حالیہ منشیات و منی لانڈرنگ معاملا ت نے ہمارے سکیورٹی اور امن و امان کے اداروںکو ہلا کر رکھ دیا ہے، یہ لفظ شاید میں غلط استعمال کر رہا ہوں کہ اس طرح کے واقعات، میڈیا کی رونق بنتے ہیں مگر ادارے ہلتے نہیں اسکی وجہ پشت پر بیٹھے اصل لوگ ہوتے ہیں جن کی مہربانی سے یہ قصے جنم لیتے ہیں، اور لگتا ہے کہ کچھ لین دین کا جھگڑا ہوتا ہے جس وجہ سے یہ معاملات منظر عام پر آتے ہیں۔ میڈیا کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غیر قانونی معاملات کئی سال سے جاری ہیں، یہ کہتے ہوئے بھی کسی کو شرم نہیںآتی اگر کئی سال سے یہ جرم ہو رہا تھا تو قانون نافذ ادارے کیا کررہے تھے۔ جب منظر عام اور میڈیا پر معاملہ آیا تو سچ جھوٹ ہر زبا ن پر آ گیا۔ سندھ کے وزراءبول پڑے، ایک وزیر تو میڈیا سے شکوہ کر رہے ہیں کہ کیوں اس خبر کو پھیلا رہے ہیں؟ خبر آ گئی قانون نافذ کرنے والے ادارے کام کر رہے ہیں وہ دیکھ لینگے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب سابق چیف جسسٹس ثاقب نثار نے ان وزیر صاحب کے ہسپتال کے کمرے میں دورے کے دروان کچھ غیر قانونی اشیاءکا انکشاف کیا تھا انہوں نے اسے زم زم قرار دے دیا تھا، انتقال ہوا تو مقدمہ بھی انتقال کر گیا۔ غریب شخص کی جیب سے اگر چرس کا ایک سگریٹ بھی مل جائے تو ”سرگرم“ امن و امان کے کرتا دھرتا اس شخص کی کھال بھی ادھیڑنے سے گریز نہیں کرتے۔ ستم یہ ہے کہ میڈیا پر یہ خوفناک معاملات منظر عام پر آتے ہیں جس کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے اور بڑے سے بڑا معاملہ بھی داخل دفتر ہو جاتا ہے۔ عدالتیں انسانی حقوق کے تحت ضمانتیں قبول کر لیتی ہیں، جبکہ منشیات فروش تو ہماری نسل کی تباہی کا مرتکب ہوتا ہے، اس میں قصور وار منشیات فروش ہی نہیں انہیں سہارا دینے والے بھی ہوتے ہیں اور یہ سہارا انہیں ہمارے ”نظامِ انصاف“ کا بھی ہوتا ہے۔ عوام بڑے سے بڑے سکینڈل پر اپنی پریشانی ظاہر کرتے ہیں اور دوسری جانب اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ ”ہو گا کچھ نہیں“ یہ تو چند دن کا پراپیگنڈہ ہے۔ ہمارے کرتا دھرتا نہ جانے کیوں عوام کو بھلکڑ سمجھتے ہیں۔ انہیں یاد ہے، ایان علی جسے 2015 میں اسلام آباد ائیرپورٹ پر تقریباً 5 لاکھ ڈالر کے ساتھ کسٹم آفیسر چودھری اعجاز نے گرفتار کیا، جس کے بعد ان پر کرنسی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگے، وہ ضمانت پر رہا ہوئیں اور دبئی منتقل ہو گئیں چند ماہ بعد ہی انہیں گرفتار کرنے والا کسٹم آفیسر چودھری اعجاز قتل ہوگیا۔ قاتل نامعلوم، ایان علی کو کوئی سزا ہوئی نہ ہی چودھری اعجاز کے قاتل پکڑے گئے۔ کئی سال میں مختلف مقدمات کمزور پڑ گئے یا عدالتوں میں التوا کا شکار رہے۔ مقدما ت چلتے رہے، بقول ایک ہندی فلم کے مشہور مکالمہ ”تاریخ پر تاریخ“۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے خلاف کچھ کیسز ختم یا غیر فعال ہو گئے، لیکن یہ معاملہ پاکستانی سیاست اور طاقتور حلقوں کے حوالے سے کافی مشہور رہا۔ تحریک انصاف کے قانونی مشیر جو اسوقت پی پی پی کے اہم رکن تھے، ایان علی کے مقدمے کی پیروی کر رہے تھے، نے اخبار نویسوںکے سوال پر کہا کہ ایان علی دوبئی ”مسجد کا چندہ لیکر جا رہی تھیں“۔ ڈاکٹر فضیلہ قاضی کے حالیہ کیس میں ایف آئی اے نے تقریباً 22 سے 25 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز، 22 بینک اکا¶نٹس، حوالہ ہنڈی اور بیرون ملک رقم منتقلی کے الزامات لگائے ہیں۔ وہ بھی آب و تاب سے عدالت آ کر اپنی امارت کا رعب بیچارے لوگوں پر ڈالتی تھیں، ان کی عبوری ضمانت ایک وقت پر منسوخ ہوئی۔ کیس ابھی زیرِ تفتیش اور عدالت میں زیرِ سماعت ہے، کوئی حتمی عدالتی سزا یا فیصلہ سامنے نہیں آیا، اور خاطر جمع رکھیں آئے گا بھی نہیں۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر اس کیس پر بہت بحث ہوئی، جہاں بعض لوگ اسے ”ہائی پروفائل“ اور ”اثر و رسوخ“ والا کیس قرار دے رہے ہیں، کچھ رقوم دبئی اور امریکا منتقل کی گئیں، غیر رجسٹرڈ یا غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے شواہد ملے۔ ٹک ٹاکر حریم شاہ کا سب سے مشہور کیس 2022 میں سامنے آیا تھا، جب انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ برطانوی کرنسی کے بڑے بنڈلز دکھا رہی تھیں اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ یہ رقم پاکستان سے برطانیہ لے کر گئی ہیں۔ اس کے بعد ایف آئی اے نے ان کے خلاف منی لانڈرنگ اور فارن ایکسچینج قوانین کے تحت انکوائری شروع کی۔ وہ تو نہ جانے کس کس کی منظور نظر تھیں، ان کی ایک تصویر میڈیا میں آئی جس میں وہ وزیر اعظم ہاو¿س میں وزارت خارجہ کے دفتر میں جو انتہائی حساس ہوتا ہے، وہاں کرسی پر بیٹھ کر tik tok بنا رہی تھیں۔ بقول حریم شاہ، انہوں نے یہ ویڈیو مزاح اور فن کیلئے بنائی تھی مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ کس طرح اس حساس جگہ پہنچیں؟؟؟ انہیں کسی سزا کی خبر سامنے نہیں آئی۔ اب وہ برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔ ایک میڈیا میں آنے والا معاملہ سندھ کے ایک بااثر شخص کے گھر کا جہاں کئی مہنگی گاڑیاں اور کمروں میں سونے کی بڑی مقدار دکھائی گئی، وہ معاملہ تو ایسے غائب ہوا کہ ”اللہ ہی جانے کون بشر ہے؟؟“ سیاست دانوں پر انکی مخالف حکومتیں اکثر مقدمات بنا کر گرفتاریاں کرتی ہیں مگر حالیہ زبان زد عام ”انمول پنکی“ ہیں وہ جس شان سے گرفتاری کے بعد عدالت میں آئیں لگا کہ وہ کوئی اہم کارنامہ انجام دیکر آئی ہیں، پولیس انکے لئے راستہ بنا رہی تھی، جس انداز میں وہ عدالت میں آئیں اگر وہ برقعے میں آتی تو لوگوںکی توجہ نہیں جاتی، انکی ”بہادرانہ چال“ ٹی وی سکرین پر دیکھ کر ہر شخص کا متوجہ ہونا ضروری تھا انکی آمد کا سٹائل ہمارے نظام پر ایک زور دار طمانچہ تھا۔ کراچی پولیس کے مطابق انمول پنکی کو ایک بڑے مبینہ منشیات نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک کوکین اور دیگر مہنگی منشیات سپلائی کرنے والے نیٹ ورک سے منسلک تھی۔ منشیات
فروش اپنی آمدن کیلئے تعلیمی اداروںکا رخ کرتے ہیں جس سے ہماری نسل کی تباہی کے علاوہ کچھ نتیجہ نہیں نکلتا۔ محترمہ بھی ”ہائی پروفائل“ گاہکوں اور بعض تعلیمی اداروں تک منشیات پہنچاتی تھی۔ مبینہ طور پر خواتین رائیڈرز بھی استعمال کی جاتیں تاکہ شک نہ ہو۔ ہر مجرم ایماندار بنتے ہوئے اسوقت کے اہم سیاسی مخالفین کا ذکر کرتا ہے جیسے پنکی نے کہا کہ مجھ پر اڈیالہ کے ایک شخص کا نام لینے پر زور ڈالا جا رہا ہے۔ پنجاب پولیس نے منشیات کے پرانے مقدمات بھی کھول دئیے۔ سوال یہ ہے کہ وہ فائلوں میں سو کیوں رہے تھے؟؟ اطلاعات ہیں کہ اکثر سیاست دان پنکی برانڈ منشیات سے لطف اندوز ہو چکے ہیں، اللہ عالم۔ اس مقدمے کا فیصلہ بھی ہماری تاریخ کے دیگر مقدمات، گرفتاریوںکی طرح کچھ نہ ہوا تو اس میں دو رائے نہیں کہ کرتا دھرتا پنکی کے اس بیان پر خوف میں مبتلا ہیں جب اس نے کہا کہ ”ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے“۔ جن کے ڈوبنے کا وہ کہہ رہی ہے انکی تو نیندیں حرام ہو گئی ہونگی۔ وعدہ تو سرکاری حلقے کر رہے ہیں کہ تمام کردار اس منشیات سکینڈل کے سامنے لائے جائینگے۔ مگر جہاں کروڑوں روپے کی رشوت اور بزنس کا معاملہ ہو وہاں کوئی سامنے لایا نہیں جاتا یہ ہماری تاریخ ہے۔
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تمہیں بھی لے ڈوبیں گے
09:08 AM, 21 May, 2026