والدین کی وفات کے بعد گھر میں ایک عجیب سا سناٹا چھا جاتا ہے۔ درودیوار وہی ہوتی ہیں مگر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھر کی روح کہیں دور چلی گئی ہو۔ پھر ایک دن الماریاں کھولی جاتی ہیں۔ فائلیں اور کاغذات نکالے جاتے ہیں اور جائیداد کا ذکر شروع ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ رشتوں کے لہجے بدلنے لگتے ہیں۔
کہیں ریفریجریٹر پر بحث، کہیں سکوٹر یا کار پر جھگڑا اور کہیں ایک کمرے کی خاطر برسوں کی محبت داﺅ پر لگ جاتی ہے۔ ہر شخص کے پاس اپنی دلیل ہوتی ہے کہ
٭۔میں نے اماں ابا کی زیادہ خدمت کی تھی۔
٭۔میں آخری وقت میں ان کے ساتھ تھا۔
٭۔ یہ میرا حصہ بنتا ہے۔
والدین اپنی پوری زندگی جس اولاد کو جوڑنے میں گزار دیتے ہیں ان کے جانے کے بعد اولاد چیزوں میں تقسیم ہونے لگتی ہے۔ یہ صرف چند گھروں کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک خاموش حقیقت ہے۔ وراثت کی تقسیم اب صرف قانونی شروعی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ اخلاق، تربیت، ظرف اور رشتوں کے امتحان میں بدل چکی ہے۔ اصل المیہ یہ نہیں کہ لوگ جائیداد تقسیم کرتے ہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ وہ رشتے /دل بھی تقسیم کر لیتے ہیں۔
ہم اپنے والدین کی عینک بڑے احترام سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان کی گھڑی، قلم، پرانا کرتا حتیٰ کہ ان کے استعمال کی عام سی چیز بھی ہمیں قیمتی محسوس ہوتی ہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ یادیں وابستہ ہوتی ہیں مگر حیرت کی بات ہے کہ ہم اکثر ان کی سب سے قیمتی نشانیاں بھول جاتے ہیں جو اولاد/ بہن، بھائی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہوتی ہے۔ بہن بھائی تو والدین کی نشانیاں ہوتے ہیں۔ کسی کی آواز میں والد کی جھلک ہوتی ہے تو کسی کی عادات میں والدہ/ اماں نظر آتی ہیں۔ ان کی موجودگی انسان کو اپنے بچپن اور اپنے گھر سے جوڑے رکھتی ہے۔ قرآن و سنت میں بھی ان رشتوں کو غیرمعمولی اہمیت دی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم دنیا کے چند کمروں، مرلوں یا چند چیزوں کی خاطر ان رشتوں کو قربان کر دیتے ہیں جنہیں جوڑنے کا حکم قرآن اور حدیث میں دیا گیا ہے۔
آج عدالتوں میں وراثتی مقدمات کی بڑی تعداد اپنے ہی خاندان کے خلاف ہے۔ بھائی بھائی کے سامنے کھڑا ہے۔ بہنیں برسوں سے ناراض ہیں۔ والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک حیات ہے تو دونوں طرف دیکھ کر افسردہ ہیں۔ جو گزر گئے اس دنیا سے وہ شاید اپنی قبروں میں بھی یہی دعا کرتے ہوں گے کہ کاش اولاد دوبارہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ جائیداد بانٹنا آسان ہے مگر رشتے بٹ جائیں تو انہیں جوڑنا بہت مشکل ہے۔ دنیا کی کوئی عدالت اور کوئی فیصلہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو مکمل طور پر بحال نہیں کر سکتا۔
بڑے ظرف والا انسان وہ نہیں ہے جو سب کچھ اپنے نام کرے بلکہ وہ ہے جو سب کچھ چھوڑ کر بھی اپنے رشتوں کو اپنے قریب رکھ سکے۔
حضرت یوسفؑ کی زندگی بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔ بھائیوں نے ظلم کیا ، کنویں میں پھینکا مگر جب وقت بدلا تو انہوں نے معافی کا راستہ اختیار کیا۔ میرے نبی حضرت محمد نے بھی فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہی انبیاءکا اخلاق اور اسلام کی اصل روح ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو صرف وراثت کے قوانین نہیں بلکہ رشتوں کی حرمت بھی سکھانی ہو گی۔ ہمیں اولاد کو احساس دلانا ہو گا کہ اصل دولت زمین، پلاٹ یا سامان نہیں بلکہ ایک دوسرے کا ساتھ ہے۔
دنیا کا ہر سامان ایک دن ختم ہو جائے گا۔ گاڑیاں پرانی ہو جائیں گی، گھر بوسیدہ ہو جائیں گے، زمین کسی اور کے نام ہو جائے گی مگر رشتے بچ گئے تو انسان کبھی غریب نہیں رہتا۔ شاید اس لئے زندگی کی سب سے بڑی دولت جائیداد نہیں وہ لوگ/ رشتے ہوتے ہیں جن کے ساتھ انسان اپنی خوشیاں، غم اور یادیں بانٹ سکے اور حقیقت یہ کہ بھائی بہن صرف وراثت نہیں ہوتے وہ والدین کی سب سے خوصورت نشانیاں ہوتے ہیں۔
والدین کی نشانیاں
09:09 AM, 21 May, 2026