یہ تو ہوناہی تھا

09:05 AM, 22 Nov, 2025

دنیا کے طے شدہ اصولوں سے انحراف اگر مثبت سمت میں ہو تو دنیا نہ صرف یہ کہ اس کی تحسین کرتی ہے بلکہ ایک انقلابی قدم کے طور پر اس کی پیروی بھی کی جاتی ہے لیکن اگر تبدیلی انسانی فلاح کے حولے سے منفی سمت میں ہو تو پھر اس کے نتائج بھی منفی ہی نکلتے ہیں ۔عقل کے اندھے میںبھی اتنی عقل تو ضرور ہوتی ہے کہ آمدن بڑھانی ہو تو عوام کا بے شک جینا دوبھر ہو جائے لیکن آپ بڑی آسانی کے ساتھ چند کام کر سکتے ہیں ایک پیٹرول کی قیمت بڑھا دیں دوسرا بجلی کی قیمت بڑھا دیں اور تیسرا گیس کی قیمت میں من مانا اضافہ کر دیں اس کے علاوہ چوتھا ایک ذریعہ بھی ہے کہ کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس بڑھا دیں لیکن اس میں تاجر برادری جب منظم ہو کر دھمکاتی ہے تو پھر حکومت کو سب کچھ واپس لینا پڑتا ہے لہٰذا عوام ہی ایک ایسی لاچار مخلوق ہے کہ اس کے اوپر جتنا بوجھ ڈالنا ہو حکومت ڈال دیتی ہے ۔ ہم نے ایک سے زائد بار بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر لکھا اور عرض کی کہ دنیا بھی میںطے شدہ کاروباری اصول ہے کہ زیادہ خریداری پر خریدار کو رعایت دی جاتی ہے اور اس طرح مال زیادہ بکتا ہے لیکن دنیا بھر کی کاروباری برادی کے طے شدہ اور تسلیم شدہ اصولوں کے بر خلاف پاکستان میں بجلی کے صارفین جتنی زیادہ بجلی صرف کرتے ہیں تو اتنے ہی زیادہ دام بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ کلیہ اس وقت کسی حد تک درست تسلیم کیا جا سکتا تھا کہ اگر ملک میں بجلی کی پیداوار اس کی کھپت سے کم ہوتی تو پھر ہم کہہ سکتے تھے کہ چونکہ مانگ زیادہ ہے تو اس لئے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کو کم بجلی خرچ کرنے کے لئے اس کے دام زیادہ وصول کئے جاتے ہیں لیکن جب حالت یہ ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے یہ معاہدے ہیں کہ ان کی جتنی پیداواری صلاحیت ہے اگر اتنی بجلی نہ بھی پیدا کریں تو حکومت ان کو ان کی پوری پیداواری صلاحیت کے مطابق ادائیگی کرنے کی پابند ہے اور پھر اس مد میں حکومت ان آئی پی پیز کو سالانہ اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے صرف اس مد میں ادا کرتی ہے کہ جو بجلی بنی ہی نہیں ہے کیوں بجلی کی کھپت اتنی نہیں تھی تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ حکومت روز اول سے دنیا بھر میں رائج کاروباری اصولوں کے تحت بجلی کے نرخ طے کرتی اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں سے کم نرخ لیتی تو بغیر بجلی پیدا کئے حکومت اپنی جیب سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو جو اربوں روپے دیتی ہے وہ رقم صارفین سے کم نرخ پر بجلی کو بیچ کر وصول کرتی اور اس رقم کو ان کمپنیوں کو دیتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا جس سے ایک طرف تو صارفین پر بوجھ ڈالا گیا کہ جس سے بجلی کے زیادہ استعمال کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی گئی اور دوسری جانب اس طریقہ کار سے کم بجلی استعمال کرنے کے جو نتائج نکلے اس کی وجہ سے حکومت کو سالانہ اربوں کھربوں روپے اپنی جیب سے دینے پڑ رہے ہیں لیکن یہ نظام اس وقت تک ہی چل سکتا تھا جب تک عوام کے پاس کوئی متبادل نہیں تھا اب سولر انرجی کی صورت میں عوام کو ایک متبادل ملا ہے تو اس کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں ۔
ایک اخباری خبر کے مطابق 13ہزار میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ سے باہر ہو چکی ہے ۔ سولر انرجی کی مجموعی پیداوار 19ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے ۔ ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کے تحت 6340 میگا واٹ اور 12سے 13ہزار میگا واٹ تک آف گرڈ سولر سسٹم نصب ہو چکے ہیں۔ 4لاکھ 24ہزار 841 صارفین نیٹ میٹرنگ سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ نیٹ میٹرنگ کے لئے مزید 18ہزار 874درخواستیں پاور ڈویژن کو موصول ہو چکی ہیں ۔ پاکستان میں مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے صارفین نیشنل گرڈ چھوڑنے لگے ہیں ۔ ایف بی آر کے مطابق پاکستان میں 32ہزار میگا واٹ کے سولر پینل درآمد ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں 22لاکھ سے زائد افراد نے یہ پینل حاصل کئے ۔ ہم نے کوشش کی کہ اخبار میں شائع خبر کو من و عن قارئین کی نظر کر دیا جائے اور یہ کوئی پرانی خبر نہیں ہے بلکہ 21نومبر کو شائع ہوئی ہے ۔
اب حکومت کیا کر سکتی ہے پہلے مرحلے میں وہ نیٹ میٹرنگ کے صارفین پر بوجھ ڈالے گی اور پھر ڈالتی چلی جائے گی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کوئی بھی صارف جس نے سولر پینل لگائے ہوئے ہیں حکومت اس سے جتنے یونٹ لیتی ہے اتنے یونٹ انھیں بالکل مفت واپس کرے اور سروس چارجز کے طور پر کچھ رقم وصول کر لے لیکن یہاں بھی انتہائی احمقانہ روش اختیار کی گئی کہ پہلے سولر پینل لگانے والوں سے 27روپے فی یونٹ بجلی خریدتی تھی اور واپس مہنگے داموںدیتی تھی لیکن کچھ عرصہ پہلے نئی پالیسی کے تحت سولر پینل کے نئے صارفین سے 27کی بجائے صرف10روپے یونٹ بجلی خریدنے کا کہا گیا اب پتا نہیں اس پالیسی پر عمل ہوا ہے یا نہیں لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک بھر میں نیٹ میٹرنگ کے تحت 6340میگا واٹ اور دوگنی تعداد یعنی 12سے 13ہزار میگا واٹ تک آف گرڈ سولر سسٹم نصب ہو چکے ہیں ۔ اگر سولر صارف سے انتہائی سستے داموں بجلی خرید کر انتہائی مہنگے داموں اسی کی بجلی اسی کو بیچنے جیسا احمقان نظام جاری رہا تو نئے سولر صارفین کی اکثریت جہاں سولر پینل لگانے پر لاکھوں روپے خرچ کرتی ہے وہاں مزید خرچ کر کے سولر انرجی کو محفوظ کرنے کے لئے بیٹریاں بھی خرید لے گی اور پھر حکومت کو صرف میٹر کی فیس ہی مل سکے گی ۔

مزیدخبریں