فیصل آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے واضح کیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے ڈھانچے کی تباہی تک فوجی کارروائی جاری رہے گی، افغان سرزمین کا استعمال روکنے کے لیے تمام سفارتی کوششوں کے بعد اب سخت قدم اٹھانا ناگزیر ہو چکا تھا۔
فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے آپریشن کی تازہ صورتحال پر روشنی ڈالی۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن ’غضب للحق‘ کو صرف عید الفطر کے تقدس اور عوامی سہولت کی خاطر عارضی طور پر روکا گیا ہے۔وزیر مملکت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک سرحد پار موجود دہشت گردی کا نیٹ ورک مکمل ختم نہیں ہو جاتا، یہ آپریشن جاری رہے گا۔
طلال چودھری نے افغان حکام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہادوحہ معاہدے میں وعدہ کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن ہماری مساجد، امام بارگاہیں، بازار اور معصوم بچے مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان نے افغان طالبان سے سیاسی، سفارتی اور فوجی ہر سطح پر طویل بات چیت کی، لیکن جب تمام راستے بند ہو گئے تو وہ قدم اٹھانا پڑا جس سے ہم پہلے گریز کر رہے تھے۔
وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور ہمیشہ امتِ مسلمہ کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان ہمسایہ ممالک کو ہدایت دے جہاں سے دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے، اور دعاگو ہیں کہ مسلم دنیا کو درپیش بحرانوں کا بہترین راستہ نکل سکے۔
دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے: طلال چودھری
12:45 PM, 21 Mar, 2026