مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے: امریکہ اور اسرائیل کا ایران کی حساس ترین جوہری تنصیب 'نطنز' پر بڑا فضائی حملہ

07:13 PM, 21 Mar, 2026

تہران : دنیا بھر میں ایٹمی تنازع کے خدشات اس وقت حقیقت میں بدلتے نظر آئے جب امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ 'نطنز' کی ایٹمی تنصیب پر فضائی کارروائی کی گئی ہے، جس نے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک بنا دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، نطنز کی جوہری تنصیب کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، تاہم ابتدائی معائنے کے بعد کسی قسم کے تابکاری اثرات (Radiation) کی تردید کی گئی ہے۔ مقامی آبادی کو تاحال کسی خطرے سے آگاہ نہیں کیا گیا، لیکن سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ایران کی جوہری توانائی ایجنسی نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے این پی ٹی (NPT) معاہدے کی سنگین خلاف ورزی اور عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ تہران نے اس معاملے پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو باضابطہ شکایت درج کروا دی ہے، جس پر ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ زمینی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
روس نے اس حملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ حملہ گزشتہ سال جون میں ہونے والی کارروائیوں کا تسلسل دکھائی دیتا ہے جب امریکا نے نطنز، فردو اور اصفہان کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ موجودہ حملے نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو نقطہ عروج پر پہنچا دیا ہے۔

مزیدخبریں