آپریشن سندور۔ بھارت کیلئے بن گیا ناسور

09:38 AM, 21 May, 2025

معرکہ حق کے دوران پاکستان کی بہادر افواج نے ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ کے ذریعے بھارت کے اندر فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنا کر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ۔ اس کٹھن مرحلہ میں پاکستانی قوم اختلافات بھلا کر جس طرح متحد ہوئی اس نے ثابت کر دیا کہ پوری پاکستانی قوم یکجان اور یک زبان ہو کر پاک افواج کے شانہ بشانہ ہے۔ نریندرامودی کی قیادت میں ہندوتوا کے علمبردار پاکستان کو ترنوالہ سمجھ بیٹھے تھے‘ امید ہے اب ان کی غلط فہمی اچھی طرح دور ہو گئی ہو گی۔ افواجِ پاکستان نے مودی سرکار کا اپنی عسکری اور اقتصادی طاقت کا گھمنڈ خاک میں اور پوری پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ۔ اربوں ڈالر سے خریدا گیا دفاعی نظام S-400 بھی پاکستانی شاہینوں کو بھارت کے اندر جا کر ان کے ایئر فیلڈز کو تباہ کرنے سے روک نہیں سکا جنہیں پاکستان پر میزائل حملوں کیلئے استعمال کیا جا رہا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا بھی افواجِ پاکستان بالخصوص پاک فضائیہ کی برتری کو تسلیم کر رہا ہے۔ اس جنگ کے دوران بھارتی میڈیا کے طرز عمل نے اسے پوری دنیا میں مذاق بنا کر رکھ دیا ۔بھارتی میڈیا نے جس طرح پاکستان کے خلاف فیک نیوز کو دیدہ دلیری سے استعمال کیا ‘ اس سے نہ صرف بین الاقوامی میڈیا میں بھارت کی سبکی ہوئی بلکہ اب خود بھارت کے اندر بھی اس کو تنقید کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کی غلط رپورٹنگ کا اندازہ لگائیں کہ وہاں رپورٹ کیا گیا کہ بھارتی فوج نے لاہور کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا ‘ کراچی شہر کا کنٹرول سنبھال لیا‘ وزیراعظم شہباز شریف انڈر گرائونڈ چلے گئے ہیں اور نجانے کیا کیا فیک نیوز پھیلائی گئیں جس نے بھارتی میڈیا کی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا۔یاد رہے کہ 2019ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونیوالی فضائی جنگ کے دوران اور بعد میں بھارتی حکومت اور میڈیا نے فتح کا وہی بیانیہ دیا جو وہ آج دے رہی ہے لیکن حقائق کبھی چھپے نہیں رہ سکتے اور آج ان کے اپنے سابقہ ملٹری آفیشلز حقائق بیان کر رہے ہیں۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی سے ایک ماہ قبل معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار سوشانت سنگھ کا 2019 ء میں ہوئے پلوامہ حملوں اور بالاکوٹ فضائی آپریشن پر ایک تحقیقی مضمون بھارت کے ایک مؤقر جریدہ میں شائع ہوا ۔ بالاکوٹ پر فضائی حملوں کے بعد بھارتی فضائیہ کی اپنی جائزہ رپورٹس اور متعدد انٹرویوز پر مشتمل اس مضمون میں بتایا گیا کہ نہ صرف انڈین فضائیہ نے ہدف کو مس کیا بلکہ خود اپنے ہی ایک ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا جس میں کئی افسران ہلاک ہوگئے۔ یہ مضمون پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہندوتوا کے پیرو کار سیاسی رہنمائوں کیلئے پاکستان‘ انتخابات جیتنے اور بھارتی عوام کی نفسیات سے کھیلنے کا ایک آزمودہ ہتھیار بن چکا ہے۔ 
 یہاں اسی مضمون کے کچھ حصے قارئین کے سامنے پیش کروں گا تاکہ انہیں اندازہ ہو کہ بھارت آج بھی حقائق سے چشم پوشی کر رہا ہے۔ سوشانت سنگھ ایک انڈین ملٹری افسر رہ چکے اور کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں‘ انہوں نے اس مضمون میں لکھا کہ 2019ء کے حملوں نے بس ایک کارنامہ انجام دیا‘وہ یہ تھا کہ انتخابات سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کیلئے ایک ایسا ماحول بنانے میں مدد دی جس سے وہ دوسری بار عوام میں پولرائزیشن کرنے میں کامیاب ہوئے اور اس کے نتیجہ میں بھاری اکثریت کے ساتھ انتخابات جیت گئے۔ 