میرے والد محترم مرحوم فرماتے تھے ”دوسروں کو عزت وہی دیتا ہے جس کے اپنے پاس عزت ہوتی ہے“، ظاہرہے دوسروں میں وہی چیز تقسیم کی جا سکتی ہے جو انسان کے اپنے پاس ہو، ابو جی ہمیشہ مجھے”بٹ صاحب“ کہہ کے بلاتے تھے، میں ان سے کہتا تھا ابو جی آپ مجھے میرے نام سے پکارا کریں، آپ مجھے”بٹ صاحب“ کہہ کے کیوں بلاتے ہیں ؟“، وہ فرماتے تھے ”بیٹا گھر میں عزت ہوگی تو باہر بھی ہوگی“، اب ہماری کہیں کوئی عزت نہیں رہی، نہ ہی عزت کا اب ہمیں کوئی خیال ہے، بد قسمتی سے پاکستان اب بداخلاقیوں کا گڑھ بن چکا ہے، یہاں ”بادشاہی“ ہی بداخلاقوں کی ہے، اب یہاں لوگ عزت دار نہیں ہونا چاہتے بس مشہورہونا چاہتے ہیں، شہرت چاہے اپنے کپڑے اتار کر ملے یا دوسروں کے کپڑے اتار کر ملے، کسی کو اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں رہی، آج کل ایک عجیب سلسلہ چل نکلا ہے، ہمارے کچھ بداخلاق یوٹیوبرز اور اینکرز مشہور لوگوں کو اپنے پروگراموں میں بلاتے ہیں، ان کا ایجنڈا صرف ایک ہوتا ہے اپنے مہمان کو بے عزت کیا جائے، ان کی خرابیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے، حالانکہ جب وہ دوسروں کی خرابیاں بتا رہے ہوتے ہیں ان کی اپنی ظاہر ہورہی ہوتی ہیں، اپنے سامنے جو تماشائی بلکہ تماشبین انہوں نے بیٹھائے ہوتے ہیں انہیں بھی وہ بتا دیتے ہیں مہمان سے صرف وہی سوال پوچھتے ہیں جن سے ان کی خرابیاں یا برائیاں ظاہر ہوں، یہ لچر پن انتہا کو پہنچ چ±کاہے، ہمارے کچھ نام نہاد پڑھے لکھے نوجوان اینکرز اور یوٹیوبرز کا مقصد صرف ایک ہے دوسروں کو رسوا اور بے عزت کیا جائے،کیونکہ وہ جانتے ہیں اس سے ان کی ریٹنگ بڑھے گی اور ظاہر ہے آمدنی بھی بڑھے گی، آمدنی حلال کی ہویا حرام کی اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، دوسروں پر انگلیاں بلکہ پورے پورے ہاتھ اٹھانے والوں کی اپنی ذات پر جب سوال اٹھتے ہیں وہ کوئی جواب نہیں دے پاتے، بلکہ دم دبا کر بھاگ جاتے ہیں، وہ خود اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں نہ دوسروں کو جھانکنے دیتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں دوسروں کے سارے سوال غلط اور ان کے سارے سوال درست ہیں، کسی کی شخصیت سے کیڑے نہ نکل رہے ہوں وہ اپنے پلے سے کیڑے نکال کر اس میں ڈال دیتے ہیں، انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں ہوتی ہمارا دین دوسروں کی خرابیوں پر پردے ڈالنے کا حکم دیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص دنیا میں کسی دوسرے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا“، میرے نزدیک لوگوں کے عیوب اور ان کی چھپی ہوئی باتوں کو سامنے لانا برائی کو عام کرنے، اجتماعی ماحول کو خراب کرنے کے مترادف ہے، پر یہاں ہمارے اکثر لوگوں کا”قیامت“سے ایمان اٹھتا جا رہا ہے، موت سے بھی اٹھتا جا رہا ہے، زندہ لوگوں کی کردار کشی وقت کی اہم ”ضرورت“ بنا دی گئی ہے المیہ یہ ہے مردوں کو بھی نہیں بخشا جا رہا، شہرت اور دولت کے علاوہ تیسری کوئی ترجیح ھی ان کی نہیں رہی، ایک زمانہ تھا ہم اکثر سنتے تھے”دولت تو کنجروں کے پاس بھی بہت ہوتی ہے، انسان