بیوروکرپٹ

09:09 AM, 21 May, 2026


بیوروکریسی کی بھی پانچوں اُنگلیاں ظاہر ہے ایک جیسی نہیں ہوتیں مگر ہوتی پانچوں گھی میں ہیں، کوئی افسر او ایس ڈی ہو بھی جائے اُس کی فرمائشیں لوگ اس لیے پوری کرتے رہتے ہیں کیا پتہ یہ دوبارہ کسی اہم شاخ پر بیٹھ پر جائے، سیاسی بیوروکرپٹوں کی حالت اتنی ابتر ہے اپنی عزت آبرو کی اُنہیں کوئی پروا ہی نہیں، جیسے بازار حُسن کے کچھ رہائشیوں کو نہیں، جیسے کچھ دین فروش مولویوں کو نہیں، جیسے کچھ لفافہ پرست صحافیوں کو نہیں، جیسے کچھ سیاہ ست دانوں کچھ ججوں یا کچھ جرنیلوں کو نہیں، ہمارا المیہ یہ ہے ہمارا کوئی ادارہ نہیں بچا جس نے اپنی ساکھ یا اپنی عزت آبرو قائم رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی ہو، سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں، سب کا دین ایمان صرف پیسہ بن کے رہ گیا ہے، کرپشن کی گنگا میں اب صرف ہاتھ نہیں دھوئے جاتے پورے پورے غُسل کیے جاتے ہیں، کرپشن صرف وہ نہیں کرتا جسے کرپشن کے مواقع نہیں ملتے، اس عالم میں صوبے کے چیف سیکریٹری کا اپنی مالکہ کے پیچھے کھڑے ہو کے تالیاں بجانا بہت معمولی عمل ہے، یہ خوشامد کا معمولی درجہ ہے جس پر سوشل میڈیا نے خواہ مخواہ طوفان برپا کر دیا ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا اس سے محترم چیف سیکریٹری کوئی شرم محسوس کر لیں اور آئندہ ایسے احمقانہ اقدامات سے گریز فرما لیں جو اُن کی شخصیت کے شاید شایان شان ہوں عہدے کے ہرگز نہیں ہیں، اللہ جانے ہمارے کچھ سول و پولیس افسران محض اپنے ذاتی و مالی مفادات کے تحفظ میں اپنے عہدوں کی گریس کیوں گروی رکھ دیتے ہیں؟ بیوروکریسی میں کیسے کیسے شاندار لوگ تھے، ہمارے ایک سینئر بیوروکریٹ ڈاکٹر شہزاد قیصر کو ریٹائرڈ ہوئے کتنے برس بیت گئے، بیسیوں کتابوں کے مصنف ہیں، اپنی سادگی اور ایمانداری کے باعث آج بھی ہمارے دلوں میں بستے ہیں، ایک بار میں نے اُن سے پوچھا ”سر آپ کی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ آیا جب آپ بہت زیادہ دُکھی ہوئے ہوں“، میرا خیال تھا ہمارے روایتی انداز میں وہ فرمائیں گے ”ہاں جب میرے والد یا والدہ کا انتقال ہوا یہ لمحہ بہت دُکھ دینے والا تھا“۔ اُنہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا، فرمانے لگے ”میری سروس کے ابتدائی دن تھے، میں ایک تحصیل میں بطور اے سی یو ٹی تعینات ہوا، ایک بار اُس ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے کسی فائل پر میری نوٹنگ دیکھ کر کہا ”تم بہت نکمے افسر ہو“، اس ’بے عزتی‘ نے بہت عرصے تک مجھے بہت غم زدہ رکھا، اس کا ازالہ میں نے یوں کیا پھر میں بہت محتاط ہو گیا، میں نے بہت محنت کی اور ریٹائرمنٹ تک ایک لمحہ ایسا نہیں آنے دیا جب کسی نے مجھے دوبارہ نکمے پن کا طعنہ دیا ہو، بلکہ جس ڈپٹی کمشنر نے مجھے یہ طعنہ دیا تھا بعد میں میری اے سی آر پر وہ یہ لکھنے پر مجبور ہو گیا ”شہزاد قیصر میرے ضلع کے سب سے محنتی قابل اور اہل افسر ہیں“۔ شرم وحیا اور عزت آبرو کو ہر حال میں مقدم رکھنے والے ایسے افسران چراغ لے کے ڈھونڈے سے بھی اب نہیں ملتے، ہماری کچھ سرکاری اکیڈمیاں مقابلے کے امتحانات پاس کر کے آنے والے انسانوں کے روپ میں مختلف افسروں کی ٹرینگیں کراتی ہیں یوں محسوس ہوتا ہے اُن کے سیلیبس میں ایک باب شاید بے عزت ہونے یا فن خوشامد کا بھی شامل کر دیا گیا ہے، ہمارے کچھ افسروں کو سیاہ سی و اصلی حکمرانوں کے میراثی بننے کا شوق اب اپنی انتہاو¿ں پر ہے، خوشامد کے وٹے اُٹھانے کا عمل دیکھا تھا اب وٹے باقاعدہ منہ میں ڈال لیے جاتے ہیں، جن کالی کرتوتوں کے مظاہرے یہ کرتے ہیں سیاہ ست دان ان کے مقابلے میں صفر بھی نہیں، سیاہ ست دانوں کو کرپشن کے داو¿ پیچ سکھانے والے یہی ہوتے ہیں تاکہ اس کی آڑ میں یہ خود بھی اَنی ڈال سکیں، میرٹ کی اندھا دُھند خلاف ورزیاں خود کر کے اُنہیں بھی سیاسی حکمرانوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، تازہ واقعہ سُنیں، پنجاب کے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن نے اپنے ماتحت ایک سرکاری تعلیمی ادارے میں اس ادارے کی سنیارٹی پر ساتویں نمبر پر آنے والے ایک شخص کو اپنے ایک ”ہم نوالے ہم پیالے“ کی سفارش پر پرنسپل کے اختیارات سونپ دئیے، میرٹ جائے بھاڑ میں، اس کی پروا ہی اُس نے نہیں کی، اُس کے اس عمل سے پنجاب میں کہنے کی حد تک جو میرٹ پالیسی ہے وہ بھی خسارے میں چلی گئی، بیشمار نامراد افسر خود غلط کام کر کے اُنہیں وزیراعلیٰ کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، کہتے ہیں ہمیں یہ احکامات اُوپر سے یعنی سی ایم ہاو¿س سے موصول ہوئے ہیں اور جب سی ایم آفس اس کا کوئی نوٹس نہیں لیتا تو ان نامراد افسروں کے اس غلط مو¿قف یا تاثر کو مزید تقویت ملتی ہے، کچھ افسران ایسی ایسی ”باریک وارداتیں“ ڈالتے ہیں، کیا انمول پنکی یا پنکی پیرنی نے ڈالنی ہیں، بیوروکرپٹوں کی ان انمول پنکیوں نے پورا نظام خرید و فروخت پر لگا دیا ہوا ہے، ایک زمانہ تھا کسی افسر پر کسی کالم یا اداریے میں کوئی غلط الزام لگتا وہ جب تک اُس کی وضاحت نہ کر لیتا اُسے سکون نہیں ملتا تھا، اب کچھ بیوروکرپٹوں کی نااہلی و کرپشن پر دو دو گھنٹے کے شوز ہوتے ہیں وہ پروا ہی نہیں کرتے، بلکہ اسے اپنے کاروبار کرپشن کی ایک ایڈورٹائزمنٹ سمجھتے ہیں، دو برس پہلے میں نے اپنی غلط معلومات کے باعث اپنے ایک دوست بیوروکرپٹ کو اپنے کالم میں ”ایماندار“ لکھ دیا، اُس نے مجھ سے شکوہ کیا ”تم کیوں میری شہرت کے پیچھے پڑے ہو؟ تمہاری تعریف سے میرے گاہکوں میں اچھی خاصی کمی واقع ہو جائے گی“، اگلے روز لاہور کے حفیظ سنٹر میں موبائل فونوں کی دکان کے مالک سے میں نے پوچھا ”بیشمار افسران اور پولیس افسران سے آپ کی دوستیاں ہیں، ہماری کوئی کال اٹینڈ کرے نہ کرے آپ کی کال وہ پہلی بیل پر اُٹھاتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟“ پہلے وہ تھوڑا ہچکچایا پھر بولا ”سر اصل میں ہمارے بیشمار افسران کو موبائل فونز، لیپ ٹاپ اور آئی پیڈ وغیرہ کرپشن کی مد میں گفٹ ملتے ہیں، یہ گفٹ وہ باہر کسی دکاندار کو فروخت کریں اُنہیں اس کا بہت کم ریٹ ملتا ہے، میں اُنہیں پورا ریٹ دے دیتا ہوں، بلکہ فیلڈ میں تعینات اہم افسروں یا پولیس افسروں کو کچھ زیادہ رقم دے دیتا ہوں، بلکہ اُن کی کچھ اور فرمائشیں بھی پوری کر دیتا ہوں جو انمول پنکی کی گرفتاری پر اب کچھ عرصے کے لیے میں شاید نہیں کر سکوں گا، میرا کاروبار ان ہی افسروں کی وجہ سے چلتا ہے، مجھے باہر سے مال خریدنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، ساری سپلائی یہی فراہم کر دیتے ہیں“۔ ایک اور صوبائی سیکریٹری کی ”کرپشن کاریگری“ میں آپ کو اگلے کالم میں بتاو¿ں گا، میری گزارش اپنے لوگوں سے بس اتنی ہے کرپشن یا نااہلی کے حوالے سے صرف اپنے سیاستدانوں کو بدنام نہ کیا کریں، ہمارے بیوروکرپٹ اُن سے بہت آگے ہیں۔

مزیدخبریں