یوم نکبہ کے لفظی معنی مصیبت،ظلم کے ہیں کہ جب 1948میں ناجائزصہیونی ریاست اسرائیل کا قیام ہوااورفلسطینی اپنی ہی سرزمین پر بے گھر ہو گئے اور ان پر اپنی ہی زمین تنگ کردی گئی اسرائیل دین کا دشمن ہے ،مسلمانوں کا دشمن ہے انسانیت کا دشمن ہے جب سے اسرائیل قائم ہوا تب سے مسجد اقصٰی کی بے حرمتی شروع ہوئی 78سال سے اسرائیل اسلام کےخلاف سازشوں میں مصروف ہے اور کئی مسلم ممالک اس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں جس سے اسے مزید شہ ملی اور وہ دھڑلے سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں کر رہا ہے یہودیوں کی سازشیں کوئی نئی نہیں یہ صدیوں سے سازشوں میں مصروف ہیں یہ 70سے زائد انبیاءکے قاتل ہیں جناب حضرت محمد کو بھی انہوں نے مدینہ بلایا تاکہ شہید کر دیا جائے پلان یہ تھا کہ پہاڑی کی چوٹی کے نیچے بٹھایاجائے گا اور پیچھے سے پتھر پھینک دیا جائے گا اللہ کے حکم کے مطابق آپ نبی پاک وہاں سے چلے گئے اور یہودیوں کا ناپاک منصوبہ ناکام ہواکعب بن اشرف اورلبیب بن عاصم بھی اسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے یہ وہ قوم ہے کہ حضرت یحیٰ کا سر قلم کردیا گیا حضرت زکریا کو آرے سے چیر دیا گیا یوم نکبہ ہر فلسطینی کے لیے تباہی و بربادی اور قتل وغارت گری کی داستانیں رقم کر رہا ہے شہروں، قصبات اور دیہات میں یہودی اور صہیونی جتھوں نے یوں داستانیںرقم کیں کہ لاکھوں فلسطینی بے گھرہوگئے اس پلان پر مغربی قوتیں اسرائیل کی پشت پناہی کر رہی ہیں اسرائیلی مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی پاداش میں فلسطینی مسجد اقصیٰ میں نمازبھی ادا نہیں کرسکتے اس دن کو منانے کے لیے 15 مئی کا دن مقرر کیا گیا، یہ وہ تاریخ ہے جس پر اسرائیل نے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا برطانیہ اور امریکہ سمیت دیگر ممالک میں بھی بوم نکبہ بھرپورانداز میں منایا جاتا ہے اور عہد کیا جاتا ہے کہ جان دے دبں گے لیکن اپنی دھرتی پر کسی کو قابض نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ہماری جڑیں تمہاری تباہی سے کہیں زیادہ گہری ہیں مظاہرین نے فلسطینی پرچم، سیاہ جھنڈے اور واپسی کی علامت”چابیاں“اٹھائی گئیں،نکبہ محض جبری ہجرت کی یادگار نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو محاصرے اور جبری بے دخلی کی صورت میں ہر روز ایک نئی شکل میں جنم لے رہا ہے دوسری طرف مغرب نے تو آنکھوں پر بے حسی کی پٹی باندھ رکھی لیکن مسلم ممالک بھی کچھ کم نہیں جنہوں غزہ میں نسل کشی پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اوراسرائیل ڈھٹائی سے تمام قاعدے قانون پاﺅں تلے روندھ رہا ہے غزہ میں لاکھوں افراد کو بمباری اور عسکری کارروائیوں کے سائے میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا اس پر امریکہ نے کبھی بھی مذمت کا ایک لفظ نہیں کہا فلسطینی مزاحمت کی ناکامی کی وجہ یہ نہیں کہ قربانیاں دینے والے تھک گئے ہیں اصل وجہ یہ تھی کہ عرب اشرافیہ نے سامراجی قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور وہ یہود کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں عرب قیادت مغربی قوتوں کی طاقت کی وجہ سے مرعوب ہو رہی ہے اور یہی کمزورایمان کی نشانی ہے کیونکہ سیاہی تو بے تیغ لڑتا ہے صہیونیوں کو مسلح کرنے میں برطانیہ امریکہ نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اورغزہ والے آج صلاح الدین کی راہ تک رہے ہیں دنیا بھر کی نمائندہ تنظیمیں اسرائیلی جنگی مشین فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے اور کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں،اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کرمتعدد شہریوں کو حراست لے لیا اور مغرب اس پر بھی لب نہیں کھول رہا، عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کو کارروائیاں جاری رکھنے کی مزید حوصلہ افزائی مل رہی ہے،اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقدار اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اس کے باوجود کہ دنیا نے غزہ میں مظالم پر منہ پھیرلیا ہے ہر طرف ظلم کا بازار گرم ہے لیکن غزہ والے ہمت ہاررہے ہیں نہ صہیونیوں کے سامنے سرنگوں ہوں کیونکہ فلسطینی حق کےلئے جانیں قربان کررہے ہیں دنیا ان کی مدد کرکے یانہ کرے وہ کبھی بھی اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ،یوم نکبہ ان لاکھوں فلسطینیوں کی حالتِ زار کو اجاگر کرتا ہے جو آج بھی اپنے آبائی وطن سے دور ہیں، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کے کیمپوں میں پناہ گزین کی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے وطن واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں،حقِ واپسی کا مطالبہ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد فلسطینی عوام کے تاریخی حقِ واپسی کی توثیق کرنا اور دنیا کو یہ یاد دلانا ہے کہ وہ آج بھی اپنے بنیادی حقوق اور انصاف کے منتظر ہیں یوم نکبہ بھی اسی لئے منایا جاتا ہے کہ دنیا کوپیغام دیا جائے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اور اس کا وجود کبھی بھی تسلیم نہیں کیا جائے گاعرب ممالک کو آنکھیں کھول لینی چاہےے کہ امریکہ اسرائیل اور مغرب ان کا حامی نہیں دشمن ہے اور وہ دین کے دشمن ہیں مسلمانوں کے دشمن ہیں اسی لئے وہ مسلم ممالک میں پھوٹ ڈال کر اپنے مذموم مقاصدکا حصول چاہتے ہیں جو ناممکن ہے کیونکہ ابھی غیرت ایمانی زندہ ہے اور وقت دور نہیں کہ جب باطل مٹ جائے گا اور حق غالب آجائے گا۔
یوم نکبہ....
09:05 AM, 21 May, 2026