واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے پیشِ نظر، امریکا نے ایران کے خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد اپنی پابندیوں کو 30 دن کے لیے عارضی طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ کے سکریٹری سکاٹ بیسینٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ عارضی اجازت صرف اس تیل کے لیے ہے جو پہلے ہی بحری جہازوں کے ذریعے ترسیل کے عمل میں ہے۔ انہوں نے صراحت کی کہ اس رعایت کا اطلاق کسی نئے آرڈر یا خریداری پر نہیں ہوگا، بلکہ اس کا مقصد صرف عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والے تعطل کو دور کرنا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے ان بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا جنہیں وہ امریکا اور اسرائیل سے منسلک سمجھتا ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی اور عالمی منڈی میں قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں۔ ماہرین کے مطابق، امریکا نے عالمی معیشت کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے یہ تزویراتی (Strategic) قدم اٹھایا ہے۔
دوسری جانب، برطانیہ نے ایران پر حملوں کے لیے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی منظوری دے دی ہے، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں اپنی فوجی کارروائیاں کم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ 30 دن کی یہ مہلت ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اس وقت توانائی کے تحفظ اور معاشی استحکام کو اپنی ترجیح بنا رہا ہے۔
عالمی معیشت کو بڑا ریلیف: امریکہ کا ایرانی پٹرولیم مصنوعات پر پابندیاں 30 دن کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ
10:37 AM, 21 Mar, 2026