پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں آج بھی کئی علاقوں میں بیٹی کو رحمت کے بجائے ذمہ داری اور بعض اوقات بوجھ سمجھا جاتا ہے، وہاں کم عمری کی شادی ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس نے ہزاروں معصوم بچیوں کے خواب نگل لیے ہیں۔ کم عمر بچیاں جن کے ہاتھوں میں کتابیں، قلم اور زندگی کے روشن خواب ہونے چاہئیں، انہیں وقت سے پہلے شادی کے بندھن میں جکڑ کر ذمہ داریوں، بیماریوں اور محرومیوں کی اندھی گلیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کو قانون کی شکل دینا نہ صرف ایک تاریخی اقدام ہے بلکہ ایک مہذب، باشعور اور انسانی معاشرے کی جانب مثبت پیش رفت بھی ہے۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف اس اقدام پر بجا طور پر مبارک باد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے ایک ایسے حساس اور مشکل مسئلے پر قانون سازی کی جس پر ماضی میں اکثر حکومتیں مصلحت، دباﺅ یا سماجی ردعمل کے خوف سے خاموش رہیں۔ مریم نواز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب یہ ثابت کیا ہے کہ حکومت صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کے نام نہیں بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات، بالخصوص بچوں اور بچیوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ پنجاب حکومت کی یہ قانون سازی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اگر نیت درست ہو تو سماجی برائیوں کے خلاف عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کم عمری کی شادی صرف ایک رسم یا خاندانی فیصلہ نہیں بلکہ ایک سماجی ظلم ہے۔ یہ ظلم اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب ایک نابالغ بچی کو اس کی مرضی، شعور اور ذہنی پختگی کے بغیر زندگی کے ایک ایسے مرحلے میں داخل کر دیا جاتا ہے جس کے تقاضے وہ پورے کرنے کے قابل ہی نہیں ہوتی۔ کم عمری میں شادی دراصل بچیوں سے ان کا بچپن چھین لینے کے مترادف ہے۔ کھیلنے کودنے، سیکھنے، آگے بڑھنے اور اپنی شناخت بنانے کی عمر میں انہیں گھریلو ذمہ داریوں اور معاشرتی دباﺅ کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں بارہا اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پنجاب میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ چائلڈ پروٹیکشن کے حوالے سے یہ قانون محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی قدم بن کر سامنے آیا ہے۔ پنجاب حکومت نے صرف قانون منظور
کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے نفاذ، نگرانی اور آگاہی کے لیے بھی مختلف اداروں کو متحرک کیا ہے۔ یہ پہلو اس قانون کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔کم عمری کی شادی کے سب سے تباہ کن اثرات بچیوں کی صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف سخت قوانین بنائے جا رہے ہیں۔ مہذب معاشرے اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ بچیوں کو تعلیم، صحت اور تحفظ دینا دراصل ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھنا ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی اسی شعور کے تحت یہ قانون متعارف کروایا ہے اور یہ اقدام اس لحاظ سے بھی قابل ستائش ہے کہ اس میں بچیوں کی صحت، تعلیم اور مستقبل کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔کم عمری کی شادی کا دوسرا بڑا نقصان تعلیم کا خاتمہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی بچی کی شادی طے ہوتی ہے، اس کی تعلیم ختم کر دی جاتی ہے۔ اس کے خواب، صلاحیتیں اور مستقبل ایک لمحے میں محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ لڑکی نہ صرف اپنے حقوق سے آگاہ ہوتی ہے بلکہ وہ پورے خاندان کی تربیت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ایک مرد تعلیم حاصل کرتا ہے تو ایک فرد تعلیم یافتہ بنتا ہے، لیکن اگر ایک عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو پوری نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے تعلیم کے شعبے میں بھی خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ یہی سوچ کم عمری کی شادیوں کے خلاف اس قانون میں بھی نظر آتی ہے۔ دراصل یہ قانون صرف شادی کی عمر متعین کرنے کا نام نہیں بلکہ بچیوں کو تعلیم مکمل کرنے، خود مختار بننے اور باعزت مستقبل حاصل کرنے کا حق دینے کی کوشش ہے۔ چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد نے بالکل درست کہا کہ کم عمری کی شادی صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ صحت، تعلیم اور غربت سے جڑا ایک سنگین بحران ہے۔ غربت کے شکار خاندان اکثر معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے بچیوں کی جلد شادی کر دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ فیصلہ غربت کے خاتمے کے بجائے اسے مزید بڑھا دیتا ہے۔ کم تعلیم یافتہ اور کمزور صحت رکھنے والی مائیں نہ صرف خود مسائل کا شکار رہتی ہیں بلکہ ان کے بچے بھی بہتر زندگی سے محروم رہتے ہیں۔پنجاب حکومت نے اس قانون سازی کے دوران مذہبی رہنماں، طبی ماہرین، قانونی ماہرین اور سماجی اداروں کو اعتماد میں لے کر مثبت مکالمے کی روایت قائم کی، جو خوش آئند امر ہے۔ ایک حساس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوتا، مگر وزیراعلی پنجاب کی قیادت میں حکومت نے تدبر، حکمت اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قانون محض ایک سرکاری دستاویز نہیں بلکہ ایک اجتماعی سماجی شعور کی علامت بن کر سامنے آیا ہے۔نئے قانون کے تحت کم عمری کی شادی کے جرائم کو ناقابلِ ضمانت، ناقابلِ راضی نامہ اور قابلِ دست اندازی پولیس قرار دینا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پنجاب حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ نکاح رجسٹرار کے خلاف کارروائی، کم عمر بچیوں کو شادی کے لیے صوبے سے باہر منتقل کرنے کو غیر قانونی قرار دینا اور قانون کے نفاذ کے لیے ادارہ جاتی تعاون پیدا کرنا اس قانون کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔تاہم، قانون سازی اپنی جگہ مگر اصل کامیابی اس کے مو¿ثر نفاذ میں پوشیدہ ہے۔ اگر یہ قانون صرف فائلوں اور بیانات تک محدود رہا تو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ضلع، ہر تحصیل، ہر یونین کونسل اور ہر گاﺅں کی سطح پر عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔ والدین، اساتذہ، علما، سماجی کارکنوں اور میڈیا کو مل کر یہ شعور اجاگر کرنا ہوگا کہ بیٹی بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا سب سے خوبصورت سرمایہ ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایک محفوظ بچپن ہی ایک محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ جب بچیاں تعلیم یافتہ، صحت مند، خود اعتماد اور بااختیار ہوں گی تو معاشرہ خود بخود ترقی کرے گا۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا یہ اقدام اسی روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اگر اس قانون پر خلوص نیت سے عملدرآمد جاری رہا تو یقینا پنجاب آنے والے برسوں میں بچوں اور بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک مثال بن سکتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم فرسودہ روایات، جاہلانہ رسموں اور تنگ نظری کے بجائے شعور، تعلیم اور انسانیت کا ساتھ دیں۔ قومیں صرف بلند و بالا عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ اپنی بیٹیوں کو تحفظ، تعلیم، عزت اور خواب جینے کا حق دے کر ترقی کرتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے اس سمت میں ایک مثبت اور جرات مندانہ قدم اٹھایا ہے، اب یہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سفر میں حکومت کا ساتھ دے تاکہ ہر بچی محفوظ بچپن، بہتر تعلیم اور روشن مستقبل کا خواب حقیقت میں بدلتے دیکھ سکے۔
کم عمری کی شادیوں کے خلاف قانون، بچیوں کا تحفظ
09:06 AM, 21 May, 2026