نیویارک :ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ پسِ پردہ سفارت کاری کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان فون پر شدید تکرار ہوئی ہے، جس نے دونوں اتحادیوں کے مابین موجود خلیج کو نمایاں کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو ٹیلی فون کر کے مطلع کیا کہ ثالثوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے مابین ایک "دستخطی خط" پر کام آخری مراحل میں ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان 30 دنوں پر محیط باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران کے ساتھ امریکی صدر کی اس براہِ راست ڈیلنگ کی خبر سنتے ہی نیتن یاہو آگ بگولا ہو گئے اور انہوں نے امریکی فیصلے پر سخت برہمی کا اظہار کیا، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان مکالمہ انتہائی تلخ شکل اختیار کر گیا۔ اسرائیل طویل عرصے سے واشنگٹن پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف سخت ترین موقف اختیار کرے۔
اس مبینہ تلخ کلامی اور دونوں ممالک کے تعلقات میں آنے والی دراڑ کے حوالے سے جب وائٹ ہاؤس اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے مؤقف مانگا گیا، تو دونوں جانب سے اس پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے مکمل گریز کیا گیا۔