یقینا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پنجاب اسمبلی منتخب عوامی نمائندوں کا وہ گھر ہے جہاں صوبے کے گیارہ کروڑ سے زائد سوختہ بال عوام نے انہیں اس اُمید پر اپنے ووٹ کے ذریعے پہنچایا ہے کہ وہ نہ صرف یہاں ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرینگے بلکہ ضروری قانون سازی کر کے انکے حالات بدلنے کی جستجو میں بھی پورا نہ سہی کچھ نہ کچھ تو کردار ادا کرینگے۔ صوبے کے غریب عوام کے ٹیکسوں سے اسمبلی کے اجلاسوں اور اراکین اسمبلی اور عملے کی تنخواہوں پر اربوں روپے کی خطیر رقم اٹھتی ہے۔ لیکن کیا کریں پنجاب اسمبلی ان دنوں اپنے ہی مکینوں کی راہ تکتے تکتے خود تھکی ہاری نظر آتی ہے۔ اسمبلی کے اجلاسوں میں کورم بمشکل پورا ہوتا ہے اور کبھی خوش قسمتی سے پورا ہو بھی جائے تو اراکین اسمبلی کی اجلاسوں میں مجموعی تعداد حوصلہ شکن ہی نظر آتی ہے۔ یہ طرز عمل محض حکومتی بینچوں تک ہی محدود نہیں۔ اس کار خیر میں اپوزیشن اراکین اسمبلی بھی پوری دلجمعی کے ساتھ حصہ بقدر جسہ ڈالتے نظر آتے ہیں۔
الٰہی یہ رنگ کب تک رہے گا ہجر جاناں میں
کہ روزِ بے دلی گزرا تو شامِ انتظار آئی
ایسے میں جہاں تک پنجاب حکومت کے وزراء کا اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کا تعلق ہے تو چھوٹے میاں چھوٹے میاں بڑے میاں سبحان اللہ کے مصداق پنجاب اسمبلی کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ وزراء اپنے ہی منتخب گھر کو اتنا بھی در خور اعتنا نہیں سمجھتے کہ چلیں ہر اجلاس میں نہ سہی کبھی کبھار ہی اپنے چہرۂ ’’پُرنور‘‘ کی زیارت کرا دیں۔ یہ محسوس ہوتا ہے کہ وزرائ ان میں سے بیشتر خود کو اپنی ذات میں وزیر اعلیٰ پنجاب سمجھتے ہیں اور خود کو اس امر سے مبرا سمجھتے ہیں کہ وہ پنجاب اسمبلی کے اجلاسوں میں رونق افروز ہو کر اسمبلی کے در و دیوار کو دیدہ و دل فرش راہ کہنے کا موقع دیں۔ غالباً اب تو پنجاب اسمبلی کے اراکین کو بھی یہ یاد نہیں ہو گا کہ وزارت صحت، وزارت تعلیم، وزارت ماحولیات اور وزارت لیبر سمیت متعدد وزارتوں کے قلمدان کس کے پاس ہیں۔
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان ایک شریف النفس، کشادہ دل اور وضع دار شخص ہیں۔ چند روز قبل وہ بھی اس صورت احوال پر برہم نظر آئے۔ انہوں نے اس معاملے کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو گوش گزار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ماضی میں انہوں نے ہمیشہ پنجاب اسمبلی کو ترجیح اور اولیت دی۔ اگر وہ وزیراعلیٰ کی میٹنگ میں بھی ہوتے اور ایسے میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہوتا تو کارروائی میں شرکت کے لیے وہ اجازت لے کر پنجاب اسمبلی پہنچ جاتے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اسمبلی کی بہت عزت و توقیر ہے ہمیں صوبے کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے یہاں تک پہنچایا ہے تو ہمیں ان کے حقوق کی جدوجہد کے لیے اس اسمبلی کے فورم پر بھرپور سعی کرنی چاہیے۔
سپیکر پنجاب اسمبلی اس حوالے سے بھی قابل ذکر ہیں کہ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران بھارت کو ہر موقع پر بڑا مدلل اور بھرپور جواب دیا۔ وہ اس سارے دور میں بہت سرگرم نظر آئے۔ انہوں نے افواج پاکستان کی کامیابی کو بھی بھرپور طریقے سے منایا۔ اس حوالے سے پنجاب اسمبلی میں ایک خصوصی تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تقریب میں سپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے کیک بھی کاٹا گیا۔ تقریب میں عسکری قیادت کے حق میں زبردست نعرے بازی بھی کی گئی۔
اب کچھ بات نیشنل ویژن تھنک ٹینک کی جس کے قیام کا مقصد پاکستان کو درپیش مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے۔ تھنک ٹینک کی حالیہ میٹنگز میں دہشت گردی، معاشی مسائل، ماحولیات اور بد امنی سمیت متعدد مسائل کے حل کے لیے سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ان میٹنگز کے شرکاء میں معروف صنعت کار شیخ محمد ابراہیم، محمد بلال بٹ، اشرف سہیل، سردار آصف سیال ایڈووکیٹ، حمزہ چودھری، منصور ملک، عامر ملک، ندیم چودھری اور مجاہد شیخ قابل ذکر ہیں۔ بریگیڈیئر (ر) شفیع غازی، ایڈیشنل آئی جی طارق عباس قریشی، ڈی آئی جی انعام وحید، ڈی آئی جی عمران کشور، ایس ایس پی محمد نوید اور ایس پی افتخار بطور گیسٹ آف آنر ان میٹنگ میں شرکت کر چکے ہیں۔ بریگیڈیئر شفیع غازی کا کہنا تھا پاکستانی قوم کو اس وقت بھارت سمیت پاکستان کے دشمنوں کی سازشوں کو سمجھنا ہو گا۔ افواج پاکستان ملک کی آزادی اور دفاع کی ضامن ہیں۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں پاکستانی عوام فوج کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے رہے جس کی بدولت پاکستان نے دشمن کے دانت بھرپور انداز میں کھٹے کیے۔ ایڈیشنل آئی جی پنجاب طارق عباس قریشی کا کہنا تھا کہ پولیس کا نظام بہتر کرنے کے لیے سب سے پہلے انویسٹی گیشن کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا جس کے لیے اسے جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہو گا۔ ڈی آئی جی انعام وحید کا کہنا تھا پولیس میں رویے کی تبدیلی وقت کی اہم ضرورت ہے جو تھانہ کلچر کو تبدیل کیے بغیر ممکن نہیں۔ ڈی آئی جی عمران کشور کا کہنا تھا پولیس حکمرانوں کے لیے نہیں بلکہ عوام کی خدمت کے لیے بنی ہے اس کی تربیت اسی انداز میں کرنا پڑے گی۔ ڈی آئی جی اطہر وحید کے مطابق کسی بھی قوم کی سوچ کا اندازہ اس کے ٹریفک نظام سے لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے جرمانوں میں اضافے کے ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دینا ہوں گی۔ ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس کو مرکزیت کی جانب لے جانا ہو گا جس کے تحت پولیس کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں قائم کر کے اس کے ماتحت پورے ملک کی پولیس کو کرنا ہو گا۔
وزراء کی منتظر اسمبلی
09:40 AM, 21 May, 2025