سی ایس ایس کی مشکلات ، اصلاحات اور زیادتیاں

09:17 AM, 22 Mar, 2025

پاکستان کی یوتھ کو عمران خان نے اپنے سحر میں مبتلا کیا ہوا ہے ، وہ اندھا دھند ان کی دیوانی ہے ، اس کے باوجود کہ انہوں نے اپنے اقتدار کے پونے چار برسوں میں نوجوانوں کے لئے کچھ نہیں کیا ، سب سے زیادہ ضرورت نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کی تھی ، اس معاملے میں ان کا کردار صفر رہا ، پڑھے لکھے نوجوان آہستہ آہستہ ان سے دور ہورہے تھے مگر جنرل باجوے نے اچانک ان کی حکومت ختم کرنے کا جو کارنامہ کیا اس کے بعد نوجوان ایک بار پھر ان سے جڑ گئے ،عمران خان کے اقتدار کے غیر آئینی خاتمے نے ان کی مقبولیت میں اتنا اضافہ کر دیا اب ان کے بدترین دشمن بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں اس وقت وہ پاکستان کے سب سے مقبول سیاستدان ہیں ، باقی سارے ان کے مقابلے میں بونے ہیں ، پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نوجوانوں کے دل جیتنے کے لئے کوشاں ہیں مگر تاحال کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ، مرکز میں نوجوانوں کے دل جیتنے کے لئے یا انہیں عمران خان کے سحر سے باہر نکالنے کے لئے کوشاں بھی کوئی نہیں ہے ، وہاں رانا مشہود نامی ایک شخص کو یوتھ کے کسی پروگرام کا چیئرمین بنایا گیا ہے ، جو شخص اپنے گھر کے نوجوانوں کے دل جیتنے کا اہل نہیں اسے پورے پاکستان کے نوجوانوں کے دل جیتنے کی ذمہ دادی سونپی ہوئی ہے، اس وقت حکومت کی جو نااہلیاں ہیں خصوصاً فارم سنتالیس کے تحت جبری کامیابی کا جو تاثر اس سے جڑاہوا ہے ان حالات میں نوجوانوں کے دل جیتنا ناممکن دکھائی دیتا ہے لیکن اگر وزیراعظم شہباز شریف اپنی روایتی فنکاریوں سے ذرا پرے ہٹ کے عملی طور پر سامنے آئیں اور سنجیدہ کوششیں کریں نوجوانوں کی محبت اور حمایت حاصل کرنا ناممکن شاید نہیں رہے گا ، اس کے لئے پہل وہ اس طرح کر سکتے ہیں اس وقت پورے پاکستان کے انتہائی پڑھے لکھے نوجوان سی ایس ایس کے امتحان کو لے کر بہت پریشان ہیں ، ان کی پریشانی یا تشویش بالکل جائز ہے ، یہ بات میں اس لئے کہہ رہاہوں گزشتہ ہفتے پاکستان کے چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والا ایک نمائندہ وفد مجھ سے ملا ، ہماری دو بیٹیاں بھی اس وفد میں شامل تھیں ، ا±نہوں نے اپنے مسئلے پر جس طرح تفصیل سے مجھے بریف کیا مجھے بہت دکھ ہوا کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کسی فورم پر کیوں نہیں کیا جارہا ؟ اس کی بڑی وجہ جو مجھے سمجھ میں آئی ان کا مدمقابل بہت طاقتور ہے، وہ عدالتوں پر بھی حاوی ہے ، کچھ قابل حل ٹیکنیکل پرابلمز بھی شایدہوں مگر اس نے شاید اسے اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہواہے ، ان پڑھے لکھے نوجوانوں نے اپنے جائز مسئلے کے حل کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر ہر دروازے سے کوئی نہ کوئی ایسا ا±لو نکلا جس نے ان نوجوانوں کے مو¿قف کو سمجھنا تو بعد کی بات ہے صحیح طرح س±ننا بھی گوارا نہیں کیا ، چنانچہ اب یہ پڑھے لکھے نوجوان اس ڈیپریشن کا شکار ہیں پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ نہیں بچا ا±ن کے ساتھ یا کسی کے ساتھ بھی کوئی ظلم ناانصافی یا زیادتی ہو جائے وہ اس کا ازالہ کرسکے ، ان پڑھے لکھے نوجوانوں کا مسئلہ یہ ہے 2024ءمیں سی ایس ایس کا رزلٹ اناو¿نس کئے بغیر ان سے 2025ءمیں سی ایس ایس کا امتخان لے لیا گیا ہے ، پاکستان کی تاریخ میں یہ کارنامہ شاید پہلی بار ہوا ہے ، یوں محسوس ہوتا ہے فیڈرل پبلک سروس کا نظام بھی شاید چیف الیکشن کمشنر راجا سکندر سلطان کے سپرد بلکہ ”سپرد خاک“ کر دیا گیا ہے کہ جیسی من مرضیاں یا شرپسندیاں آپ کے جی میں آئیں آپ کریں ، پاکستان