اسلام آباد:پاکستان میں رواں سال مون سون سیزن جلد آنے کو ہے، اور یہ جلدی صرف چند دنوں کی بات نہیں بلکہ بڑی بارشوں اور ممکنہ قدرتی چیلنجز کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے ایک بریفنگ میں بتایا کہ مون سون سیزن جون کے آخر میں متوقع ہے، جو معمول سے 3 سے 4 دن پہلے شروع ہو گا۔ اس سال بارشوں میں پانچ فیصد اضافہ متوقع ہے۔ صرف پنجاب میں 388 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، جو ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور درجہ حرارت میں اضافے نے ماہرین کو سیلاب کے خدشات پر مجبور کر دیا ہے۔ چیئرمین نے نشاندہی کی کہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں ممکنہ طغیانی کا خطرہ موجود ہے۔
اجلاس میں چیئرپرسن شیری رحمٰن نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اثرات پر سوال اٹھایا، جس پر این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ ایک تفصیلی اسٹڈی کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ پانی کی ممکنہ قلت یا ماحولیاتی خطرات کو جانچا جا سکے.