فتح مکہ کی اذان اور آقاﷺ کی عنایات

09:12 AM, 22 Mar, 2025

فتح مکہ کے دن حضرت بلالؓ کو خانہ کعبہ کی چھت پر سے اذان دینے کا حکم ملا۔ بلال حبشیؓ آج دوسری مرتبہ جد الانبیاءابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے اس مرکز توحید کی بلندیوں سے اللہ وحدہ لا شریک کی کبریائی اور سیّد الکونین حضرت محمد مصطفےٰ کی رسالت کی شہادت دینے والے تھے۔ بلالؓ باب ملتزم کے ساتھ چھت سے لٹکے ہوئے رسوں کے سہارے کعبے کی دیوار پر چڑھتے ہوئے چھت پر پہنچے اور اذان دینے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ نیچے لوگوں کا جم غفیر تھا، دور دور تک جہاں جہاں نگاہ پہنچتی تھی لوگ ہی لوگ تھے مکے کی شکل سامنے میز پر رکھے ہوئے پیالے جیسی ہے بیچ میں خانہ کعبہ اور چاروں طرف پیالے کی دیواروں کی طرح اوپر جاتا ہوا پہاڑی سلسلہ جس پر شہر آباد ہے۔
صحن کعبہ تو بھرا ہوا تھا ہی چاروں طرف پہاڑیوں کی بلندیوں پر بھی لوگ جمع تھے۔ حضرت بلالؓ نے اذان شروع کی، نیچے کھڑے ہجوم کا شور تھم گیا۔ دوسری تکبیر کہی تو مکمل سکوت طاری ہو گیا۔ اذان کے الفاظ، سامنے پہاڑوں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس آ رہے تھے۔ معلوم ہوتا تھا تمام کائنات توصیف ربانی، شہادت رسالت اور دعوت صلوٰة میں شریک ہے وہ حریم قدس جسے اسلام کے معمار اول حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا، ہزاروں سال بت کدہ رہنے کے بعد آج پھر ایک حبشی غلام کے نغمہ توحید سے گونج رہا تھا۔ یہ اذان اسلامی انقلاب کی کامیابی کا اعلان تھی۔
کئی نوجوان اس سارے منظر کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ ساری زندگی اس شہر کے عروج، توقیر، تقدیس کی داستانیں سنتے رہے تھے، اُس کا فتح ہو کر کسی اور کے قبضے میں چلے جانا اُن کی فہم سے باہر تھا۔ وہ اس واقعے کے محرکات سے تو کچھ حد تک آشنا تھے مگر اس انقلاب کی تاریخی، تہذیبی اور سماجی اہمیت کا اُنہیں کوئی اندازہ نہیں تھا، نہ وہ یہ سمجھ پا رہے تھے کہ یہ بدلا ہوا ماحول اُن کی آئندہ زندگی پر کیا اثرات مرتب کرے گا۔ یہ بے فکرے، بڑوں سے ہٹ کر، چاہ زمزم کے نزدیک اپنا الگ پرا جمائے بیٹھے تھے۔ عتاب نامی نوجوان نے پاس بیٹھے اپنے ایک مشرک ساتھی سے کہا شکر ہے آج میرا باپ زندہ نہیں ہے ورنہ وہ برداشت نہ کر سکتا کہ کعبے کی چھت پر ایک حمار سیاہ یوں رینگے۔
دنیا ہر قسم کے انسانوں سے مل کر بنی ہے اور اللہ جل شانہ ¾ جس کو جب چاہے ہدایت سے سرفراز کر دے۔ اس ٹولے سے کسی نے ازراہ تمسخر اذان کی نقل اتارنے کی کوشش کی۔ نہایت دھیمی آواز میں، جسے چند لوگوں نے سنا اور بات آئی گئی ہو گئی چند ساعتوں بعد اسی ٹولے سے کسی اور نے اذان کی نقل کی۔ اسے بھی زیادہ لوگوں نے نہیں سنا اور جنہوں نے سنا بھی وہ ماحول کی سنجیدگی کی وجہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ چند لمحے گزرے کہ اسی جماعت کے کسی اور لا ابالی نوجوان نے یہی صورت دہرائی مگر تینوں آوازیں انتہائی مدھم تھیں۔ اذان ختم ہوتے ہی حضور اکرم نے اعلان فرمایا کہ وہ جس نے سب سے پہلے بلال کی اذان کی نقل کی تھی سامنے آئے۔ حاضرین میں کھلبلی مچ گئی۔ ہر شخص پریشاں کہ اب کیا ہو گا۔ اتنے میں ایک پندرہ سولہ سالہ نوجوان چاہ زمزم کی سمت سے ملتزم کی طرف، راستہ بناتا ہوا، آتا دکھائی دیا۔ پاس آیا تو حضرت عمرؓ نے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے لوگوں کی صفوں سے باہر نکال کر، باب ملتزم کے پاس، حضور کے سامنے لے آئے۔ بہت سوں کو اس کی نو عمری پر ترس آیا۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد حضور زیر لب مسکراتے ہوئے اس نوجوان کی طرف بڑھے اور انتہائی شفقت سے کہا کہ وہ بلال کی اذان کی نقل دوبارہ سنائے۔ نوجوان کچھ دیر نظریں جھکائے کھڑا رہا۔ پھر اس نے حاضرین کی سمت دیکھا اور خالق کائنات کی تکبیر اور رسالت کی شہادت کے کلمات اپنی بھر پور آواز میں ادا کیے اور خوش الہانی اور اعتماد کے ساتھ کہ تمام حاضرین دم بخود رہ گئے۔ اکثر کے منہ سے بے ساختہ سبحان اللہ اور جزاک اللہ کے الفا ظ نکلے۔ خود نبی کریم نے تعریف کی اور اسے ایک تھیلی درہم انعام میں دیئے، اس کے سر پیشانی اور سینے پر دست مبارک پھیرا۔ نوجوان کا شرح صدر ہوا، تو بقول اس کے اسے ایسا لگاجیسے کسی نے منوں بوجھ اس سے اتار پھینکا ہے اس نے باآواز بلند سب کے سامنے کلمہ شہادت پڑھا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ حضور اکرم نے اسے دعا دی اور اس سولہ سالہ نوجوان کو تا حیات بیت عتیق کا موذن مقرر کر دیا۔ ہم اس نوجواں کو ابو محذورہ جمحی کے نام سے جانتے ہیں۔
ابو محذورہؓ واپس اپنی صفوں کی طرف جانے لگے تو ان صفوں سے ایک اور آواز ابھری۔ یا محمد! میں عتاب بن اسید ہوں ، آپ کا مشہور دشمن۔ یہ کہتے ہی اس بیس سالہ نوجوان نے نہایت بلند آواز سے کلمہ شہادت ادا کیا۔ حضور نے بھرے مجمع میں اپنے منہ سے ازخود دشمن سے ایمان کی شہادت سنی اشھدان لا الہ الا اللّٰہ و اشھدان محمد رسول اللّٰہ سنی تو فوراً اعلان فرمایا: میں تمہیں مکے کا امیر مقرر کرتا ہوں۔ ساتھ ہی دینی تعلیم کے لیے انہوں نے معاذؓ بن جبل کو ان کے ساتھ مامور کر دیا۔ عتابؓ بن اسید کا مشاہرہ ایک درہم یومیہ مقرر ہوا۔ اس سال فریضہ حج انہی کی قیادت میں ادا ہوا۔ ایک لمحے پہلے کا دشمن دیں، اسلام کے مفتوحہ شہر کامطلق العنان والی بن گیا۔
ایک لمحے پہلے کا غیر سنجیدہ ، شریر نوجواں کائنات کی سب سے محترم عبادت گاہ کا موذن مقرر ہو گیا۔ یہ تھا عفوودرگزر کا وہ سبق جو ہادی برحق نے دنیاوی اور مادی مصلحتوں میں جکڑی ہوئی انسانیت کو سکھایا۔ پھر عتابؓ اور ابو محذورہؓ ہی کیا، محسن انسانیت کی رحمت بے پایاں کا نفسیاتی اثر یہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے پورا علاقہ ایمان کی روشنی سے منور ہو گیا۔ حضرت بلال بن رباحؓ کی اذان، آقا کا عفو و درگزر اور عنایات، سبحان اللہ۔

مزیدخبریں