کے ان انتہائی پڑھے لکھے نوجوانوں کا یہ شکوہ بہت جائز ہے کہ 2024ءکا سی ایس ایس کا رزلٹ اناو¿نس کئے بغیر 2025ءکا امتخان لینے سے ا±نہیں یہ پتہ ہی نہیں چلا کس مضمون میں ان کی پوزیشن کمزور تھی جس کی روشنی میں وہ یا مضمون بدل لیتے یا اس مضمون میں زیادہ محنت کرکے کامیابی حاصل کر لیتے ، جس طرح کے نااہل لوگ محض اپنی ناجائز طاقت کے زور پر بیٹھے ہیں مجھے یقین ہے 2025ءکا رزلٹ بھی اناو¿نس نہیں ہوگا اور 2026ءکا امتحان لے لیا جائے گا ، بیشمار ایسے نااہل لوگوں کو مختلف اداروں کا سربراہ بنا دیا جاتاہے جنہیں ا±س ادارے کی الف ب کا پتہ نہیں ہوتا ، یہ کوئی جواز ہے جو بےچارے ان سینکڑوں پڑھے لکھے نوجوانوں کے سامنے رکھا گیا ہے کہ ”کام زیادہ ہونے کی وجہ سے 2024ءکا سی ایس ایس کا رزلٹ ابھی تک اناونس نہیں کیا جاسکا ؟“ دوسرے الفاظ میں یہ تو اپنی نااہلی کا اعتراف کیا جا رہا ہے ، کیا ضروری ہے ایسے نااہل لوگوں کو ادارہ مکمل طور پر تباہ ہونے تک کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے ؟ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا سربراہ کسی ایسے نیک نام ریٹائرڈ سینئر سول بیوروکریٹ کو ہونا چاہئے جس نے اپنے زمانے میں سی ایس ایس کے امتحان میں ٹاپ کیا ہو یا کم ازکم بہترین پوزیشن حاصل کی ہو ، پاکستان میں مردوں کو زندہ لوگوں پر حکمرانی کا حق جب تک ملتا رہے گا اس ملک کے کسی شعبے میں ترقی نہیں ہوگی ، پاکستان میں آج کل بڑے بڑے غیر آئینی کام ہو رہے ہیں اسی بہاو¿ میں ایک کام یہ بھی کر لیا جائے سی ایس ایس کا باقاعدہ امتحان ختم کر کے ارکان پارلیمنٹ یا ا±ن کے اصل مالکان کی ایک کمیٹی بنا دی جائے جو اپنی ”اہلیت“ کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرے کون کون سا امیدوار کامیابی کا اہل ہے کون کون سا نہیں ہے ؟ اس کے بعد تمام اہل امیدواروں کو مسترد کر کے ان کی جگہ اپنے بھتیجے بھانجوں دامادوں اور بیٹوں وغیرہ کو سلیکٹ کر لیا جائے ، اور اس کے لئے جواز یہ تراشا جائے جو کسی حد تک درست سمجھا جائے گا کہ یہ جو سی ایس ایس کر کے بڑے بڑے عہدوں پر اب تک بیٹھے رہے ہیں انہوں نے کون سے ایسے کارنامے کر لئے ہیں جن کی بدولت پاکستان ترقی کے لحاظ سے د±نیا میں منفرد مقام پر کھڑا ہے ؟ اگر پاکستان کی مکمل بربادی کروانی ہے تو وہ سیاسی لوگ ، ان کے مالکان اور ان کے بھتیجے بھانجے داماد اور بچے وغیرہ زیادہ بہتر انداز میں کر سکتے ہیں ، میرے خیال میں اس ضمن میں کام شروع ہوگیا ہے ، سی ایس ایس اصلاحات کے لئے حکومت نے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی ہے ، احسن اقبال اگر اپنے انتہائی پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے واقعی درد دل رکھتے ہیں انہیں بطور خاص سی ایس ایس کے امیدواروں کی عمر بڑھانے پر غور کرنا ہوگا میرے نزدیک عمر کی کم سے کم حد پینتیس برس ہونی چاہئے ، اور تین چانسز کے بجائے پانچ چانسز ہونے چاہئیں ، اس کی تفصیلی وجوہات میں اپنے اگلے کالم میں عرض کروں گا ، سب سے زیادہ ضروری یہ ہے پڑھے لکھے نوجوانوں سے مسلسل مشاورت کے بعد ہی تجاویز کو حتمی شکل دی جائے ، وزیراعظم شہباز شریف یا ان کے مالک اگر اپنے نوجوانوں خصوصاًپڑھے لکھے نوجوانوں کے دل جیتنا چاہتے ہیں ایسے ہی منہ چک کے مختلف یونیورسٹیوں میں اپنے نمائندوں کو بھجوا کر ذلیل کروانے کے بجائے ، پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے عملی طور پر کچھ ایسا کریں جس سے انہیں یقین ہوجائے ریاست ان کے لئے حقیقی معنوں میں فکرمند ہے اور کچھ کرنا چاہتی ہے ، اس ضمن میں سب سے اہم کردار موجودہ سیاسی حکمران ہی ادا کر سکتے ہیں ، ”ساہڈی اے گل ہوگئی اے کے آسرے پر کب تک اپنی گل وہ بنائے رکھیں گے ؟“

مزیدخبریں