جنگی جنون اور سوا ارب انسانوں کا سوال

09:20 AM, 21 Oct, 2025

تاریخ اکثر ان رہنماؤں کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہے جو خود کو قوم کا نجات دہندہ اور عوام کا مسیحا قرار دیتے ہیں، مگر درحقیقت ان کے طرزِ حکمرانی میں جمہوریت کا لبادہ اوڑھے آمریت چھپی ہوتی ہے۔ نریندر مودی بھی ایسے ہی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے بھارت کی سیاست کو ایسی سمت میں موڑ دیا ہے جہاں طاقت کا مرکز ایک فرد بن گیا ہے، اختلاف کو غداری اور تنقید کو دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ مودی کا سیاسی سفر بظاہر ایک چائے والے سے وزیر اعظم بننے تک کی متاثر کن داستان ہے، لیکن مبصرین کے نزدیک یہ کہانی حقیقت سے زیادہ ایک منصوبہ بند پروپیگنڈا تھی۔ بی جے پی نے انہیں 2014 کے انتخابات سے قبل ایک عام آدمی کے طور پر پیش کیا ایک ایسا شخص جو بدعنوانی کے خاتمے اور ترقی کا نیا دور لائے گا۔ یہ بیانیہ عام بھارتی شہری کے دل میں اتر گیا، عوام کو محسوس ہوا کہ وہ روایتی سیاسی خاندانوں کے بجائے اپنے جیسا کوئی شخص منتخب کر رہے ہیں۔ مگر کانگریس سمیت متعدد مبصرین کا کہنا تھا کہ مودی کا ماضی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، اور ان کے چائے والے پس منظر کو ایک سیاسی ہتھیار بنا کر عوامی ہمدردی سمیٹی گئی۔ انتخابات کے بعد ان کا اصل چہرہ بتدریج سامنے آنے لگا۔ وہ وعدے جو انہوں نے کیے تھے، پورے نہ ہو سکے اور ناکامی کو قوم پرستی کے پردے میں چھپایا جانے لگا۔ نوٹ بندی، روزگار کے مواقع، کشمیر میں امن ہر بڑے اعلان کے بعد ایک نیا بیانیہ تراشا گیا تاکہ عوامی توجہ اصل ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے۔ مودی ایک ایسا سیاست دان ہے جو حقیقت سے زیادہ تاثر پر حکومت کرتا ہے۔ ان کے خلاف کرپشن اور اقربا پروری کے الزامات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی۔ رافیل فائٹر جیٹ کے سودے میں بے ضابطگیاں، مخصوص سرمایہ کاروں کو غیر معمولی رعایتیں اور پارٹی فنڈنگ میں عدم شفافیت جیسے معاملات نے ان کے کرپشن فری بھارت کے نعرے کو مشکوک بنا دیا۔ مودی نے کرپشن ختم نہیں کی بلکہ اسے اپنی گرفت میں لے کر ادارہ جاتی شکل دے دی، جس سے سیاسی اور معاشی طاقت محدود ہاتھوں میں مرکوز ہو گئی۔ مودی کا آمرانہ اندازِ حکومت واضح طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی کے موقع پر سامنے آیا، جب مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی۔ اس اقدام کو حکومت نے قومی اتحاد کا تاریخی فیصلہ قرار دیا، لیکن کشمیری عوام نے اسے سیاسی جبر اور حقِ خود ارادیت کی پامالی کے طور پر لیا۔ طویل کرفیو، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نے عالمی سطح پر مودی حکومت کے جمہوری دعووں کو بے نقاب کر دیا۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر تشویش ظاہر کی مگر حکومت نے انہیں اندرونی معاملات کہہ کر رد کر دیا۔ یہ رویہ جمہوری نہیں بلکہ آمرانہ طرزِ حکمرانی کی علامت تھا۔نریندر مودی آر ایس ایس نظریات کے مضبوط حامی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی حکومت کے دوران ہندو قوم پرستی کو ریاستی بیانیے کا حصہ بنایا گیا، جس سے بھارت کے سیکولر تشخص کو براہِ راست چیلنج درپیش ہے۔ نصاب میں نظریاتی تبدیلیاں، شہریت سے متعلق امتیازی قوانین اور مذہبی انتہا پسندی ان کی حکومت ترجیح رہی ہیں۔ ریاستی اداروں پر مخصوص نظریاتی رنگ غالب آ رہا ہے، اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھا ہے، اور سماجی ہم آہنگی کمزور ہو رہی ہے۔ یوں مودی کا دور نہ صرف آر ایس ایس کے اثر و رسوخ میں اضافے بلکہ بھارت کی سیکولر بنیادوں کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بھی بن چکا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بھی مودی حکومت نے کشیدگی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ پلوامہ حملہ اور بالاکوٹ حملہ کے بعد جارحانہ بیانیہ اختیار کیا گیا، جس نے قوم پرستی کے جذبات کو ابھارا۔ لیکن عالمی سطح پر بھارت کو وہ حمایت نہیں ملی جس کی امید تھی۔ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور کئی ممالک نے تناؤ کم کرنے پر زور دیا۔ یہ خارجہ محاذ پر ایک ایسی سفارتی تنہائی تھی جس کا بھارت کو ماضی میں کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مودی حکومت نے میڈیا پر بھی غیر معمولی کنٹرول کر رکھا ہے۔ ایکسم فیس بک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر ایک منظم مہم کے ذریعے سرکاری بیانیہ پھیلایا جاتا ہے۔ بڑے نیوز چینلز یا تو دباؤ میں ہیں یا حکومتی لائن پر چلتے ہیں۔ اختلاف کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دے کر آوازیں دبائی جا رہی ہیں، جو کسی جمہوری نظام کا شایانِ شان نہیں۔سیاسی و ریاستی اداروں میں طاقت ایک محدود حلقے کے ہاتھ میں مرتکز ہو گئی ہے۔ پارلیمان کا کردار رسمی ہو چکا اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ریاستی اداروں کا استعمال ایک عام سیاسی حربہ بن گیا ہے۔ اختلافِ رائے کو دشمنی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور میڈیا کا کچلنا اس آمرانہ رجحان کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ وہ ابتدائی علامات ہیں جو کسی بھی جمہوریت کے زوال کا پتہ دیتی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر مودی کی ساکھ ایک قوم پرست لیڈر سے زیادہ ایک ایسے حکمران کی بنتی جا رہی ہے جو جمہوریت کے پردے میں شخصی اقتدار کو فروغ دے رہا ہے۔ جی 20 اجلاس کے دوران انہوں نے خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی، مگر کشمیر، میڈیا کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی تنقید نے اس تاثر کو کمزور کیا۔ بھارت اب ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں جمہوریت اور آمریت کے درمیان فاصلہ خطرناک حد تک کم ہو گیا ہے۔مودی کے معاشی وعدوں کا انجام بھی مایوس کن ہے۔ نوٹ 
بندی اور ٹیکس اصلاحات نے چھوٹے کاروباروں کو نقصان پہنچایا، بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور معیشت دباؤ کا شکار ہوئی۔ ان کمزوریوں کو چھپانے کے لیے حکومت نے جنگی جنون اور قوم پرستی کو مزید ہوا دی۔ لیکن ایٹمی صلاحیت رکھنے والے خطے میں یہ بیانیہ کسی بڑے تصادم کو جنم دے سکتا ہے، جس کا بوجھ خطے کے سوا ارب انسانوں کو اٹھانا پڑے گا۔ عوام امن، استحکام اور ترقی چاہتے ہیں، جنگ اور نفرت کی سیاست نہیں۔ تاریخ جب اس دور کا جائزہ لے گی تو صرف یہ نہیں دیکھے گی کہ مودی نے بھارت کو کہاں پہنچایا بلکہ یہ بھی دیکھے گی کہ انہوں نے جمہوریت کو کس حد تک کمزور کیا۔ ان کا طرزِ سیاست میڈیا کنٹرول، مخالفین کو دبانے، اقلیتوں کے حقوق محدود کرنے اور جنگی بیانیے کو فروغ دینے پر مبنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ جمہوریت ہے یا ایک آمرانہ ریاست کی پیش قدمی؟ اشارے واضح ہیں۔ بھارت ایک خطرناک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک شخص کی سیاست نے پورے نظام کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ یہ جمہوریت نہیں، اس کا نقاب اوڑھے آمریت ہے اور تاریخ اس کا حساب ضرور لے گی۔ امن عوام کا حق ہے، اور یہ حق کسی ایک فرد یا نظریے کے جنون کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

مزیدخبریں