2019ء میں رونما ہونیوالے واقعہ نے بھارت کی قومی سلامتی کے سٹرکچر کی خامیوں کو اجاگر کردیا۔ گو عوامی طور پر ان حملوں کو بہادری سے تعبیر کیا گیامگر اندرون خانہ اس نے تشویش کی شدید لہر دوڑا دی اور عالمی سطح پر بھی فضائیہ کی کارکردگی کا پول کھل گیا۔سوشانت سنگھ کے مطابق 26 فروری رات کے آخری پہر مدھیہ پردیش کے گوالیار شہر کے فوجی اڈہ سے بھارتی فضائیہ کے 12میراج جہازوں نے اڑان بھری جو اسرائیلی میزائلوں سے لیس تھے۔ منصوبہ تھا کہ چھ میزائل ٹارگٹ پر داغے جائیں گے۔ پانچ طیاروں سے تو میزائل ریلیز ہو گئے مگر چھٹا میزائل طیار ہ سے باہر ہی نہیں آیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ 35برس پرانے میراج طیارہ کے نیوی گیشن سسٹم میں نقص آگیا تھا۔بھارتی میڈیا اور سیاستدانوں نے فصائیہ کی یہ کہہ کر ستائش کی کہ اس نے گھر میں گھس کر مارا یعنی پاکستان کے اندر جاکر بم گرائے مگر حقیقت یہ ہے کہ میزائل چالیس کلومیٹر دور سے ہندوستانی کنٹرول والے علاقے سے ہی داغے گئے۔ تکنیکی طور پر اسرائیلی ساخت کے یہ میزائل عمودی طور پر سیدھے زمین پر نہیں آتے بلکہ ان کو بیضوی راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے لہٰذا ان کو دور سے ہی داغا جانا تھا۔ نئی دہلی میں جشن منایا گیا اور بتایا گیا کہ کئی سو دہشتگرد مارے گئے۔ تاہم سوشانت سنگھ لکھتے ہیں‘سیٹلائٹ ڈیٹا سے پتہ چلا کہ میزائل بالا کوٹ کے پہاڑوں کی طرف گئے مگر وہ ہدف پر گرے اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ گہرے بادلوں کی وجہ سے طیارے اس کی تصویر نہیں لے سکے۔ کسی دوست ملک کے سٹیلائٹ کو بھی ٹارگٹ کی تصویر نہیں مل پائی۔ لہٰذا دنیا بھر کے دفاعی ماہرین بھارتی فضائیہ کی اس کارروائی کی کامیابی کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ۔ امریکہ سمیت تمام مغربی ممالک متفق ہیں کہ میزائل ٹارگٹ سے خاصے دور گرے۔ فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ افسر جو اس مشن میں شامل تھے‘ نے سنگھ کوبتایا کہ انہوں نے اگلے دن دوبارہ حملہ کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر سیاسی قیادت نے سختی کے ساتھ منع کر دیا ۔ جوابی کارروائی کے طور پر پاک فضائیہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اہداف کے قریب چھ فضائی حملے کیے اور بم گراکر پاکستانی طیارے واپس چلے گئے۔ چونکہ یہ کارروائی بہت کم وقت میں کی گئی، اس کا مطلب یہ ہے کہ اہداف پہلے سے طے اور نشاندہی شدہ تھے۔ 
پاکستانی ائیر فورس کے حکام نے ایک ویڈیو بھی ریلیز کی جس میں دکھایا گیا تھاکہ طیاروں نے عسکری تنصیبات پر نشانہ لگایا اور پھر شعوری طور پر قریبی بنجر علاقوں میں بم گرائے تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو۔بھارت نے جوابی کارروائی کی تو اس کا ایک طیارہ گر گیا اور اسکا پائلٹ ابھی نندن پاکستان نے گرفتار کر لیا۔ سوشانت سنگھ کہتے ہیں اس جنگ کے دوران بھارتی فوجی قیادت غیر ذمہ دار اور غیر پیشہ ور نظر آئی‘ جو سیاسی قیادت کی خواہشات کے سامنے کوئی مؤثر مزاحمت نہ کر سکی۔ آخر میں لکھتے ہیں ’ایک سیاسی طور پر کمزور مودی،جو کمزور معیشت سے نبرد آزما ہے کسی بہانے سے ایک بار پھر ملک کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ‘ان کی یہ پیش گوئی ایک ماہ بعد ہی حقیقت کی شکل میں سامنے آگئی۔ہم نے قارئین کے سامنے 2019ء کے حقائق بھی رکھ دیئے جنہیں پڑھ کر اندازہ ہو گیا ہو گاکہ آج بھارتی حکومت اور میڈیا کا وہی جھوٹا بیانیہ ہے جو پانچ برس قبل تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے اور سچ سامنے آ ہی جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا حالیہ آپریشن سندور اس کیلئے ناسور بن گیا ۔

مزیدخبریں