تنظیمی تسلسل تھی ۔ میںنے بریلوی علماء میں مولانا شاہ احمد نورانی، علامہ مصطفیٰ الازہری، مولانا عبدالستار خان نیازی، پیر قمرالدین سیالوی، مولانا ابوالحسن آف مہار، پیرکرم شاہ الازہری، علامہ محمود احمد رضوی اور ڈاکٹر سرفراز نعیمی سے قاری زواربہادر تک کی مذہبی اور سیاسی سرگرمیوں کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے جیسا پہلے کہا بے عمل سے بے عمل مسلمان بھی محبت رسولؐ کا سچا جذبہ رکھتا ہے البتہ بریلوی مکتب فکر کے متعلقین اس کا اظہار زیادہ کرتے ہیں، یہ بات بطور امر واقع ہے اعتراض کے طور پر نہیں ہے ، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ عشق رسولؐ کے سب سے زیادہ دعویدار ہونے کے باوجود اور تحفظ ختم نبوت جیسی تحریکوں میں بھی بریلوی علماء اور ان کے پیروکاروں نے جلاؤ، گھیراؤ، تشدد اور توڑ پھوڑ کا مظاہرہ نہیں کیا لاٹھیاں کھائیں، زخمی ہوئے ،جیلوں میں گئے، سختیاں برداشت کیں مگر تحمل وبرداشت کا دامن نہیں چھوڑا۔ اب آئیں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے پروگرام اور مقصد کی جانب سے سوفیصد مذہبی نوعیت کے نہیں، عوام اور بالخصوص مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی توجہ اور حمایت حاصل کرنے کیلئے حضورنبی کریمؐ سے ہرمسلمان کی فطری محبت وعقیدت کا استحصال کیا گیا سوچیں جب ’’ اے اللہ کے رسول ہم حاضر ہیں‘‘ کا نعرہ لگاکر نکلا جائے گا تو جس مسلمان کیلئے بھی نکلنا ممکن ہوگا وہ نکلے بغیر نہیں رہ سکے گا اسے غلط طور پر سعد رضوی کی مقبولیت سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ سعد رضوی باپ کی قائم کردہ جماعت اور لوگوں کی محبت رسولؐ سے فائدہ اٹھا کر خوب ہاتھ رنگ رہا ہے اگر میرا اندازہ درست ہے جو مال ومتاع اس کے گھر سے برآمد ہوا یہ مولانا عبدالحامد بدایونی سے قاری زوار بہادرتک تمام بریلوی علماء کرام کے گھروں میں مجموعی طورپر اس کا تین چار فیصد بھی نہیں ہوگا۔ مجھے بہت افسوس ہوا جب مفتی منیب الرحمن نے سعدرضوی کی حمایت میں غصہ بھرابیان دیا اور پنجاب حکومت کو آئندہ الیکشن میں نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔ افسوس اس لیے ہوا میں پوری دیانت داری کے ساتھ مفتی منیب الرحمن کو بریلوی اسلاف کی اعتدال پسندانہ متانت ووقار اور فرقہ واریت سے پاک روایات کا امین سمجھتا تھا میرا خیال تھاحضورؐپاک کے مقدس نام پر دنیا سمیٹنے کے غیرمناسب کردار کی مفتی صاحب سخت گرفت کریں گے اور سعد رضوی جیسے لوگوں کوسچے عاشقان رسولؐ کی پیروی کی راہ دکھائیں گے میرا سوال ہے جو لوگ فرمان رسولؐ کی خلاف ورزی کرکے راستے بند کرکے لوگوں کو عذاب میں مبتلاکردیں بے قصور لوگوں کی گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، املاک، دکانیںسامان سمیت نذرآتش کردیں کیا وہ اپنی محافل میں ’’سلام اس پر کہ جس نے گالیاں کھاکردعائیں دیں‘‘ پڑھنے کاحق رکھتے ہیں۔ کیا پیارے چچا کا کلیجہ چبانے والی ہندہ کا سرقلم کردیاگیاتھا، فتح مکہ کے بعد مظالم ڈھانے والوں کے گھروں، دکانوں، املاک کو نذر آتش کردیا گیا تھا کیا گزرتے ہوئے اوپرکوڑا پھیکنے اور راستے میں کانٹے بچھانے والی کو زندہ گاڑدیا گیا تھا کیا پتھروں سے زخمی کرنے والے طائف کے لوگوں کو ملیا میٹ کردیا گیا تھا،اگر ایسا نہیں ہواتو جوکچھ سعد رضوی کے گروہ نے کیا ہے کیا یہ اتباع رسولؐ ہے مفتی منیب الرحمن برائے مہربانی اس پر روشنی ڈال دیں۔  

مزیدخبریں