دوحہ معاہدہ، پاکستان کی سفارتی جیت!

09:20 AM, 21 Oct, 2025

افغان طالبان نے خوارج کو قابو کرنے کے بجائے کھلی چھٹی دی، پشت پناہی بھی ایسی کی کہ سب پر واضح ہو گیا کہ افغان طالبان کی حکومت پاکستان کے امن کو خراب کرنے کی سازش کر رہی ہے۔۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ پاکستانی علاقوں پر حملہ بھی اس وقت کیا گیا جب افغان وزیر بھارت میں بیٹھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ بھارتی سازش کے آلہ کار بن چکے ہیں۔ ان تمام حالات کے بعد پاکستان کو اپنی سرحدوں کی حفاظت اور سالمیت کے تحفظ کے لیے بڑے فیصلے لینا پڑے۔ لیکن اس ساری صورتحال اور پاکستانی فورسز کے مؤثر جواب کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ میں ہونے والا نیا معاہدہ جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے میں ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نیا باب کھولتا ہے بلکہ اس نے پاکستان کے قومی مفادات اور سفارتی موقف کو غیر معمولی تقویت بھی دی ہے۔ دوحہ مذاکرات میں پاکستان نے جس حکمت، تدبر اور جرأت مندانہ انداز سے اپنے قومی سلامتی کے خدشات کو پیش کیا، اس نے واضح کر دیا ہے کہ اب پاکستان ماضی کی طرح یک طرفہ برداشت یا خاموشی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ گزشتہ کئی برس سے پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردانہ سرگرمیوں کا براہِ راست نشانہ بنتا رہا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم بلوچ لبریشن آرمی جیسے گروہوں نے افغانستان میں پناہ گاہیں بنا رکھی تھیں۔ اس جانب سے پاکستان کے سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کومسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اسلام آباد نے بارہا کابل انتظامیہ اور افغان طالبان دونوں کو یہ باور کرایا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔ مگر افسوس کہ افغان طالبان حکومت نے طویل عرصے تک ان خدشات کو نظرانداز کیا۔ یہ صورتحال آخرکار اس نہج پر پہنچی جہاں پاکستان کے لیے مزید خاموش رہنا ممکن نہ رہا۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہو چکا کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان نے اپنے شہریوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے جواب میں افغانستان میں موجود مخصوص دہشت گرد ٹھکانوں پر محدود کارروائیاں کیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب افغانستان کی قیادت کو احساس ہوا کہ پاکستان اب اپنی سرزمین پر دہشت گردی کو برداشت نہیں کرے گا۔دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان نے پہلی بار افغان طالبان کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کیا جو برابری اور اصولوں کی بنیاد پر طے پایا۔ یہ محض ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ ایک نئی حقیقت کا اعلان ہے کہ اگر سرحد پار سے حملہ ہوگا تو پاکستان اب افغان طالبان کو براہِ راست اس بات کا ذمہ دار ٹھہرائے گا ۔ یعنی تمام تر صورتحال کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوگی ۔ یہ موقف اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب اپنی سلامتی پر رتی برابر بھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔ اس معاہدے میں دو برادر اسلامی ممالک قطر اور ترکی کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک نے نہ صرف ثالثی کا کردار ادا کیا بلکہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں فعال سفارتی کردار بھی نبھایا۔ قطر اور ترکی کا بطور ضامن شامل ہونا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان نے اس معاملے کو صرف دوطرفہ نہیں بلکہ بین الاقوامی اسلامی سطح پر بھی اجاگر کر دیا ہے۔یہ اقدام پاکستان کے لیے دہرا فائدہ رکھتا ہے۔ ایک طرف اس سے افغان طالبان پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے وعدوں پر قائم رہیں، اور دوسری جانب عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ مضبوط ہوگی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک سنجیدہ، پُرعزم اور ذمہ دار ملک ہے۔اس معاہدے نے افغان طالبان کے لیے بھی ایک واضح اور دوٹوک پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان اب کسی دہشت گرد نرسری کو بھی قبول نہیں کرے گا جہاں دہشت گردوں کی پیداوار ہوتی رہے ۔ اب طالبان کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے سرپرست بنے رہنا چاہتے ہیں یا ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر طالبان واقعی افغانستان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں پاکستان کے خدشات کو محض ایک ہمسایہ ملک کی شکایت نہیں بلکہ اپنی ریاستی ذمہ داری کے طور پر لینا ہوگا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دوحہ معاہدہ سفارت کاری اور عسکری طاقت کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے پہلے سفارتی ذرائع استعمال کیے، مگر جب وہ بے اثر ثابت ہوئے تو اس نے عسکری طاقت کے ذریعے اپنا موقف منوایا۔ یہی وہ توازن ہے جو کسی بھی مضبوط ریاست کی علامت ہوتا ہے ۔ ایک اور پہلو جو اس معاہدے سے نمایاں ہوا ہے وہ افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ کی ممکنہ کمی ہے۔ بھارت طویل عرصے سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف پراکسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ اب جب کہ طالبان براہِ راست دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے پابند ہو گئے ہیں،  اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارت کے لیے افغانستان میں اپنی خفیہ سرگرمیوں کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ بہرحال اسے مکمل امن سے تعبیر بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ افغان حکومت پہلے بھی اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتی رہی ہے اس لیے پاکستان کو مسلسل چوکنا رہنا ہو گا۔ دوحہ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک اعلانِ عزم ہے کہ اب پاکستان اپنی سرزمین پر امن قائم کرنے کے لیے کسی بھی سازش کو موقع پر ناکام بنائے گا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر اپنی خود مختاری کی قیمت پر ہرگز نہیں۔

مزیدخبریں