امریکی صدر کی دم بدم بدلتی پالیسیاں تمام دنیا میں موضوع گفتگو ہیں۔ ان کے ایک بیان کے بعد انتظار شروع ہو جاتا ہے کہ وہ کب اس کی مخالف سمت میں جاتی پالیسی کا اعلان کرتے ہیں لیکن ایک بات تسلیم کرنا ہو گی کہ ٹرمپ کی شکل میں امریکہ کو جو سیلز اینڈ مارکیٹنگ منیجر ملا ہے وہ اس سے قبل امریکہ کی تاریخ میں نہیں آیا۔ وہ اپنا مال بیچنے کے لئے اور دوسروں کی دولت اینٹھنے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔ پہلے دوسرے کی طرف محبت کا ہاتھ بڑھانا اس کی سوچ و کردار کی تعریفین کرنا پھر اپنی فرمائشیں سامنے رکھا بہ ضرورت آسانی پوری ہو جائیں تو ٹھیک ورنہ دھمکیاں دینا ان سے کام نہ چلے تو پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیاں دینا پھر بھی بات نہ بنے تو اپنے بغل بچے کے ذریعے یا بذات خود اس پر حملہ کر دینا اب امریکی پالیسی نظر آتی ہے۔ ان سے پہلے آئے صدور بھی یہی کچھ کرتے تھے لیکن خاموشی سے جبکہ ہر بات کا خود کریڈٹ لینا اسے بار بار دہرانا ڈونلڈ ٹرمپ کو پسند ہے۔ یہ خود پسندی کی انتہا ہے۔ وہ خود کو ڈیل کا بادشاہ کہتے ہیں جبکہ ہر مکمل ہونے والی ڈیل امریکی مفادات کا تحفظ کرتی ہے جو ڈیل مکمل نہ ہو سکے سمجھ لیجئے اس میں امریکہ کے لئے کچھ نہ تھا ورنہ وہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچتی۔ یوکرین اور غزہ میں جنگیں اس حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی جو کئی برس تک جاری رہیں۔امریکی صدر کی اقتصادی محاذ پر بھاگ دوڑ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کی اقتصادی حالت آج جتنی کمزور ہے۔ وہ ماضی میں ایسی کبھی نہ تھی اس کی بنیاد وہ غیر ضروری جنگیں ہیں جو جاری رکھی گئیں۔ دوسروں کو تباہ کرنے والے کبھی خود بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔ امریکہ کی توجہ کا مرکز گزشتہ پچاس برس میں صرف اسلحہ تیار کرنے والی فیکٹریاں رہی ہیں۔ کئی ہزار ارب ڈالر کی سرمایہ کاری جدید اور مہلک اسلحہ بنانے میں کی جاتی رہی یا دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے اڈے بنانے پر زور رہا۔ آج دنیا میں امریکہ کے سیکڑوں فوجی اڈے ہیں جن کا بنیادی کام امریکی دہشت طاری رکھنا اور بہ وقت ضرورت مخالف فریق کو زک پہنچانا ہے۔ دوسری طرف خطے کی بڑی طاقت چین نے اپنی تمام توجہ انفراسٹرکچر انڈسٹری اور پروڈکشن پر رکھی جس کا سامنا کرنا آج ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ چین نے اس کے ساتھ ساتھ حربی اسلحہ سازی پر بھی توجہ دی۔ چین آج کسی بھی معاملے میں کسی کا محتاج نہیں جبکہ امریکہ ایک بڑی طاقت ہونے کے باوجود بعض معاملات میں بے بس نظر آتا ہے۔ ریئر ارتھ منرلز کی پراسسنگ اسی سلسلے کا ایک اہم نکتہ ہے۔ چین اپنی اسی صلاحیت کی بنا پر اور اپنی پروڈکشن کی استعداد کی بدولت امریکہ کو جھکانے میں کامیاب رہا۔ امریکی صدر دورہ چین کے لئے بے چین ہیں۔ امریکہ آج اپنی زبوں حال اقتصادی حالت کو سنبھالنے کے لئے غیر ملکی سرمایہ کاری کا محتاج ہے جبکہ چین دنیا کو قرض اور نئی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ امریکہ کی بڑی خواہش تھی کہ روس، چین اور بھارت اس سے تعاون کریں، اس کی نظریں ہمیشہ سعودی عرب اور کویت کی دولت پر رہی ہیں۔ امریکہ سعودی عرب سے ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ اس حوالے سے تذبذب کا شکار تھی کہ کہیں غزہ کی صورتحال جنگ بندی اور ایکس کا معاملہ ان کی سرمایہ کاری مہم میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ سعودی کراﺅن پرنس محمد بن سلمان کے دورہ امریکہ کے پہلے مرحلے میں امریکی صدر نے انہیں عالمی میڈیا کے سامنے اظہار خیال کرنے کی نشست میں ان کی زبانی کہلوانا ضروری سمجھا کہ سعودی عرب، امریکہ میں ایک ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ امریکہ انہیں اپنے مہنگے ترین جہاز فروخت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ علاوہ ازیں بڑی تعداد میں ٹینک، میزائل اور سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی پر بات آگے بڑھی ہے۔ سعودی عرب سے آج رقم وصول کر کے یہ طیارے آج یا اسی ماہ ان کے حوالے نہیں کئے جائیں گے۔ یہ طیارے سعودی رقم سے تیار ہوں گے اور ان کی ترسیل میں خاصا وقت لگے گا شاید اس وقت تک ٹرمپ کی ٹرم ختم ہو چکی ہو۔
سعودی کراﺅن پرنس کے دورہ امریکہ سے بہت پہلے اہم معاملات طے تھے۔ معاہدوں کی جزئیات نکھار لی گئی تھیں، بس رسمی اعلان باقی تھا جو ہو گیا ۔میڈیا کے سامنے بیٹھ کر امریکی صدر نے اپنی عادت اور پالیسی کے سبب قدرے جارحانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی مگر احتیاط کے ساتھ وہ خوب جانتے تھے، ان کے سامنے یوکرین کا صدر زیلنسکی نہیں، عالم اسلام کی سب سے طاقتور شخصیت بیٹھی ہے جس کے پیچھے چھپن ملک کھڑے ہیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق پسندیدہ رپورٹرز سے ناپسندیدہ سوالات کرائے گئے تاکہ معزز مہمان کو الجھن میں ڈال کر چسکا لیا جا سکے لیکن سعودی کراﺅن پرنس نے بنا جھنجھلائے نہایت اطمینان سے ہر سوال کا جواب دیا۔ ان سوالوں کے بعد امریکی صدر اے پی سی نیوز کے رپورٹر کو ڈانٹتے نظر آئے لیکن دل ہی دل میں وہ خوش ہو رہے تھے کہ جناب محمد بن سلمان سے عدنان خشوگی کے بارے میں سوال پوچھا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر غزہ کے حوالے سے اور ابراہم اکارڈ کے حوالے سے اپنی پسند کا جواب حاصل کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ اس سوال اور سعودی کراﺅن پرنس کے جواب پر دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ اس سوال اور اس جواب سے اندازہ ہوتا تھا کہ سعودی عرب اور اسلامی ممالک کی پالیسی کدھر جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ازخود اختیارات کے تحت سوال داغا، آپ یقینا ابراہم اکارڈ کے حوالے سے ہمارے ہم خیال ہیں۔ سعودی پرنس کا جواب تھا، ہم اس علاقے میں امن دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس حوالے سے اس وقت پیش رفت ہو سکتی ہے جب دو ریاستی حل کا کہیں خاکہ بھی نظر آئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس جواب سے زیادہ خوشی نہ ہوئی ہو گی، ان کا خیال تھا کہ کراﺅن پرنس استقبالیہ سیاہ چمکدار گھوڑوں، جدید ہوائی جہازوں کی سلامی ایک اعلیٰ ترین انتظامات کے ساتھ ڈنر میں دنیا کے اہم ارب پتی سرمایہ کاروں کے سامنے عزت افزائی سے بہت مرعوب ہوں گے اور ٹرمپ کی ہاں میں ہاں ملا دیں گے، ایسا نہیں ہوا۔ جناب ٹرمپ ایک بڑی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن حقیقی کامیابی مسئلہ فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل ہی ہے جو ابھی تک الجھا ہوا ہے، وجہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور امریکہ کی اسرائیل کے سامنے بے بسی ہے۔ امریکہ بیک وقت اسرائیل اور عالم اسلام کو خوش کرنا چاہتا ہے جو ممکن نہیں۔
حقیقی کامیابی نہیں ملی
09:28 AM, 21 Nov, 2025