ہم نے 16اپریل کو شائع ہونے والے اپنے کالم ” پاکستان زندہ باد“ میں عرض کیا تھا کہ ” اصل میں بات یہ تھی کہ مذاکرات کے حوالے سے ہم نے امیدوں کو اس قدر بڑھا دیا تھا اور یہ ایک بالکل فطری عمل تھا تو جب بنا کسی نتیجہ پر پہنچے مذاکرات ختم ہوئے تو کچھ دھچکہ لگنا بھی عین فطری عمل تھا لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ پاکستان ان مذاکرات میں ایک ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ مذاکرات میں شامل امریکہ ایک سپر پاور اور دوسرا ایران اس خطے کا ایک انتہائی اہم اور دفاعی میدان کا ایک طاقتور کھلاڑی تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ مذاکرات کے ایک راﺅنڈ میں آدھی صدی کے بکھرے انتہائی سنگین معاملات طے پا جاتے جبکہ انھیں ناکام بنانے والی اسرائیل اور ہندوستان ایسی قوتیں بھی اپنا کام پوری طاقت سے کر رہی ہیں ۔ یہاں ایک لمحہ کے لئے رک کر قارئین کو یاد دلاتے جائیں کہ 1979میں مصر اور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ کے نام سے ایک تاریخی معاہدہ ہوا تھا جس میں ثالثی امریکہ جیسی سپر پاور نے کی تھی لیکن پھر بھی ایک دو نہیں بلکہ بارہ دن مذاکرات ہوتے رہے تھے اس کے بعد کہیں جا کر دونوں فریق کسی سمجھوتے پر پہنچے تھے یہاں تو معاملات کہیں زیادہ سنگین ہیں اور ممکن ہی نہیں تھا کہ ایک راﺅنڈ میں ہی تمام معاملات طے پا جاتے اور فریقین کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ جاتے ۔ “ اس کے علاوہ اس بات کا علم بھی سب کو ہے کہ اس وقت اس کرہ ارض پر موجودہ اکلوتی سپر پاور کے صدر ٹرمپ بہادر نے روس یو کرین جنگ رکوانے کے کیا کیا جتن نہیں کئے بلکہ تمام تر سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے گھر آئے مہمان یوکرین کے صدر کو میڈیا پر لائیو کوریج میں ڈانٹتے ہوئے ان کی تذلیل تک کر دی لیکن جنگ رکوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور بڑی تگ و دو کے بعد اب کہیں جا کر گذشتہ ہفتہ تین دن کی جنگ بندی ہوئی تھی جبکہ پاکستان کے کہنے پر جنگ بندی کو ایک ماہ سے زیادہ کا وقت ہو گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ شروع ہونے سے پہلے اگر کسی کو یاد ہو کہ عمان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا اور اس ثالثی کا انجام یہ ہوا کہ عین مذاکرات کے دوران کہ جب ایران امریکہ دونوں اطراف سے سب اچھا ہے کے بیانات دیئے جا رہے تھے تو امریکہ اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین اور سفارتی آداب کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ایران پر حملہ کر دیا لیکن اس کے باوجود بھی کسی نے عمان کی ثالثی پر انگلیاں نہیں اٹھائیں اور نہ ہی روس یوکرین جنگ میں ناکام ثالثی پر امریکہ یا ڈونلڈ ٹرمپ کو مطعون کیا لیکن پاکستان میں ایک طبقہ جنھیں ہم پاکستانی مودی کہتے ہیں وہ زمینی حقائق کو پس پشت ڈالتے ہوئے منفی پروپیگنڈا ضرور کرتے رہتے ہیں۔
ہم نے جو کچھ عرض کیا تھا اس کی کچھ وجوہات بھی تھیں ۔ آپ اس بات پر غور کریں کہ اس جنگ میں شامل ملکوں کی تعداد کتنی ہے ۔ ایران امریکہ اور اسرائیل تو براہ راست اس جنگ کے فریق ہیں لیکن سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، کویت، بحرین ، قطرمیں جو امریکی اڈے ہیں وہاں سے ایران پر میزائل داغے گئے جبکہ پاکستان ، ترکیہ ، روس اور چین اس جنگ میں شامل تو نہیں تھے لیکن ان چاروں ممالک کا اس جنگ کو رکوانے اور اسے محدود رکھنے میں بڑا اہم کردار ہے جبکہ اس جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی اور خاص طورپر آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سے پوری دنیا کی معیشت اس جنگ سے متاثر ہو رہی ہے ۔ دنیا بھر میں اور خود امریکہ کے اندر تیل کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں ۔ امریکہ کے اندر سے عام آدمی سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک جتنا دباﺅ ہے اس کے پیش نظر خود امریکن صدر کے لئے اس جنگ کو جاری رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس دوران کئی بار ایسا بھی ہوا کہ کسی تیسری قوت کی جانب سے کبھی متحدہ عرب امارات تو کبھی سعودی عرب پر میزائل فائر کئے گئے لیکن خدائے بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جنگ بندی اب تک قائم ہے ۔
لیکن بات یہ ہے کہ بندہ اپنے منہ میاں مٹھو بنے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ یہاں تو دونوں فریق ایران اور امریکہ پاکستان کی ثالثی اور نیک نیتی اور انتھک محنت کی کم و بیش ہر روز تعریف کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ تمام عرب ریاستیں جن میں سعودی عرب ، عمان ، قطر اور دیگر پاکستان کی ثالثی پر مطمئن بھی ہیں اور اس حوالے سے اتفاق رائے بھی پایا جاتا ہے کہ پاکستان بہترین ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے ۔عرب ریاستوں کے علاوہ یورپین ممالک بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کر رہے ہیں اور پھر چین اور روس بھی پاکستان کی ثالثی پر متفق ہیں یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے مودیوں کے علاوہ پوری دنیا پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف بھی کر رہی ہے اور اس حوالے سے پاکستان کی نیت نیتی کا اعتراف بھی کر رہے ہیں ۔ یہ سب کچھ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی بہترین کاوشوں کا نتیجہ ہے اور خاص طورپر فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے کردار کو کسی طرح فراموش نہیں کیا جا سکتا اور فیلڈ مارشل صاحب کے کردار اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف بھی ڈونلڈ ٹرمپ سمیت پوری دنیا کر رہی ہے ۔ اس صورت حال میں ہمیں ایک پاکستانی ہونے کے ناطے یقینا فخر کرنا چاہئے لیکن اگر ہم اسرائیل اور ہندوستانی پروپیگنڈا کا شکار ہو کر اپنے ہی ملک کے خلاف منفی پروپیگنڈا کریں گے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
پاکستان کی ثالثی
09:06 AM, 21 May, 2026