پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے تحت برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں پڑھنے کے لئے لکھے گئے مضمون کا یہ پہلا حصہ ہے ۔ اس میں ایک دو باتیں جو محترم عرفان صدیقی مرحوم کے بارے میں چھپے میرے کالموں میں موجود ہیں انہیںقند مکرر کے طور پر لیا جاسکتا ہے۔
سچی بات ہے میرے لیے ایک طرف سعادت اور اعزاز کی بات ہے کہ میں اس پائے کی محفل میں شریک ہوں اور خطاب کر رہا ہوں اور دوسری طرف انتہائی دُکھ کی بات ہے اور میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کہ میں اپنے پیارے دوست، اپنے مہربان، اپنے مربی، اپنے محسن، اپنے رہبر اور اپنے ہمدمِ دیرینہ محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کی وفات کے بعد اُن کی یاد میں بلائی گئی محفل میں شریک ہوں۔ اللہ جانتا ہے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ عرفان صاحب اتنی جلدی ہمیشہ کے لئے ہم سے رخصت ہو جائیں گے لیکن مشیت ایزدی میں کسی کا دخل نہیں۔ ربِ کریم کی پاک ذات کی قدرت کے جو فیصلے ہونے ہوتے ہیں وہ ہو کر رہتے ہیں۔ اللہ کریم عرفان صاحب کی مغفرت فرمائیں اور درجات بلند کریں ، اُن کے مجھ پر ساری زندگی بے پناہ احسانات رہے۔ اس جہان سے رُخصت ہونے کے بعد بھی میں سمجھتا ہوں اُن کا مجھ پر یہ احسان ہی ہے کہ اُن سے تعلق خاطر کی بنا پر مجھ جیسے کم مایہ اور گمنام شخص کو اس پائے کی محفل میں خطاب کے لئے دعوت دی گئی ہے۔
برادرِ مکرم و محترعرفان صاحب کو مرحوم و مغفور کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اب وہ ہم میں نہیں ہیں۔ اُن کی شخصیت اور اُن کے بارے میں دل میں بسی یادوں اور باتوں کے بارے میں اظہارِ خیال سے قبل میں چاہوں گا کہ پتہ چلے کہ ہماری آپس میں قربت ، دوستی اور وفا شعاری کی نوعیت کیا تھی اور اس کی ابتدا کیسے ہوئی۔ اس کے لئے میں عرفان صاحب مرحوم کے میرے بارے میں تین چار ماہ قبل لکھے گئے مضمون کے ایک دو اقتباسات پیش کرنا چاہوں گا۔ عرفان صاحب محترم کا یہ مضمون انہی دنوں چھپ کر آنے والی میری کتاب ”دیارِ حجاز میں“ سدا بہار دوستی کے عنوان سے شامل ہے۔ یہ مضمون جو کم و بیش چار صفحات پر پھیلا ہوا ہے بذاتِ خود ادب عالیہ کا ایک شاہکار سمجھا
جا سکتا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں ،”ساجد حسین ملک اور میں پہلی بار کب ، کہاں ، کس طرح اور کس ماحول میں ملے، مجھے کچھ یاد نہیں۔ البتہ مجھے یقین ہے کہ ملک صاحب کو وہ دن ، وقت ، لمحہ اور گفتگو کا متن بھی لفظ لفظ یاد ہو گا۔ مجھے تو بس اتنا گمان ہے کہ یہ ساٹھ کی دہائی کے آغاز کی بات ہے۔ وہ دن اور آج کا دن ، کوئی ایسا لمحہ نہیں آیا کہ ہماری رفاقت کے تابناک چہرے پر گردشِ شام و سحر کی ہلکی سی بھی گرد پڑی ہو۔ رنجش، تلخی، دل آزاری، دل شکنی، خفگی،کدورت اور ناراضی جیسے الفاظ ہماری لغتِ رفاقت میں کبھی جگہ نہ پا سکے۔ ہر رنگ، ہر روپ، ہر رُت اور ہر موسم میں ہماری دوستی کا بانکپن جوان رہا۔ نہ کڑی دھوپ میں اس کا رنگ سنولایا، نہ برستی بارش میں اس کے غازہِ رُخسار کی رعنائی پھیکی پڑی“۔
آگے چل کر ایک اور چھوٹے سے پیراگراف میں جسے میں اُن کے اس مضمون کا حاصل سمجھتا ہوں کہ اُس کے ایک آدھ جملے کی منعویت اُن کے انتقال کے بعد واضح ہوئی ہے، وہ لکھتے ہیں ،”ملک صاحب سے سدا بہار دوستی کا سفر ہنوز جاری ہے ۔ اس میں آج بھی عہدِ جوانی کی خوش رنگ و خوش جمال محفلوں کی تمازت اور صبح دم کھلنے والی کلیوں کی مہک موجود ہے۔ ہم دونوں پاکستان کے حوالے سے اپنی طبعی عمریں گزار چکے ہیں ۔ اُن کی صحت بھی ڈانواں ڈول رہتی ہے اور میں بھی خود کو بصد مشکل سمیٹے پھرتا ہوں ۔ کچھ نہیں کہا جاسکتاکہ کون ، کب، کس سے رشتہ وفا توڑ اور چھ دہائیوں کی رفاقت سے منہ موڑ کر دور کی منزلوں نکل جائے“۔
