سیالکوٹ : وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے عید الفطر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والی افغان حکومت کے ساتھ فی الوقت صرف عید کی مناسبت سے سیز فائر کیا گیا ہے، تاہم دہشت گردوں کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔
خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہونا ابھی باقی ہے اور یہ جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم جو عید کی خوشیاں منا رہے ہیں، یہ ہمارے شہداء اور غازیوں کی مرہونِ منت ہے، جنہوں نے اپنے لہو سے امن کی آبیاری کی۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ خوشی کے ان لمحات میں شہداء کے خاندانوں کو یاد رکھنا ہمارا اولین فرض ہے۔
وزیرِ دفاع نے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تفرقہ بازی کا فائدہ صرف اسلام دشمن قوتوں کو پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ عید کے اس موقع پر غزہ اور سوڈان کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھا جائے اور دعا کی کہ عرب ممالک کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پائیں تاکہ دشمن کی سازشیں ناکام ہوں۔
وزیرِ دفاع کے مطابق، افغانستان میں جاری کارروائیاں (آپریشن غضب الحق) عید کے احترام میں عارضی طور پر روکی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور عید کے فوراً بعد شرپسند عناصر کے خلاف کارروائیاں دوبارہ اسی عزم کے ساتھ شروع ہوں گی۔
’شہداء کی قربانیوں سے ہم جیت رہے ہیں‘: وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا عید پر افغان سرحدوں پر عارضی سیز فائر کا انکشاف
10:02 AM, 21 Mar, 2026