کی عزت ہونی چاہئے“، اب یہاں عزت بھی کنجروں کی ہے چنانچہ اب ہمیں کہنا چاہئے ”عزت تو کنجروں کے پاس بھی بہت ہوتی ہے انسان کے پاس بس دولت اور شہر ت ہونی چاہئے“، ہمارے صوفی دانشور واصف علی واصف دنیا سے چلے گئے مگر انہیں پتہ تھا یہاں کیا حالات بننے والے ہیں چنانچہ انہوں نے اپنی زندگی میںہی کہہ دیا تھا”اس معاشرے میں عزت دراصل بے عزتی ہے“، ایک زمانے میں کسی کو گالی دینا یا سننا بہت برا عمل سمجھا جاتا تھا، اب گالیاں ہماری گفتگو کا باقاعدہ حصہ ہوتی ہیں، گالی کے بغیر ہماری کوئی بات مکمل ہی نہیں ہوتی، بڑے بڑے متبرک ناموں کو ہم گالیوں سے جوڑ کر پکارتے ہیں، میں اکثر اپنے دوستوں اور عزیزوں سے ہاتھ باندھ کر گزارش کرتا ہوں اپنے بچوں کے نام نبیوں پیغمبروں اور ولیوں ناموں جیسے نہ رکھے جائیں،ہماری نوجوان نسل کے اکثر نمائندے اپنے دوستوں کو ان کے ان متبرک ناموں سے پکارتے ہوئے ساتھ کوئی نہ کوئی گالی جوڑ دیتے ہیں، ایک اور خرابی کو ہم خرابی نہیں سمجھتے اور وہ جھوٹ ہے، ہم ڈٹ کر جھوٹ بولتے ہیں، بلکہ جہاں ضرورت نہ بھی ہو وہاں بھی بولتے ہیں، جبکہ ہمارے دین میں جھوٹ کو خرابیوں کی ماں برائیوں اور فساد کی جڑ قرار دیا گیا ہے، ہمارے ہاں اب اسے معاشرتی ضرورت قرار دے دیا گیا ہے، اگلے روز ایک بہت ہی نفیس اور عظیم پولیس افسر مجھے ایک واقعہ سنا رہے تھے، ان کے ایک جاننے والے نے ا±نہیں فون کیا اور کہنے لگا ”میں اس وقت لاہور میں وفاقی وزیر داخلہ کے گھرہوں، یہاں امریکی سفیر، کورکمانڈر لاہور اور آئی جی پنجاب بھی موجود ہیں، ہماری ایک بہت ہی حساس معاملے میں میٹنگ چل رہی ہے، میں ذرا سائیڈ پر ہو کر آپ سے بات کر رہا ہوں، پھر اس نے ایک کانسٹیبل کے تبادلے کا کہا، پولیس افسر نے فرمایا”اچھا میں دیکھ لیتا ہوں“، وہ پولیس افسر اس وقت گوجرانوالہ میں ایک شادی پر جا رہے تھے، ٹھیک پانچ منٹ جیسے ہی وہ اس شادی میں پہنچے انہوں نے دیکھا ان کا وہ جاننے والا وہاں بیٹھا تھا جو پانچ منٹ پہلے فون پر ان سے کہہ رہا تھا وہ اس وقت لاہور میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے گھر بیٹھا ہے، مجھے یقین ہے یہ جھوٹا مکار و منافق شخص پولیس افسر کو دیکھ کر ذرا شرمندہ نہیں ہوا ہوگا بلکہ الٹا اس نے پولیس افسر سے پوچھا ہوگا ”سر آپ اتنی دور سے پانچ منٹ میں یہاں کیسے پہنچ گئے ؟“، اگر اس طرح کے جھوٹے و منافق لوگ بھی دعویدار ہیں معاشرہ ان کی بہت عزت کرتا ہے پھر معاشرہ واقعی بڑا بے شرم ہے، کچھ اسی طرح کا معاملہ کرپشن کا بھی ہے، یہ واقعہ میں نے شاید پہلے بھی لکھا تھا ایک ڈی ایس پی سے میں نے کہا تم نے میرے عزیزوں سے پانچ لاکھ روپے رشوت لے لی ہے اکا کام بھی نہیں کیا تمہیں شرم نہیں آتی ؟“، وہ بولا”سر جی میں نے رشوت لی ہے تو کام کروں گا کیونکہ میں نے اپنے بچوں کو کبھی حرام نہیں کھلایا“، پس ثابت ہوا رشوت لے کر کام کرنا بالکل حلال ہے کیونکہ رشوت لے کر بھی اب یہاں کام نہیں کیے جاتے، آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، کس کس شخصیت کس کس شعبے کس کس ادارے کی تباہی کا رونا ہم روئیں گے؟
عزت جائے بھاڑ میں
09:07 AM, 22 Nov, 2025