عرفان صاحب نے اپنے مضمون میں رشتہ وفا توڑ کر دور کی منزلوں کو نکل جانے کا لکھا تھا لیکن کبھی خیال اس طرف نہیں گیا کہ اتنی جلدی رشتہ وفا ٹوٹنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ میں نے اسے روا روی میں لکھی ہوئی بات سمجھا لیکن بعض اوقات انسان جو کچھ کہتا ہے شاید وہ خود نہیں کہہ رہا ہوتا بلکہ قدرت اُس سے کہلوا رہی ہوتی ہے اور اُس میں بھی ایک معنویت ہوتی ہے ۔ عرفان صاحب سے چھ دہائیوں سے زائد عرصے کی گہری قربت اور دوستی کا تعلق بظاہر ٹوٹ گیا ہے لیکن سچی بات ہے کہ اُن کی یادیں اور اُن کی خوبصورت شخصیت کا پرتو زندگی کی آخری سانسوںتک ہمدم رہے گا۔ کم و بیش تریسٹھ برسوں کا ساتھ کچھ معمولی نہیں سمجھا جا سکتا ۔ ہم جلوتوں ، خلوتوں کے دوست تھے۔ ایک دوسرے کی کوئی بات ایک دوسرے سے پوشیدہ نہیں تھی۔ ملازمت میں رفاقت، اعلیٰ تعلیم کا حصول، مشکلات اور مسائل کا سامنا، کنبوںاور گھرانوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال کے معاملات ، ملازمت میں ترقی، باہمی میل جو ل اور ملاقاتیں ، محفلوں اور مجلسوں کا انعقاد، مختصر حلقہ احباب میں کھانے پینے کی دعوتوں میں شرکت، اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک اکٹھے سفر اور ان کے علاوہ اور بہت کچھ ہمارا ساتھ ساتھ چلتا رہا۔
اگر میں یہ کہوں کہ عرفان صاحب مرحوم و مغفور میرے لیے ایک انتہائی پیارے دوست کے ساتھ ایک رہبر تھے ، ایک رہنما تھے ، ایک محسن تھے ، ایک آئیڈیل شخصیت تھے تو یہ کچھ غلط نہیں ہو گا۔ حقیقت ہے کہ میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا ، بہت کچھ حاصل کیا، میری زندگی پر اُن کے گہرے اثرات ہیں۔ میری سوچ اور فکر میں بفضلِ تعالیٰ جو ایک طرح کی سنجیدگی اور پختگی پائی جاتی ہے اور میں ایم اے بی ایڈ تک کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب رہا اور اس کے ساتھ کچھ لکھنے لکھانے کی اہلیت مجھ میں پائی جاتی ہے اور ہفتے میں ایک قومی معاصر میں میرے دو کالم چھپتے ہیں اور کسی حد تک شائستگی کا پہلو میری شخصیت میں ہے تو ان سب میں عرفان صاحب مرحوم کی شفقت اور محبت اور ان کی خوبصورت شخصیت کا بڑا ہاتھ ہے۔
میرے نزدیک عرفان صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے، ایک ادارہ تھے ، روشنی کا ایک ایسا مینار تھے جس سے علم و آگاہی، ہدایت و رہنمائی، عقل و دانش، اعلیٰ اخلاق و کردار ، راست گوئی، فرض شناسی، اقدار و روایات کی پاسداری، مروت و رواداری اور حسنِ اخلاق کے صوتے پھوٹتے تھے تو اس کے ساتھ انہیں گہرے معاشرتی، تہذیبی اور تمدنی شعار کے ساتھ وطنِ عزیز پاکستان اور عالمِ اسلام کے معاملات اور مسائل سے آگاہی بھی حاصل تھی۔ اللہ کریم کا اُن پر خصوصی کرم تھا کہ انہیں حسنِ صورت کے ساتھ حسنِ سیرت اور حسنِ تحریر و تقریر کا ملکہ ، خوش کلامی، خوش اخلاقی اور شائستہ اطوار کی خوبیاں اور شخصیت میں ملائمت ، نفاست ، وضع داری ، قدر دانی اور رکھ رکھاﺅ کے خصوصی پہلو عطا کر رکھے تھے اس طرح اُن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ بے مثال شخصیت کے مالک تھے۔ (جاری ہے)
ایسا کہاں سے لائیں، تجھ سا کہیں جسے....!
09:02 AM, 22 Nov, 2025